ایران ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کب تک بند رکھ سکے گا؟
وقت اشاعت 1 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 1 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے پرتشدد جرائم کی تعداد گزشتہ برس 2016ء کے بعد سے سب سے زیادہ
- غزہ فلوٹیلا کے اسرائیل کی طرف سے روکے جانے کے بعد سینکڑوں کارکن یونانی جزیرے کریٹے پر اتر گئے
- ترکی میں پولیس کی یوم مئی کے موقع پر ریلیوں کے شرکاء پر آنسو گیس شیلنگ، درجنوں افراد گرفتار
- ایران اپنے خلاف بحری ناکہ بندی اور امریکی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کب تک بند رکھ سکے گا؟
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے پرتشدد جرائم کی تعداد گزشتہ برس 2016ء کے بعد سے سب سے زیادہ
جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے کیے جانے والے پرتشدد جرائم کی سالانہ تعداد گزشتہ برس 2016ء کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعہ یکم مئی کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ 2025ء کے دوران ملک میں رائٹ ونگ سے جڑے محرکات کے سبب کیے جانے والے پرتشدد جرائم کی سالانہ تعداد اتنی رہی، جتنی 2016ء کے بعد سے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔
جرمن پارٹی اے ایف ڈی کو انتہا پسند قرار دینے سے متعلق عبوری عدالتی فیصلہ
یہ بات جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں بنڈس ٹاگ میں بائیں بازو کی جماعت لیفٹ پارٹی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے ایوان میں دیے گئے جواب میں بتائی گئی۔
جرمنی: اے ایف ڈی کو پارٹیز ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر 1.1 ملین یورو کا جرمانہ
ایسے جرائم کی سالانہ تعداد 1600 کے قریب
وفاقی جرمن حکومت کی طرف سے پارلیمان کو دیے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ جرمنی کے تمام 16 وفاقی صوبوں میں 2025ء کے دوران جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی ادارے بی کے اے کی مختلف مقامی شاخوں کے پاس مجموعی طور پر 1,598 ایسے پرتشدد جرائم کی رپورٹیں درج کرائی گئیں، جن کے مصدقہ یا مبینہ محرکات کا تعلق دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ سے تھا۔
جرمن پارلیمان میں ہٹلر سیلوٹ: اے ایف ڈی کے رکن پر فرد جرم عائد
ان رپورٹوں کے بعد فیڈرل کریمینل آفس کی طرف سے مشتبہ جسمانی نقصان یا شدید نوعیت کا مشتبہ جسمانی نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت چھان بین شروع کر دی گئی۔
بنڈس ٹاگ میں دیے گئے اس حکومتی جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2025ء میں ایسے جرائم کی تعداد 1,598 رہنے کے مقابلے میں ایک سال قبل 2024ء میں یہی تعداد 1,488 رہی تھی جبکہ 2023ء میں یہ تعداد 1,270 ریکارڈ کی گئی تھی۔
جرمنی میں سیاسی محرکات کے سبب جرائم میں تیزی سے اضافہ
جرمن خفیہ ایجنسی نے اے ایف ڈی کو ’انتہا پسند‘ تنظیم قرار دے دیا
یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں ایسے جرائم کی گزشتہ برس کے دوران مجموعی تعداد کے لحاظ سے یہ بات بھی اہم ہے کہ 2025ء میں ایسے رائٹ ونگ کرائمز کی تعداد 2016ء کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
غزہ فلوٹیلا کے اسرائیل کی طرف سے روکے جانے کے بعد سینکڑوں کارکن یونانی جزیرے کریٹے پر اتر گئے
غزہ پٹی کے لیے امداد لے کر جانے والے ایک بحری قافلے کے اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی سمندری پانیوں میں روکے جانے کے بعد اس فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر سوار بیسیوں سرگرم امدادی کارکن جمعہ یکم مئی کے روز یونانی جزیرے کریٹے پر اس فلوٹیلا سے اتر گئے۔
ایران جنگ کے سبب غزہ کا تنازعہ بین الاقوامی توجہ سے اوجھل
یونانی دارالحکومت ایتھنز سے ملنے والی رپورٹوں میں ملکی کوسٹ گارڈز کے حوالے سے جنگ سے تباہ شدہ غزہ پٹی کے لیے بہت سی کشتیوں میں امداد لے کر جانے والے اس قافلے میں شامل کارکنوں کے کریٹے کے جزیرے پر اتر جانے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
یونانی کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ وہ اس فلوٹیلا میں شامل افراد کو اپنی حفاظت میں کریٹے کی جزیرے تک لائے اور ان کی تعداد تقریباﹰ 175 تھی۔
’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس آج، شہباز شریف بھی شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے
ویسٹ بینک میں زمینوں کے اندراج کا معاملہ، اسرائیلی فیصلے پر شدید رد عمل
ان میں سے اکثریت مختلف یورپی ممالک کے شہریوں کی تھی اور ان افراد کو کریٹے کے جنوب مشرق میں ایتھیرینولاکوس تک پہنچانے کے لیے چار بسوں میں سوار کرایا گیا، جس دوران وہ ’’فلسطین کو آزا دکرو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس غزہ ایڈ فلوٹیلا کے منتظمین نے اس قافلے میں شامل کارکنوں کی تعداد 211 بتائی ہے۔
فلوٹیلا کا سفر مختلف یورپی ممالک سے شروع ہوا تھا
کل جمعرات کے روز اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی تھی کہ اس فلوٹیلا میں شامل 20 سے زائد کشتیوں پر سوار تقریباﹰ 175 افراد کو سمندر میں ان کشتیوں سے اتار کر عارضی طور پر تحویل میں لے لیا گیا تھا۔
اسرائیلی توسیع منصوبہ: یورپی یونین اور مسلم ممالک کی مذمت
یہ امدادی قافلہ مجموعی طور پر 50 سے زائد امدادی کشتیوں ہر مشتمل تھا، جس نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پٹی کی طرف اپنا سفر مختلف یورپی ممالک سے تقریباﹰ بیک وقت شروع کیا تھا۔
یہ کشتیاں غزہ کی طرف سفر پر فرانس میں مارسے کے شہر، اسپین میں بارسلونا سے اور اٹلی میں سیراکوز سے روانہ ہوئی تھیں۔
غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی برآمد
اسی دوران اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہا کہ اس فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر سوار اور کھلے سمندر میں روکے گئے دو کے سوا باقی تمام افراد اب واپس یونان پہنچ گئے ہیں۔
ترکی میں پولیس کی یوم مئی کے موقع پر ریلیوں کے شرکاء پر آنسو گیس کی شیلنگ، درجنوں افراد گرفتار
ترکی میں جمعہ یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نکالی گئی ریلیوں کے شرکاء پر پولیس کی طرف سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس شیلنگ اور اس دوران گرفتاریوں کو نیوز ایجنسی اے ایف پی کے کئی صحافیوں نے ذاتی طور پر دیکھا۔
بھارتی ریاست اتر پردیش میں تنخواہوں کے خلاف احتجاج کے بعد مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ
یوم مئی کے موقع پر جلوسوں اور ریلیوں کے دوران ترکی کے دو براعظموں میں واقع شہر استنبول کے یورپی حصے میں خاص طور پر مظاہرین کے دو ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جو مارچ کرتے ہوئے شہر کے تقسیم اسکوائر کی طرف جانا چاہتے تھے۔
استنبول شہر کا یہ علاقہ ماضی میں کئی مرتبہ بڑے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے اور اس مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اسے یوم مئی کے موقع پر ریلیوں کے پیش نظر جمعرات 30 اپریل کی رات ہی سربمہر کر دیا تھا۔
دنیا میں اب بھی 138 ملین بچے مزدوری کرنے پر مجبور، اقوام متحدہ
ترک میڈیا، جس میں اپوزیشن کی حامی نیوز ویب سائٹس بھی شامل ہیں، کے مطابق پولیس نے جمعے کے روز کی گئی کارروائیوں میں کم از کم 57 افراد کو گرفتار کر لیا۔
یکم مئی دنیا بھر میں ہر سال مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اسے یوم مئی بھی کہتے ہیں۔ اس روز دنیا بھر کے ممالک میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جن کے واضح سیاسی پہلو بھی ہوتے ہیں۔
گزشتہ برس بھی یوم مئی کے موقع پر ترکی کے شہر استنبول میں کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے دوران 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ایران اپنے خلاف بحری ناکہ بندی اور امریکی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کب تک بند رکھ سکے گا؟
امریکہ کی کوشش ہے کہ بحری ناکہ بندی اور مسلسل دھمکیوں کے ساتھ تہران کو آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دینے پر مجبور کر دیا جائے۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایران یہ آبنائے کب تک بند رکھ سکے گا؟
اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں ان دنوں توسیع شدہ مدت والی فائر بندی پر عمل درآمد جاری ہے اور تہران نے گزشتہ کئی ہفتوں سے توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو معمول کی کمرشل شپنگ کے لیے بند کر رکھا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
امریکہ کی مسلسل کوشش ہے کہ تہران کو مجبور کیا جائے کہ وہ کلیدی اہمیت کا حامل یہ تنگ سمندری تجارتی راستہ جلد از جلد دوبارہ کھول دے۔ اس مقصد کے لیے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینے کے لیے امریکہ نے اپنی بحریہ کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کی طرف سے ایران کو کی جانے والی تنبیہات بھی جاری ہیں اور اسے دی جانے والی دھمکیاں بھی۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے اخراج کا فیصلہ
ایران کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ پہلے امریکہ اس کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ صدر ٹرمپ اس پر تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ ایسے میں مذاکرات کی سطح پر کسی نئی اور فوری پیش رفت کی امید اس لیے کم ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین کی جانے والی سفارتی کوششیں نہ صرف اب تک بے نتیجہ رہی ہیں بلکہ اس وقت تعطل کا شکار بھی ہیں۔
ایسے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش کب تک جاری رکھ سکتا ہے اور امریکہ کے پاس کمرشل کارگو شپنگ کے لیے اس بہت اہم سمندری راستے کو کھلوانے کے لیے ممکنہ راستے کون سے ہیں؟
ایران جنگ عالمی تجارت پر کووڈ وبا سے زیادہ اثر انداز ہوگی؟
جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہ بظاہر کسی لچک پر آمادہ نہیں اور کل جمعرات کے روز ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام اور ملکی میزائل پروگرام کی ہر حال میں ایران کے قومی اثاثوں کے طور پر حفاظت کی جائے گی۔
دوسری طرف امریکہ ایران کو زیر کرنے کی اپنی کوششوں میں دو کام کر سکتا ہے: یا تو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی جائے، یا پھر ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی جائے۔
یہ درست ہے کہ ایران اپنے خلاف امریکی بحریہ کی طرف سے ناکہ بندی کے اثرات کا اب تک سامنا تو کر رہا ہے، تاہم اسے اس وجہ سے پیدا شدہ تجارتی اور اقتصادی مسائل کا بھی پوری شدت سے سامنا ہے اور وہ ابھی تک اپنے موجودہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔
لیکن اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے، تو اس تنازعے میں اب تک کی سفارتی مذاکراتی کوششوں اور فائر بندی دونوں سے حاصل شدہ نتائج ضائع ہو جائیں گے۔
ایران کے پاس دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع ہے، امریکی وزیر دفاع
ان حالات میں آبنائے ہرمز کو کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ کب تک کھولا جا سکے گا، اور کسی مذاکراتی ڈیل کے نتیجے میں ایران جنگ عملاﹰ کب تک ختم ہو سکے گی، یہ سوال جتنا واضح ہے، اس کا ممکنہ جوب اتنا ہی غیر واضح ہے۔
(مصنفہ: شبنم فان ہائن)
ادارت: جاوید اختر