آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
وقت اشاعت 30 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 30 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جرمنی اپنے ہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ واڈے فیہول
- جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا ’گلا گھونٹ‘ رہی ہے، انٹونیو گوٹیرش کی تنبیہ
- آسٹرین مخلوط حکومت پٹرول کی قیمتوں سے متعلق فیصلے کی مدت میں توسیع پر متفق نہ ہو سکی
- یورپی مرکزی بینک کا ایران جنگ کے سبب افراط زر میں اضافے کے باوجود شرح سود نہ بڑھانے کا فیصلہ
- ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی حفاظت کرے گا، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا پیغام
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں ’ممکنہ کمی‘ کی دھمکی
- آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک نئے بین الاقوامی اتحاد کی قیام کی کوشش میں، میڈیا رپورٹیں
جرمنی اپنے ہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے لیے تیار ہے، وزیر خارجہ واڈے فیہول
جرمنی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کسی بھی ممکنہ کمی کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی کو دھمکی دے دی تھی کہ امریکہ اس یورپی ملک میں فرائض کی انجام دہی کے لیے تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی پر غور کر رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے برلن حکومت کو عسکری نوعیت کی یہ دھمکی جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے اس حالیہ بیان کے بعد دی تھی کہ ایران جنگ میں ایران کی قیادت اپنے مذاکراتی رویوں سے امریکہ کے لیے ’’سبکی‘‘ کا باعث بن رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
جرمن چانسلر فریڈرش میرس کا یہ بیان سفارتی سطح پر حسب منطق امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کو پسند نہیں آیا تھا، جس کے بعد ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی پر غور کر رہی ہے اور اس سلسلے میں فیصلہ جلد ہی کر لیا جائے گا۔
اس پس منظر میں وفاقی جرمن و زیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے اپنے دورہ مراکش کے دوران جمعرات کے روز کہا کہ برلن کے لیے ’’قابل اعتماد ٹرانس اٹلانٹک پارٹنرشپ‘‘ کی بہت زیادہ اہمیت ہے، لیکن ساتھ ہی واشنگٹن حکومت اگر جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کی خواہش مند ہے، تو جرمنی اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب عراق سے جرمن فوجی دستوں کی عارضی منتقلی
واڈے فیہول نے کہا، ’’اگر امریکہ ایسا کرتا ہے، تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ ہم نیٹو کے دائرہ کار میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس بارے میں مشاورت کر رہے ہیں۔ اگر امریکہ نے ایسا کیا، تو وہ نیٹو کی سطح پر ہمارے ساتھ اور دیگر پارٹنرز کے ساتھ بات چیت کے بعد ہی ایسا کرے گا، اور یہی ایک دوسرے کے حلیف ممالک کے مابین مناسب عمل ہے۔‘‘
جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ بات اہم ہے کہ وفاقی جمہوریہ جرمنی میں امریکی فوجی اتنی بڑی تعداد میں تعینات ہیں کہ جتنے یورپ کے کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ہیں۔
جرمنی اور برطانیہ کا روسی عسکری تیاریوں پر مشترکہ انتباہ
امریکی محکمہ دفاع کے افرادی قوت سے متعلق ڈیٹا سینٹر کے مطابق گزشتہ برس دسمبر میں جرمنی میں تعینات حاضر سروس امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 36,000 سے زائد بنتی تھی۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کا ’گلا گھونٹ‘ رہی ہے، انٹونیو گوٹیرش کی تنبیہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے کی مسلسل بندش عالمی معیشت کا ’گلا گھونٹ‘ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
نیو یارک میں اس عالمی ادارے کے صدر دفاتر سے جمعرات 30 اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے کہا کہ ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں تہران نے کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کو جیسے بند کر رکھا ہے، اس کے عالمی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مسلسل طول پکڑتے جا رہے ہیں۔
ساتھ ہی اس عالمی ادارے کے سربراہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبنائے دنیا بھر کو توانائی کے ذرائع کی ترسیل میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی مسلسل بندش سے پیدا شدہ موجودہ صورت حال عالمی اقتصادیات کا ’گلا گھونٹ‘ رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے اخراج سعودی عرب کے لیے دھچکا؟
ایران جنگ عالمی تجارت پر کووڈ وبا سے زیادہ اثر انداز ہوگی؟
انٹونیو گوٹیرش کے الفاظ میں، ’’انٹرنیشنل کمرشل شپنگ کے لیے انتہائی اہم یہ سمندری تجارتی راستہ آج ہی اگر دوبارہ مکمل طور پر کھول بھی دیا جائے، تو بھی اس کی بندش کے باعث گلوبل سپلائی چین کو ہونے والے نقصانات کے تدارک میں کئی ماہ لگیں گے۔‘‘
گوٹیرش نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھول دیے جانے کے بعد بھی توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اور کم اقتصادی پیداوار کا عرصہ دونوں مزید کئی مہینوں تک جاری رہیں گے۔
امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششیں جاری
ایران جنگ سے پہلے دنیا بھر کو تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباﹰ پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر ہی عالمی منڈیوں تک پہنچتا تھا۔
آسٹریا میں حکمران جماعتیں پٹرول کی قیمتوں سے متعلق فیصلے کی مدت میں توسیع پر متفق نہ ہو سکیں
یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ ملک آسٹریا میں حکمران تینوں سیاسی جماعتوں کے مابین جمعرات 30 اپریل کے روز اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا کہ آیا ایران جنگ کے اقتصادی اثرات کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اضافے کو محدود رکھنے کے حکومتی فیصلے کی مدت میں توسیع کر دی جانا چاہیے۔
یورپ کے کئی ممالک میں بے بی فوڈ زہر آلود، بھتہ خوری کا شبہ
آسٹرین دارالحکومت ویانا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو اس کی انتہائی حالت میں صارفین تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اس لیے ایندھن کی زیادہ سے زیادہ فی لیٹر قیمتوں کی ایک حد ایک ماہ قبل متعارف کرائی گئی تھی۔
آسٹریا میں اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی کا قانون منظور
تاہم ملکی نیوز ایجنسیوں کے مطابق اب وفاقی مخلوط حکومت میں شامل تینوں جماعتوں کے مابین اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا کہ آیا اس ’’پٹرول پرائس بریک‘‘ کی مدت بڑھا دی جانا چاہیے۔
اٹلی کا پہلی بار یورپی یونین کے کسی رکن ملک کے خلاف مقدمہ
اس سلسلے میں اپنے گزشتہ فیصلے میں ویانا حکومت نے ملک میں پٹرول کی خریداری پر فی لٹر اد اکیے جانے والے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کی شرح اور ایندھن بیچنے والے اداروں کے فی لٹر منافع کی سطح دونوں کم کر دی تھیں۔
اس ’پٹرول پرائس بریک‘ کے تحت معدنی ایندھن کی فی لٹر قیمت میں شامل وی اے ٹی کی شرح میں پانچ یورو سینٹ کی محدود کمی کر دی گئی تھی۔
دنیا کے قدیم ترین اخبار کی کاغذ پر اشاعت بند کرنے کا فیصلہ
ملکی صارفین کے لیے پٹرول کی خریداری کے وقت اس محدود ٹیکس چھوٹ کی موجودہ مدت کل جمعہ یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
یورپی مرکزی بینک کا ایران جنگ کے سبب افراط زر میں اضافے کے باوجود شرح سود نہ بڑھانے کا فیصلہ
یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی یورو کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) نے ایران جنگ کے باعث یورو زون میں افراط زر کی شرح میں اضافے کے باوجود جمعرات 30 اپریل کو اس بلاک کے لیے اپنی مرکزی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک ’نئے اتحاد‘ کا خواہاں
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں، جہاں یورپی مرکزی بینک کے صدر دفاتر ہیں، اس یورپی مالیاتی ادارے نے آج فیصلہ کیا کہ اس کی طرف سے مقرر کردہ مرکزی شرح سود بغیر کسی تبدیلی کے فی الحال دو فیصد ہی رہے گی۔
یورپی مالیاتی فیصلوں میں ای سی بی کا کردار
یورو زون کا یہ مرکزی بینک مشترکہ کرنسی یورو سے متعلق اپنی مالیاتی سیاست کو اسی مرکزی شرح سود کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے۔
یورپ کی مالیاتی منڈیوں میں اس فیصلے کے بعد اب یہ امید کی جانے لگی ہے کہ افراط زر کی شرح میں ایران جنگ کے اثرات کے نتیجے میں اضافے کے باوجود اگر شرح سود تبدیل نہیں کی گئی، تو یہ بینک افراط زر کی یہی شرح اور زیادہ ہو جانے کی صورت میں جون میں اپنی طے کردہ مرکزی شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
یورپی یونین کی طاقت ور ترین مالیاتی شخصیت اب کرسٹین لاگارڈ
متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے اخراج سعودی عرب کے لیے دھچکا؟
ایران جنگ کے اقتصادی اور مالیاتی اثرات کے نتیجے میں یورپی یونین اور اس کے یورو زون میں افراط زر کی شرح بڑھ کر تین فیصد ہو چکی ہے، حالانکہ مالیاتی استحکام کے لیے اس بلاک میں افراط زر کی شرح کو دو فیصد یا اس سے بھی کم رکھنے کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے۔
جعلی نوٹ ’سونگھ‘ لینے والی خفیہ یورپی بینک لیبارٹری
اپنے اس فیصلے کے ساتھ یورپی مرکزی بینک نے جمعرات کے روز یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں یورپی یونین کے لیے اقتصادی خطرات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔
ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کی حفاظت کرے گا، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا نیا پیغام
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات 30 اپریل کے روز اپنے ایک نئے تحریری پیغام میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ’’جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں‘‘ کی قومی اثاثوں کے طور پر حفاظت کرے گا۔
تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی سپریم لیڈر کا یہ بیان سیاسی طور پر ایک ایسی سخت لکیر کھینچ دینے کے مترادف ہے، جس کے ساتھ یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایرانامریکہ کے ساتھ اپنے امن مذاکرات میں کن معاملات میں کس لچک دار سمجھوتے پر تیار ہو سکتا ہے اور کن پر ممکنہ طور پر نہیں۔
ایران میں داخلی کشمکش، جنگ بندی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا یہ نیا بیان ایسے وقت پر دیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی ایسی جنگ بندی ڈیل طے پا جائے، جس کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں اس فائر بندی کو مستقل شکل دی جا سکے، جس پر اس کی گزشتہ مدت میں غیر معینہ توسیع کے بعد سے اب تک عمل درآمد جاری ہے۔
حملوں کے باوجود مزاحمت جاری رہے گی، مجتبیٰ خامنہ ای
سرکاری ٹیلی وژن سے پڑھ کر سنایا گیا بیان
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا جو نیا تحریری بیان جمعرات کے روز جاری کیا، وہ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر اینکر کی طرف پڑھ کر سنایا گیا۔ اس بیان میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے وہی لہجہ اپنایا، جو سپریم لیڈر بننے کے بعد سے ان کے گزشتہ بیانات میں بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔
ایران پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے بین الاقوامی قانون کے منافی؟
اپنے ایسے بیانات میں مجتبیٰ خامنہ ای اب تک ایسی سخت باتیں کہہ چکے ہیں کہ جیسے ’’خلیج فارس میں امریکیوں کے لیے واحد جگہ اس سمندری خطے کے پانیوں کی تہہ میں ہے‘‘ اور یہ کہ ایران جنگ میں اس علاقے کی تاریخ کا ’’ایک نیا باب‘‘ رقم کیا جا رہا ہے۔
’چوغے کے پیچھے اصل طاقت‘ قرار دیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای کتنے بااثر ہیں؟
ایران کے ساتھ کوئی بھی ڈیل صرف ’غیر مشروط‘ ہتھیار ڈالنے پر، ٹرمپ
دوسری طرف ایرانی سپریم لیڈر کا یہ تازہ بیان ایک ایسے وقت پر بھی سامنے آیا ہے، جب امریکی بحریہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد سے ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات مزید بہت کم ہو چکی ہیں، جن سے ہونے والی آمدنی کی ایران کی پہلے ہی سے شدید مسائل کا شکار معیشت کو اشد ضرورت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں ’ممکنہ کمی‘ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان کی انتظامیہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں ’ممکنہ کمی‘ پر غور کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ دھمکی اس واقعے کے محض چند ہی روز بعد دی گئی، جس میں وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے ایران جنگ کے پس منظر میں کہا تھا کہ ایرانی قیادت کے ہاتھوں امریکہ کو ’’سبکی‘‘ کا سامنا ہے۔
ڈینش امریکی اختلاف رائے: کئی یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع
اس پس منظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، اور وہ ایک بڑی فوجی موجودگی ہے، تاہم امریکہ جلد ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ آیا وہ جرمنی میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں کوئی کمی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل نامی پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں عالمی وقت کے مطابق بدھ کی رات لکھا، ’’امریکہ جرمنی میں اپنے دستوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بارے میں فیصلہ کچھ ہی وقت بعد کر لیا جائے گا۔‘‘
داعش کے ہزاروں قیدی شام سے عراق منتقل کر دیے، امریکی فوج
پاکستان اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مصروف
جرمن چانسلر میرس نے ایران جنگ سے متعلق اپنا جو بیان اسی ہفتے دیا تھا، اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایرانی ’’مذاکرات کرنے میں بہت باہنر ہیں، یا یہ کہہ لیں کہ مذاکرات نہ کرنے میں بہت باہنر ہیں، وہ اس طرح کہ پہلے امریکی نمائندے بات چیت کے لیے اسلام آباد جائیں اور پھر وہ بغیر کسی نتیجے کے ہی واپس بھی چلے جائیں۔‘‘
اپنے اس بیان میں جرمن چانسلر میرس نے کہا تھا کہ ایرانی قیادت کے ہاتھوں امریکہ کی ’’سبکی‘‘ ہو رہی ہے۔
جرمنی میں امریکی دستوں کی تعداد یورپ مں سب سے زیادہ
جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ بات اہم ہے کہ وفاقی جمہوریہ جرمنی میں امریکی فوجی اتنی بڑی تعداد میں تعینات ہیں کہ جتنے یورپ کے کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
یورپی یونین کی خود انحصاری: قبرص سمٹ میں ’عملی پلان‘ پر غور
امریکی محکمہ دفاع کے افرادی قوت سے متعلق ڈیٹا سینٹر کے مطابق گزشتہ برس دسمبر میں جرمنی میں تعینات حاضر سروس امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 36,000 سے زائد بنتی تھی۔
اس تعداد میں جنوب مغربی جرمنی میں رامشٹائن کے فضائی اڈے پر تعینات امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جرمنی میں رامشٹائن ایئر بیس امریکی فضائیہ کے سمندر پار قائم کردہ فضائی اڈوں میں سے سب سے بڑی قرار دی جاتی ہے۔
یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر
یورپ میں امریکہ نے اپنے مجموعی طور پر سات فوجی اڈے یا چھاؤنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان میں سے پانچ جرمنی میں ہیں۔ جرمنی کے بعد براعظم یورپ میں امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد جن دو دیگر ممالک میں تعینات ہے، وہ برطانیہ اور اٹلی ہیں۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایک نئے بین الاقوامی اتحاد کی قیام کی کوشش میں، میڈیا رپورٹیں
امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایران جنگ میں تہران کی طرف سے کئی ہفتوں سے بند کردہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھلوانے کی خاطر ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے اخراج کا فیصلہ
امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعرات 30 اپریل کو ملنے والے مراسلوں میں امریکہ ہی کے کئی میڈیا اداروں کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی اگرچہ جاری ہے، تاہم تہران کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں امریکی امن مذاکرات کے تعطل کا شکار ہو جانے کے بعد واشنگٹن حکومت اب ایک ایسے نئے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے زور لگا رہی ہے، جو خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم سمندری راستے کو کمرشل شپنگ کے لیے دوبارہ کھلوانے میں مدد دے سکے۔
مثال کے طور پر امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت کاروں کو ایک ایسی داخلی کیبل بھیجی ہے، جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ممالک میں جہاں وہ تعینات ہیں، حکومتوں کو اس امر کا قائل کریں کہ وہ ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ (Maritime Freedom Construct) میں شامل ہو جائیں۔
گالا ڈنر شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی اہلکار
ایران جنگ عالمی تجارت پر کووڈ وبا سے زیادہ اثر انداز ہوگی؟
ٹرمپ انتظامیہ کی سوچ کے مطابق یہ ’کنسٹرکٹ‘ ایک ایسے ’اتحاد‘ کے طور پر کام کرے گا، جس کی ایک بلاک کی حیثیت سے قیادت امریکہ کے پاس ہو گی اور یہ بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی سفارتی کوششوں کو مربوط بناتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کو بھی زیادہ مؤثر بنائے گا۔
صدر ٹرمپ کا اس اتحاد سے متعلق بالواسطہ اشارہ
دنیا بھر کو تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباﹰ پانچواں حصہ آبنائے ہرمز ہی سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے اور اس تنگ سمندری راستے کی ایران کی طرف سے مسلسل بندش کے باعث نہ صرف عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ سبھی ممالک میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
ایران نے آبنائے ہرمز کو معمول کی بین الاقوامی تجاری جہاز رانی کے لیے بند کر دینے کا قدم اپنے خلاف اس جنگ کی وجہ سے اٹھایا تھا، جس کا آغاز ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ ہوا تھا۔
اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں امریکی اتحادیوں سے اس اہم سمندری تجارتی راستے کو کھلوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’یہ شروع سے ہی ایک مربوط اجتماعی کوشش ہونا چاہیے تھی۔‘‘
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس کیبل میں مبینہ طور پر بیرون ملک امریکی سفارت کاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا گیا ہے، ’’(اس عمل میں) آپ کی شرکت ہماری اس مقصد کے لیے اجتماعی اہلیت کو مضبوط بنائے گی کہ آزادانہ تجارتی جہاز رانی کو بحال کرایا اور عالمی معیشت کا تحفظ کیا جا سکے۔‘‘
ایران کے پاس دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع ہے، امریکی وزیر دفاع
امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششیں جاری
ایران جنگ میں امریکہ کی مدد نہ کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ مغربی دفاعی تنظیم نیٹو پر کئی مرتبہ شدید تنقید کر چکے اور یہ دھمکیاں بھی دے چکے ہیں کہ امریکہ اس 77 برس پرانے مغربی دفاعی اتحاد سے نکل بھی سکتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر