1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گالا ڈنر شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی اہلکار

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 26 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 26 اپریل 2026

امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کے مطابق واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کرنے والے ملزم کا ممکنہ ہدف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے۔

https://p.dw.com/p/5CpoP
واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس پریس گالا ڈنر کے دوران شوٹنگ کے بعد تقریب کے کئی مہمان اور مختلف سکیورٹی اداروں کے متعدد مسلح اہلکار
واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس پریس گالا ڈنر کے دوران شوٹنگ کے بعد تقریب کے کئی مہمان اور مختلف سکیورٹی اداروں کے متعدد مسلح اہلکارتصویر: Jonathan Ernst/REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے ڈنر میں شوٹنگ کرنے والے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی اہلکار
  • جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری
  • کیئر اسٹارمر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت، آبنائے ہرمز کھولنے کی اشد ضرورت پر زور
  • نیا عالمی ریکارڈ: کینیا کے ایتھلیٹ سباستیان ساوے نے لندن میراتھن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیت لی
  • تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے لیے 27 ممالک میں رائے دہی، چین کی طرف سے شدید مذمت
  • ٹرمپ کے ایلچیوں کی آمد کی منسوخی کے بعد پاکستان امن مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کی کوشش میں
  • ایرانی وزیر خارجہ کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات، عراقچی آج پھر واپس پاکستان پہنچیں گے
  • نئی دہلی میں سوئس انٹرنیشنل کی فلائٹ کو ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا، پانچ مسافر زخمی
  • اس شوٹنگ کا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
  • ہلٹن ہوٹل میں شوٹنگ کا متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ملزم سیاسی طور پر کس طرح کی سوچ کا حامل؟
  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ مگر صدر ٹرمپ محفوظ رہے، ملزم گرفتار
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، اعلیٰ امریکی اہلکار سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 26 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 26 اپریل 2026

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، اعلیٰ امریکی اہلکار

شوٹنگ کا مشتبہ ملزم موقع پر ہی حراست میں لیے جانے کے بعد، اس کے ہاتھ سکیورٹی کے پیش نظر کمر پر بندھے ہوئے ہیں
شوٹنگ کا مشتبہ ملزم موقع پر ہی حراست میں لیے جانے کے بعد، اس کے ہاتھ سکیورٹی کے پیش نظر کمر پر بندھے ہوئے ہیں

امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کے مطابق واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کرنے والے ملزم کا ممکنہ ہدف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر کے موقع پر ہفتہ 25 اپریل کی رات شوٹنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ مشتبہ امریکی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کول ایلن کو پیر کے روز ایک عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ شوٹنگ کے واقعے کے چند گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے لیے آتے ہوئے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ شوٹنگ کے واقعے کے چند گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے لیے آتے ہوئےتصویر: Jose Luis Magana/AP Photo/picture alliance

ہلٹن ہوٹل شوٹنگ کے بارے میں امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے عالمی وقت کے مطابق اتوار کی سہ پہر بتایا کہ ملزم ایلن کے بارے میں دستیاب حقائق کی بنیاد پر یہ شبہات قوی ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

ٹوڈ بلانش نے این بی سی نیوز کو بتایا، ’’بظاہر یہ ملزم ان لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، جو ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ ہیں اور ان میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ ملزم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جو آتشیں ہتھیار لے کر ہوٹل میں آیا تھا، اس نے وہ گزشتہ چند برسوں کے دوران خریدے تھے۔‘‘

فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی گالا ڈنر کے شرکاء میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا
فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی گالا ڈنر کے شرکاء میں خوف و ہراس پھیل گیا تھاتصویر: Jessica Koscielniak/REUTERS

قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم جو اس وقت حکام کی حراست میں ہے اور جس سے پوچھ گچھ جاری ہے، تفتیشی اہلکاروں کے ساتھ ’’پورا تعاون نہیں کر رہا۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Cr5A
جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری

لبنانی صوبے نبطیہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد آسمان کی طرف اٹھنے والے دھوئیں کے سیاہ بادل، اتوار 26 اپریل کو لی گئی ایک تصویر
لبنانی صوبے نبطیہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد آسمان کی طرف اٹھنے والے دھوئیں کے سیاہ بادل، اتوار 26 اپریل کو لی گئی ایک تصویرتصویر: AFP

لبنان جنگ میں فائر بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور ایران نواز حزب اللہ کے ایک دوسرے پر خونریز حملے جاری ہیں۔ ایسے تازہ حملوں میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق سات افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہو گئے۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

اسرائیل میں تل ابیب اور لبنان میں بیروت سے اتوار 26 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں ہونے والی فائر بندی کے خلاف ورزیوں اور فریقین کے ایک دوسرے پر مسلح حملوں میں کم از کم  سات افراد مارے گئے جبکہ 24 دیگر زخمی ہو گئے۔

ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اتوار کے روز اسرائیلی زمینی دستوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی اس ملیشیا کی طرف سے کہا گیا کہ ان حملوں کے ساتھ شروع ہو جانے والی لڑائی میں متعدد افراد مارے گئے۔

اسرائیل اور لبنان میں دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق، ٹرمپ

جنوبی لبنان میں اسرائیل کے زمینی فوجی دستے اور ان کی ایک سڑک سے گزرتی گاڑیاں، اتوار 26 اپریل کو لی گئی ایک تصویر
جنوبی لبنان میں اسرائیل کے زمینی فوجی دستے اور ان کی ایک سڑک سے گزرتی گاڑیاں، اتوار 26 اپریل کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Shir Torem/REUTERS

تاہم حزب اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ اتوار کے دن اس کے حملوں کے بعد ہونے والی لڑائی میں اس کے اپنے کتنے جنگجو یا کتنے اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔

جنگ کے باعث لبنان میں اب تک ڈھائی ہزار سے زیادہ ہلاکتیں

اسرائیل اور لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے مابین جنگ میں، جسے لبنان جنگ کہا جاتا ہے حالانکہ لبنانی ریاست یا مسلح افواج کا اس سے کوئی تعلق نہیں، 17 اپریل کو فائر بندی طے پائی تھی اور اصولی طور پر یہ سیزفائر اب تک جاری ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے کافی زیادہ زمینی فوجی دستے بھیج رکھے ہیں، جو سیزفائر کے باوجود وہاں سے ابھی تک واپس نہیں گئے، بلکہ وہاں اپنی وہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق مقصد اسرائیل کی قومی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے درمیانی علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔

ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں

لبنانی دارالحکومت بیروت کی ایئر پورٹ روڈ پر ایک عمارت کے اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے لمحے کی 31 مارچ کو لی گئی ایک تصویر
لبنانی دارالحکومت بیروت کی ایئر پورٹ روڈ پر ایک عمارت کے اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے لمحے کی 31 مارچ کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Hussein Malla/AP Photo/picture alliance

لبنانی حکومت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین موجودہ جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 2,500 افراد ہلاک اور 7,700 زخمی ہو چکے ہیں۔

مرنے اور زخمی ہونے والوں دونوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟

اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے دن اپنی کابینہ کے ایک ہفتہ وار اجلاس کے دوران الزام لگایا کہ حزب اللہ کی کارروائیاں لبنان جنگ میں طے شدہ فائر بندی پر عمل درآمد میں ’’خلاف ورزیوں اور انہدام‘‘ کا باعث بن رہی ہیں۔

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5Cqxn
کیئر اسٹارمر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت، آبنائے ہرمز کھولنے کی اشد ضرورت پر زور سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

کیئر اسٹارمر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت، آبنائے ہرمز کھولنے کی اشد ضرورت پر زور

امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر غزہ پٹی سے متعلق امن سمٹ کے موقع پر گزشتہ برس اکتوبر میں لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر، مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر غزہ پٹی سے متعلق امن سمٹ کے موقع پر گزشتہ برس اکتوبر میں لی گئی ایک تصویر تصویر: Evan Vucci/AP Photo/picture alliance

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار 26 اپریل کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں ایران جنگ کی وجہ سے تاحال بند آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا۔

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن

لندن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولا جانا ناگزیر ہے۔

دنیا بھر کے لیے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ خلیج فارس میں اسی تنگ سمندری راستے سے ہو کر بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے

اسٹارمر اور ٹرمپ: برطانوی امریکی تعلقات میں کچھاؤ کی ایک علامتی تصویر
ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر امریکہ اور برطانیہ کے مابین ان دنوں حکومتی سطح پر کافی اختلافات بھی پائے جاتے ہیںتصویر: DW

ترجمان نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’دونوں رہنماؤں نے اس امر کی فوری ضرورت کے بارے میں آپس میں گفتگو کی کہ آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ آزادانہ طور پر بحال ہونا چاہیے، کیونکہ اس آبنائے کی ایران کی طرف سے بندش کے باعث عالمی معیشت اور برطانوی سمیت دنیا بھر کے انسانوں کے لیے شدید اقتصادی اور مالی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔‘‘

یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر

کیئر اسٹارمر کی سرکاری رہائش گاہ کے ترجمان نے اپنے  بیان میں مزید کہا، ’’وزیر اعظم اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کی طرف سے مل کر شروع کردہ کوششیں اب تک کہاں تک پہنچی ہیں۔‘‘

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

https://p.dw.com/p/5CqvB
نیا عالمی ریکارڈ: کینیا کے ایتھلیٹ سباستیان ساوے نے لندن میراتھن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیت لی سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

نیا عالمی ریکارڈ: کینیا کے ایتھلیٹ سباستیان ساوے نے لندن میراتھن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیت لی

امسالہ لندن میراتھن کے فاتح اور نیا عالمی ریکارڈ بنانے والے کینیا کے 29 سالہ ایتھلیٹ سباستیان ساوے
امسالہ لندن میراتھن کے فاتح اور نیا عالمی ریکارڈ بنانے والے کینیا کے 29 سالہ ایتھلیٹ سباستیان ساوےتصویر: John Walton/PA Wire/empics/picture alliance

کینیا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ایتھلیٹ سباستیان ساوے انسانی تاریخ کے ایسے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے لندن میراتھن دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں جیت لی۔

چینی روبوٹس انسانوں سے ہاف میراتھن ریس ہار گئے

لندن میراتھن کا فاصلہ 26.2 میل یا 42.195 کلومیٹر بنتا ہے اور ساوے نے اتوار 26 اپریل کے روز یہ فاصلہ ایک گھنٹے 59 منٹ اور 30 سیکنڈ میں طے کر لیا۔

ان سے قبل کسی میراتھن کے سب سے تیز رفتار فاتح کا اعزاز انہی کے ہم وطن اور کینیا کے ایتھلیٹ کیلون کپٹم نے 2023ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں قائم کیا تھا۔ انہوں نے یہ ریس دو گھنٹے صفر منٹ اور 35 سیکنڈ میں جیتی تھی اور تب وہ بھی ایک نیا عالمی ریکارڈ تھا۔

میراتھن عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلون کیپٹم سڑک حادثے میں ہلاک

سباستیان ساوے سے پہلے کسی میراتھن کے سب سے تیز رفتار فاتح کا اعزاز انہی کے ہم وطن ایتھلیٹ کیلون کپٹم نے 2023ء میں امریکی شہر شکاگو (تصویر) میں قائم کیا تھا
سباستیان ساوے سے پہلے کسی میراتھن کے سب سے تیز رفتار فاتح کا اعزاز انہی کے ہم وطن ایتھلیٹ کیلون کپٹم نے 2023ء میں امریکی شہر شکاگو (تصویر) میں قائم کیا تھاتصویر: KAMIL KRZACZYNSKI/AFP/Getty Images

اولمپک چیمپیئن نے میراتھن کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا

ماضی میں کسی میراتھن کو دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیتنا ناممکن تصور کیا جاتا تھا، لیکن ساوے نے اس سال ایسا کر دکھایا۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت میں امسالہ لندن میراتھن میں انہوں نے نہ صرف ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، بلکہ ساتھ ہی اپنا وہ اعزاز بھی برقرار رکھا، جو انہوں نے پچھلی مرتبہ لندن میراتھن جیت کر اپنے نام کر لیا تھا۔

https://p.dw.com/p/5Cqty
تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے لیے 27 ممالک میں رائے دہی کا عمل، چین کی طرف سے مذمت سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے لیے 27 ممالک میں رائے دہی کا عمل، چین کی طرف سے مذمت

نئی دہلی میں ایک تبتی خاتون ووٹنگ کے لیے بیلٹ باکس لے کر جاتے ہوئے، دیوار پر لکھا نعرہ ہے: تبت کو آزاد کرو
نئی دہلی میں ایک تبتی خاتون ووٹنگ کے لیے بیلٹ باکس لے کر جاتے ہوئے، دیوار پر لکھا نعرہ ہے: تبت کو آزاد کروتصویر: Ritesh Shukla/Getty Images

تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے آج اتوار 26 اپریل کو کئی ممالک میں رائے دہی ہو رہی ہے، جس کی بیجنگ میں چینی حکومت نے شدید مذمت کی ہے۔

دلائی لاما کو 130 برس سے زائد کی عمر تک زندہ رہنے کی امید

اس ووٹنگ میں ایسے تمام تبتی باشندے حصہ لے رہے ہیں، جو چین کے کنٹرول میں اپنے آبائی علاقے تبت سے باہر دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔ اس انتخابی عمل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اپنی نئی جلاوطن حکومت کا انتخاب کے ساتھ تبتی باشندوں کو اب خود کو مستقبل کے لیے بتدریج تیار کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آئندہ اپنے روحانی پیشوا دلائی لاما کے بغیر اپنی جدوجہد کیسے جاری رکھیں گے۔

دلائی لاما اب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تبتی باشندوں کو خود کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہیے۔

نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے تبتی باشندے دنیا کے 27  ممالک میں ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں، نئی دہلی میں لی گئی ایک تصویر
نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے تبتی باشندے دنیا کے 27  ممالک میں ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیںتصویر: Ritesh Shukla/Getty Images

بھارت میں قائم مرکزی تبتی انتظامیہ

تبتی باشندوں کی جلاوطن حکومت بھارت میں قائم ہے، جہاں نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل دلائی لاما چین سے فرار ہو کر پناہ گزین ہو گئے تھے۔

’لامہ‘ جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا، دلائی لامہ

یہ جلاوطن حکومت مرکزی تبتی انتظامیہ کہلاتی ہے، لیکن چین کی طرف سے اس انتظامیہ کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’محض ایک علیحدگی پسند سیاسی گروپ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔

دلائی لاما کی طرف سے سیاسی اختیارات کی منتقلی

تبت کی یہ جلاوطن حکومت تبت سے باہر مقیم تبتی باشندوں کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ایک ادارہ ہے، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ 2011ء میں دلائی لاما نے اپنے تمام تر سیاسی اختیارات اس مرکزی انتظامیہ کو منتقل کر دیے تھے۔

’بدھ مت کا تبتی نظریہ میرے بعد بھی برقرار رہے گا‘، دلائی لامہ

دلائی لاما جن کی عمر اس وقت قریب 91 برس ہے
دلائی لاما جن کی عمر اس وقت قریب 91 برس ہےتصویر: Looks

اتوار کے روز ہونے والے جلاوطن حکومتی انتخابات میں حصہ لینے والے ایک 19 سالہ تبتی باشندے تینزین تسیرنگ نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں بائلاکُپے کے مقام پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمارے ووٹ بہت اہم ہیں، میں پہلی بار ووٹ ڈال رہا ہوں۔ اس حکومت میں جلاوطن تبتیوں کی نوجوان نسل کو زیادہ نمائندگی حاصل ہونا چاہیے۔‘‘

دلائی لاما کی کتاب ’وائس فار دی وائس لیس‘ کی اشاعت، چین برہم

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں بائلاکُپے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ہمالیہ کے پہاڑی خطے سے باہر تبتی باشندوں کی سب سے بڑی برادریاں آباد ہیں۔

نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے تبتی باشندے دنیا کے 27  ممالک میں ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان ممالک میں چین شامل نہیں ہے۔

دلائی لامہ کی جانشینی کا معاملہ سنگین کیوں ہو گیا؟

https://p.dw.com/p/5CqoG
ٹرمپ کے ایلچیوں کی آمد کی منسوخی کے بعد پاکستان امن مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کی کوشش میں سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

ٹرمپ کے ایلچیوں کی آمد کی منسوخی کے بعد پاکستان امن مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کی کوشش میں

اسلام آباد میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کے بارے میں ایک بہت بڑا ہورڈنگ: پہلے دور کے بعد مکالمت کا دوسرا دور اب تک ممکن نہیں ہو سکا
اسلام آباد میں امریکی ایرانی امن مذاکرات کے بارے میں ایک بہت بڑا ہورڈنگ: پہلے دور کے بعد مکالمت کا دوسرا دور اب تک ممکن نہیں ہو سکاتصویر: Wang Shen/Xinhua/dpa/picture alliance

ایران جنگ میں واشنگٹن اور تہران کے مابین امن مذاکرات کے لیے ثالثی کرنے والے ملک پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اب اسلام آباد سے شروع ہونے والی مکالمت کو ناکامی سے بچانے کی کاوشوں میں ہے اور اس نے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔

ایرانی وفد کی واپسی کے بعد امریکی وفد کی پاکستان آمد بھی منسوخ

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے فضائی حملوں کے ساتھ جس ایران جنگ کا آغاز ہوا تھا، اس میں قریب ڈھائی ہفتے قبل جو فائر بندی طے پائی تھی، اس کے فوری بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی قرار دیے جانے والے براہ راست امن مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، جو بے نتیجہ رہا تھا۔

اس کے بعد سے اب تک پاکستانی قیادت اس بات چیت کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے، تاہم اب تک یہ دوسری مکالمت ممکن نہیں ہو سکی۔ اب اپنی ثالثی کوششوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے پاکستان نے کسی باقاعدہ جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈے وینس، گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں لی گئی ایک تصویر
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈے وینس، گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Pakistan's Prime Minister Office/AFP

یہ بات دو ایسے اعلیٰ پاکستانی اہلکاروں نے اتوار 26 اپریل کے روز نیوز ایجنسی روئٹرز کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔ ان دونوں پاکستانی عہدیداروں کو میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

ان دونوں پاکستانی عہدیداروں نے کہا کہ کل ہفتے کے روز ایرانی وفد کے امریکی مذاکراتی مندوبین کی آمد سے پہلے ہی پاکستان سے روانہ ہو جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا دورہ فی الحال لیکن عین آخری وقت پر منسوخ کر دیا تھا۔

پاکستانی امن کوششیں: صرف اچھی شہرت یا اثر دیرپا ترقی پر بھی؟

اس وجہ سے اب پاکستان پر یہ دباؤ ہے کہ وہ اپنی ان سفارتی کوششوں کو مکمل ناکام ہونے سے بچا لے، جن کے وجہ سے قریب دو ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندے گزشتہ تقریباﹰ پانچ دہائیوں میں پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر آپس میں براہ راست مذاکرات کرنے لگے تھے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں لی گئی ایک تصویر
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Pakistan's Prime Minister Office/REUTERS

بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے

تہران اور واشنگٹن کے مابین امن مذاکرات کا دوسرا دور اسی ہفتے متوقع تھا، لیکن پھر جنگی فریقین کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی، اختلافی امور اور اشتعال انگیز بیان بازی اس مکالمت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے تھے۔

اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا موجودہ دورہ عمان بھی بہت اہم ہے، جس کی سرحدیں خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز سے ملتی ہیں اور جو ماضی میں اپنے طور پر ایران اور امریکہ کے مابین تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے کئی ادوار کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔

پاکستان کے کہنے پر ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی عمان سے واپسی پر آج اتوار کی رات ایک بار پھر مشاورت کے لیے پاکستان جائیں گے، جس کے بعد ان کی اگلی منزل روس ہو گا۔ روس میں وہ ملکی قیادت سے مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ میں تہران کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے مشاورت کریں گے۔

اسلام آباد امن مذاکرات بے نتیجہ ختم

https://p.dw.com/p/5Cqo7
ایرانی وزیر خارجہ کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات، عراقچی آج پھر واپس پاکستان پہنچیں گے سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

ایرانی وزیر خارجہ کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات، عراقچی آج پھر واپس پاکستان پہنچیں گے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، بائیں، مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ہمراہ، دونوں وزراء کی ملاقات آج اتوار کے روز ہوئی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، بائیں، مسقط میں عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ہمراہ، دونوں وزراء کی ملاقات آج اتوار کے روز ہوئیتصویر: Iranian Foreign Ministry/WANA/REUTERS

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی عرب ریاست عمان کے دارالحکومت مسقط میں سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کے ساتھ ایک ملاقات میں ایران جنگ سے پیدا شدہ صورت حال اور علاقائی سلامتی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

متحدہ عرب امارات میں دبئی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق عمان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اتوار 26 اپریل کے روز بتایا کہ اس ملاقات میں ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں بالخصوص پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کاوشوں کے بارے میں گفتگو کی گئی۔

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن

ایرانی وزیر خارجہ ایک وفد کے ہمراہ کل ہفتے کے روز پاکستان میں تھے، جہاں اس وفد کے دورے کے اختتام پر عراقچی عمان روانہ ہو گئے تھے جبکہ ان کے وفد کے دیگر ارکان واپس تہران چلے گئے تھے۔

عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید جنہوں نے مسقط میں عباس عراقچی سے ملاقات کی
عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید جنہوں نے مسقط میں عباس عراقچی سے ملاقات کیتصویر: abaca/picture alliance

عباس عراقچی نے پاکستان میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستان ابھی تک ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن ایران کا اب کہنا یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں کوئی براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔

ایرانی وفد کے پاکستان سے روانہ ہو جانے کے بعد کل ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دونوں ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا دورہ عین آخری وقت پر یہ کہہ کر منسوخ کر دیا تھا کہ یہ دونوں امریکی مندوبین اس لیے 18 گھنٹے کی پرواز کر کے پاکستان نہیں جائیں گے کہ وہ وہاں بات چیت تو کریں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔

عباس عراقچی کی دوبارہ پاکستان آمد کی امید

ایران کے سرکاری میڈیا نے کل ہفتے کو رات گئے بتایا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی، جو کل ہی پاکستان سے عمان گئے تھے، اس خلیجی ریاست سے واپس دوبارہ پاکستان جائیں گے، تاکہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے متعلق نئی مشاورت کی جا سکے۔

پاکستانی وزیر اعظم شبہاز شریف کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (درمیان میں) کے ساتھ کل ہفتے کے روز‍ ہونے والی ملاقات کی ایک تصویر
پاکستانی وزیر اعظم شبہاز شریف کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (درمیان میں) کے ساتھ کل ہفتے کے روز‍ ہونے والی ملاقات کی ایک تصویرتصویر: Pakistan's Prime Minister Office/AFP

بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کر دی جائے، ٹرمپ امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے

عباس عراقچی کو اپنے موجودہ غیر ملکی سفر کے دوران پاکستان، عمان اور روس جانا تھا۔ اس بارے میں ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے لکھا ہے کہ عراقچی عمان سے دوبارہ پہلے پاکستان جائیں گے اور اس کے بعد وہ اپنے موجودہ غیر ملکی دورے کے اگلے مرحلے پر روس جائیں گے، تاکہ وہاں بھی ایران جنگ سے متعلق بات چیت کر سکیں۔

اِرنا نے لکھا ہے کہ عراقچی آج جب اتوار کی رات پاکستان پہنچیں گے، تو تقریباﹰ اسی وقت ان کے وفد کے دیگر ارکان بھی دوبارہ تہران سے واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔

ایرانی جوہری پروگرام کی ہوش ربا قیمت: دعوے اور حقائق

عراقچی کے ساتھ پاکستان آنے والا وفد اس لیے واپس تہران چلا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان میں ہونے والی اپنی بات چیت سے متعلق مشاورت کر سکے اور اس سلسلے میں تہران میں قومی قیادت سے نئی ہدایات لے سکے۔

اسلام آباد میں امریکہ سے براہ راست بات چیت نہیں ہو گی، ایران

https://p.dw.com/p/5CqU4
نئی دہلی میں سوئس انٹرنیشنل کی مسافر پرواز کو ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا، پانچ مسافر زخمی سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

نئی دہلی میں سوئس انٹرنیشنل کی مسافر پرواز کو ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا، پانچ مسافر زخمی

سوئس انٹرنیشنل کا ایک مسافر طیارہ زیورخ ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے نیچی پرواز کے مرحلے میں
سوئس انٹرنیشنل کا ایک مسافر طیارہ زیورخ ایئر پورٹ پر اترنے سے پہلے نیچی پرواز کے مرحلے میںتصویر: Arnulf Hettrich/imageBROKER/picture alliance

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے سوئٹزرلینڈ میں زیورخ کے لیے روانہ ہونے والی ایک مسافر پرواز کو اتوار 26 اپریل کی صبح ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس کے باعث اس مسافر طیارے کا ٹیک آف منسوخ کر دیا گیا اور ہنگامی طور پر اس ہوائی جہاز کو خالی کرانے کی کوششوں کے دوران پانچ مسافر زخمی ہو گئے۔

خاتون مسافر شیمپین نہ ملنے پر لڑ پڑی، جہاز کی ہنگامی لینڈنگ

اس سوئس مسافر طیارے کا ٹیک آف کے دوران ایک انجن پہلے ناکام ہو گیا تھا اور پھر اس میں آگ لگ گئی تھی۔ اس وقت یہ طیارہ پرواز کے لیے فضا میں بلند ہونے کی خاطر رن وے پر مسلسل رفتار پکڑ رہا تھا۔

ان حالات میں جہاز کے کپتان نے ٹیک آف منسوخ کر کے طیارے کو روکنے کی کوشش کی اور فوری طور پر مسافروں کو ہنگامی بنیادوں پر جہاز سے اتارنے کا عمل شروع کر دیا۔

ایئر انڈیا حادثہ: صرف تیس سیکنڈ میں طیارہ تباہ، رپورٹ جاری

بھارت میں نئی دہلی ایئر پورٹ پر کھڑے مختلف فضائی کمپنیوں کے مسافر طیارے
بھارت میں نئی دہلی ایئر پورٹ پر کھڑے مختلف فضائی کمپنیوں کے مسافر طیارےتصویر: Manish Swarup/AP Photo/picture alliance

نجی طیاروں کی پرواز اب صرف امیروں کے لیے نہیں رہی

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اس واقعے سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ زخمی ہونے والے تمام پانچوں مسافر اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

فلائٹ ریڈار 24 نامی ویب سائٹ کے مطابق سوئس انٹرنیشنل کی بھارت کے دارالحکومت سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ جانے والی جس پرواز کو یہ ایمرجنسی پیش آئی، وہ ایئر بس طرز کا ایک A330 ماڈل کا ہوائی جہاز ہے۔

بھارت: ایئر انڈيا طیارہ حادثے میں کم از کم 265 افراد ہلاک

اتوار کی دوپہر سوئس انٹرنیشنل ایئر لائن نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کر دی کہ نئی دہلی میں اس کی ایک پرواز کو پیش آنے والی ایمرجنسی میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

بھارت کے مصروف ترین ایئر پورٹ اندرا گاندھی انٹرنیشنل پر مسافر پروازوں کا شیڈول دکھانے والی ایک ڈسپلے سکرین
بھارت کے مصروف ترین ایئر پورٹ اندرا گاندھی انٹرنیشنل پر مسافر پروازوں کا شیڈول دکھانے والی ایک ڈسپلے سکرینتصویر: Vipin Kumar/Hindustan Times/Sipa USA/picture alliance

اس بارے میں بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے رپورٹنگ سے قبل نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی انتظامیہ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اتوار کی صبح کہا تھا کہ فلائٹ نمبر LX147 کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد اس ہوائی اڈے پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا: مسافر طیارے کے حادثے میں 179 افراد ہلاک، سات روزہ قومی سوگ کا اعلان

بعد میں اس ایئر پورٹ کے معمول کے تمام رن وے آپریشنز بحال ہو گئے اور تمام مسافر پروازیں اپنے شیڈول کے مطابق آ جا رہی تھیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا ایئر پورٹ ملک کا مصروف تین ہوائی اڈہ ہے، جہاں پروازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے استعمال ہونے والے چار رن وے فعال ہیں۔

ہوائی جہاز کتنا بوجھ برداشت کر سکتے ہيں؟

https://p.dw.com/p/5CqOc
اس شوٹنگ کا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

اس شوٹنگ کا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

امریکی صدر ٹرمپ شوٹنگ کے واقعے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ان کے پیچھے امریکی نائب صدر، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر، ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر اور قائم مقام امریکی وزیر انصاف بھی کھڑے ہیں
امریکی صدر ٹرمپ شوٹنگ کے واقعے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ان کے پیچھے امریکی نائب صدر، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر، ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر اور قائم مقام امریکی وزیر انصاف بھی کھڑے ہیںتصویر: Jose Luis Magana/AP Photo/dpa/picture alliance

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں اپنی موجودگی کے دوران ایک امریکی شہری کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کے واقعے کے بارے میں بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ ملزم نے اس جرم کا ارتکاب بظاہر فرد واحد کے طور پر کیا۔

وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے ڈنر میں شوٹنگ، صدر ٹرمپ محفوظ رہے

ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی رائے میں اس شوٹنگ کا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران جنگ میں  اس وقت فائر بندی جاری ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکی ایرانی امن مذاکرات کی کوششوں کا تاحال کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

شوٹنگ کے واقعے کے فوری بعد گالا ڈنر کے کئی شرکاء ہوٹل سے رخصت ہوتے ہوئے
شوٹنگ کے واقعے کے فوری بعد گالا ڈنر کے کئی شرکاء ہوٹل سے رخصت ہوتے ہوئےتصویر: Ken Cedeno/REUTERS

سالانہ ڈنر کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی دارالحکومت کے ہلٹن ہوٹل میں، جہاں گزشتہ رات اس سالانہ ڈنر کا اہتمام  کیا گیا تھا، اس تقریب سے چھ گھنٹے قبل اور مقامی وقت کے مطابق بعد دوپہر دو بجے کے بعد سے عام لوگوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا گیا تھا۔

تب صرف ایسے افراد کو ہی ہوٹل میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی، جو یا تو اس ہوٹل میں مقیم مہمان تھے یا بھر جن کے پاس اس ڈنر میں شرکت کے دعوت نامے تھے۔ مجموعی طور پر تقریباﹰ 2,300  مہمانوں کو میٹل ڈیٹیکٹرز سمیت تفصیلی سکیورٹی اسکریننگ سے گزرنا پڑا تھا۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک

پھر جب صدر ٹرمپ اس تقریب میں پہنچ گئے تھے، تو اس کے بعد کسی کو بھی اس ہال میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ہال کے اندر بھی امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے عام مہانوں اور صدر ٹرمپ کے درمیان دوری کو یقینی بناتے ہوئے ایک باقاعدہ ’بفر‘ قائم کر رکھا تھا۔

شوٹنگ کے واقعے کے بعد مہمانوں کی وہاں سے رخصتی کے دوران ہوٹل کے صدر دروازے کے پاس کھڑا ایک مسلح سیکرٹ سروس اہلکار
شوٹنگ کے واقعے کے بعد مہمانوں کی وہاں سے رخصتی کے دوران ہوٹل کے صدر دروازے کے پاس کھڑا ایک مسلح سیکرٹ سروس اہلکارتصویر: Pat Benic/UPI Photo/IMAGO

اس کے علاوہ سٹیج کے سامنے اور اس کے قریب ہی امریکی سیکرٹ سروس کے کئی اہلکار بھی موجود تھے، جو شوٹنگ کی آواز سنتے ہی صدر ٹرمپ کو بحفاظت وہاں سے نکال کر لے گئے۔

https://p.dw.com/p/5Cq4J
واشنگٹن میں شوٹنگ کا متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ملزم سیاسی طور پر کس طرح کی سوچ کا حامل؟ سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

واشنگٹن میں شوٹنگ کا متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ملزم سیاسی طور پر کس طرح کی سوچ کا حامل؟

شوٹنگ کی آوازیں سنتے ہی مسلح سیکرٹ سروس ایجنٹوں نے سٹیج پر پہنچ کر صدر ٹرمپ کو اپنے حفاظتی حصار (تصویر) میں لے لیا تھا
شوٹنگ کی آوازیں سنتے ہی مسلح سیکرٹ سروس ایجنٹوں نے سٹیج پر پہنچ کر صدر ٹرمپ کو اپنے حفاظتی حصار (تصویر) میں لے لیا تھاتصویر: Bo Erickson/REUTERS

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وفاقی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ ملزم متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے اور ملزم کو سیکورٹی اہلکاروں نے فوراﹰ قابو کر لیا تھا۔

اس فائرنگ کے امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ ملزم کول ایلن کے بارے میں حکام نے بتایا ہے کہ وہ ایک یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک ٹیچر ہے، جو شوقیہ طور پر ویڈیو گیمز بھی تیار کرتا تھا۔

اس نے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

وہ گزشتہ قریب چھ سال سے ایک ایسے ٹیوٹر کے طور پر کام کر رہا تھا، جو مختلف امریکی کالجوں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی تعلیمی رہنمائی کرتا تھا۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک

ملزم کول ایلن کے بارے میں امریکہ میں وفاقی سیاسی انتخابی مہم کے ریکارڈ کے جائزے سے یہ پتا بھی چلا ہے کہ وہ سیاسی طور پر امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا حامی ہے اور اس نے 2024ء میں سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر انتخابی مہم کے لیے 25 ڈالر (تقریباﹰ 21 یورو) کے مالی عطیہ بھی دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے آغاز پر لی گئی ایک تصویر جس میں صدر ٹرمپ، فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ سمیت متعدد شرکاء نظر آ رہے ہیں
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے آغاز پر لی گئی ایک تصویر جس میں صدر ٹرمپ، فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ سمیت متعدد شرکاء نظر آ رہے ہیںتصویر: Mandel Ngan/AFP

اس ملزم نے بظاہر موقع پر موجود امریکی وفاقی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اس نے اس سمت میں فائرنگ نہیں کی تھی، جہاں عشائیے کی اس تقریب کے دوران سٹیج پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیٹھے ہوئے تھے۔

https://p.dw.com/p/5Cq3z
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ مگر صدر ٹرمپ محفوظ رہے، ملزم گرفتار سیکشن پر جائیں
26 اپریل 2026

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ مگر صدر ٹرمپ محفوظ رہے، ملزم گرفتار

شوٹنگ کے فوراﹰ بعد امریکی سکیورٹی اہلکار صدر ٹرمپ (بائیں طرف سٹیج پر بیٹھے ہوئے) کو اس تقریب سے بحفاظت نکال کر لے گئے
شوٹنگ کے فوراﹰ بعد امریکی سکیورٹی اہلکار صدر ٹرمپ (بائیں طرف سٹیج پر بیٹھے ہوئے) کو اس تقریب سے بحفاظت نکال کر لے گئےتصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/dpa/picture alliance

امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے۔ اکتیس سالہ مشتبہ امریکی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی دارالحکومت کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کی تنظیم کے اس سالانہ ڈنر میں مقامی وقت کے مطابق ہفتہ 25 اپریل کی رات بہت سے صحافی، کئی معروف شخصیات اور خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔

امریکہ: ٹرمپ پر ایک اور ’ممکنہ قاتلانہ حملے‘ کی ناکام کوشش

جیسے ہی اس تقریب میں ایک شخص کی طرف سے فائرنگ کی گئی، امریکی صدر ٹرمپ کو ان کے محافظین نے فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس واقعے میں بالکل محفوظ رہے۔

تقریب میں موجود مسلح امریکی سکیورٹی اہلکار
فائرنگ کیے جانے کے ساتھ ہی تقریب میں موجود سکیورٹی اہلکار فوراﹰ حرکت میں آ گئے تھےتصویر: Tom Brenner/AP Photo/picture alliance

فائرنگ کرنے والا ملزم کون؟

فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم کو، جس کی عمر 31 برس ہے اور جس کا تعلق امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا سے بتایا گیا ہے، موقع پر ہی سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔

مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق شوٹنگ کے اس واقعے میں امریکی سیکرٹ سروس کا ایک ایجنٹ زخمی ہو گیا، جس کا اس وقت ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک

اس واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کے جس ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کا یہ سالانہ ڈنر ہو رہا تھا، اس ہوٹل کی عمارت ’’کوئی خاص طور پر محفوظ عمارت نہیں تھی۔‘‘

ہوٹل کی لابی میں تقریب میں شریک مہمان اور ایک مسلح سکیورٹی اہلکار
ہوٹل کی لابی میں تقریب میں شریک مہمان اور ایک مسلح سکیورٹی اہلکارتصویر: Alex Wroblewski/AFP

فائرنگ کرنے والا مشتبہ ملزم امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا 31 سالہ ٹیچر بتایا گیا ہے، جس کا نام کول ایلن ہے اور جو اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ اور عالمی رہنماؤں کا ردعمل

امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق کول ایلن کو خطرناک ہتھیار کے ساتھ وفاقی اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ایک آتشیں ہتھیار کے ساتھ پرتشدد جرم کے ارتکاب کے الزامات میں کل پیر 27 اپریل کو واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ادارت: امتیاز احمد

https://p.dw.com/p/5Cpod
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔