گالا ڈنر شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی اہلکار
وقت اشاعت 26 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 26 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے ڈنر میں شوٹنگ کرنے والے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، امریکی اہلکار
- جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری
- کیئر اسٹارمر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت، آبنائے ہرمز کھولنے کی اشد ضرورت پر زور
- نیا عالمی ریکارڈ: کینیا کے ایتھلیٹ سباستیان ساوے نے لندن میراتھن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیت لی
- تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے لیے 27 ممالک میں رائے دہی، چین کی طرف سے شدید مذمت
- ٹرمپ کے ایلچیوں کی آمد کی منسوخی کے بعد پاکستان امن مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کی کوشش میں
- ایرانی وزیر خارجہ کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات، عراقچی آج پھر واپس پاکستان پہنچیں گے
- نئی دہلی میں سوئس انٹرنیشنل کی فلائٹ کو ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا، پانچ مسافر زخمی
- اس شوٹنگ کا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
- ہلٹن ہوٹل میں شوٹنگ کا متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ملزم سیاسی طور پر کس طرح کی سوچ کا حامل؟
- واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ مگر صدر ٹرمپ محفوظ رہے، ملزم گرفتار
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کے ملزم کا ممکنہ ہدف ٹرمپ تھے، اعلیٰ امریکی اہلکار
امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کے مطابق واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کرنے والے ملزم کا ممکنہ ہدف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر کے موقع پر ہفتہ 25 اپریل کی رات شوٹنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ مشتبہ امریکی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کول ایلن کو پیر کے روز ایک عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ہلٹن ہوٹل شوٹنگ کے بارے میں امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے عالمی وقت کے مطابق اتوار کی سہ پہر بتایا کہ ملزم ایلن کے بارے میں دستیاب حقائق کی بنیاد پر یہ شبہات قوی ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
ٹوڈ بلانش نے این بی سی نیوز کو بتایا، ’’بظاہر یہ ملزم ان لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، جو ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ ہیں اور ان میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ ملزم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جو آتشیں ہتھیار لے کر ہوٹل میں آیا تھا، اس نے وہ گزشتہ چند برسوں کے دوران خریدے تھے۔‘‘
قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم جو اس وقت حکام کی حراست میں ہے اور جس سے پوچھ گچھ جاری ہے، تفتیشی اہلکاروں کے ساتھ ’’پورا تعاون نہیں کر رہا۔‘‘
جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر حملے جاری
لبنان جنگ میں فائر بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور ایران نواز حزب اللہ کے ایک دوسرے پر خونریز حملے جاری ہیں۔ ایسے تازہ حملوں میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق سات افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہو گئے۔
لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک
اسرائیل میں تل ابیب اور لبنان میں بیروت سے اتوار 26 اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل ہفتے کے روز جنوبی لبنان میں ہونے والی فائر بندی کے خلاف ورزیوں اور فریقین کے ایک دوسرے پر مسلح حملوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے جبکہ 24 دیگر زخمی ہو گئے۔
ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اتوار کے روز اسرائیلی زمینی دستوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی اس ملیشیا کی طرف سے کہا گیا کہ ان حملوں کے ساتھ شروع ہو جانے والی لڑائی میں متعدد افراد مارے گئے۔
اسرائیل اور لبنان میں دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق، ٹرمپ
تاہم حزب اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ اتوار کے دن اس کے حملوں کے بعد ہونے والی لڑائی میں اس کے اپنے کتنے جنگجو یا کتنے اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔
جنگ کے باعث لبنان میں اب تک ڈھائی ہزار سے زیادہ ہلاکتیں
اسرائیل اور لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے مابین جنگ میں، جسے لبنان جنگ کہا جاتا ہے حالانکہ لبنانی ریاست یا مسلح افواج کا اس سے کوئی تعلق نہیں، 17 اپریل کو فائر بندی طے پائی تھی اور اصولی طور پر یہ سیزفائر اب تک جاری ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے کافی زیادہ زمینی فوجی دستے بھیج رکھے ہیں، جو سیزفائر کے باوجود وہاں سے ابھی تک واپس نہیں گئے، بلکہ وہاں اپنی وہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق مقصد اسرائیل کی قومی سرحد اور جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے درمیانی علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔
ایران امریکہ سیزفائر ڈیل میں لبنان پر شدید اسرائیلی حملوں کے باعث دراڑیں
لبنانی حکومت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین موجودہ جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 2,500 افراد ہلاک اور 7,700 زخمی ہو چکے ہیں۔
مرنے اور زخمی ہونے والوں دونوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے دن اپنی کابینہ کے ایک ہفتہ وار اجلاس کے دوران الزام لگایا کہ حزب اللہ کی کارروائیاں لبنان جنگ میں طے شدہ فائر بندی پر عمل درآمد میں ’’خلاف ورزیوں اور انہدام‘‘ کا باعث بن رہی ہیں۔
کیئر اسٹارمر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت، آبنائے ہرمز کھولنے کی اشد ضرورت پر زور
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار 26 اپریل کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں ایران جنگ کی وجہ سے تاحال بند آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
لندن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولا جانا ناگزیر ہے۔
دنیا بھر کے لیے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ خلیج فارس میں اسی تنگ سمندری راستے سے ہو کر بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ترجمان نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’دونوں رہنماؤں نے اس امر کی فوری ضرورت کے بارے میں آپس میں گفتگو کی کہ آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ آزادانہ طور پر بحال ہونا چاہیے، کیونکہ اس آبنائے کی ایران کی طرف سے بندش کے باعث عالمی معیشت اور برطانوی سمیت دنیا بھر کے انسانوں کے لیے شدید اقتصادی اور مالی مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔‘‘
یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر
کیئر اسٹارمر کی سرکاری رہائش گاہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’’وزیر اعظم اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کی طرف سے مل کر شروع کردہ کوششیں اب تک کہاں تک پہنچی ہیں۔‘‘
نیا عالمی ریکارڈ: کینیا کے ایتھلیٹ سباستیان ساوے نے لندن میراتھن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیت لی
کینیا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ایتھلیٹ سباستیان ساوے انسانی تاریخ کے ایسے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنہوں نے لندن میراتھن دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں جیت لی۔
چینی روبوٹس انسانوں سے ہاف میراتھن ریس ہار گئے
لندن میراتھن کا فاصلہ 26.2 میل یا 42.195 کلومیٹر بنتا ہے اور ساوے نے اتوار 26 اپریل کے روز یہ فاصلہ ایک گھنٹے 59 منٹ اور 30 سیکنڈ میں طے کر لیا۔
ان سے قبل کسی میراتھن کے سب سے تیز رفتار فاتح کا اعزاز انہی کے ہم وطن اور کینیا کے ایتھلیٹ کیلون کپٹم نے 2023ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں قائم کیا تھا۔ انہوں نے یہ ریس دو گھنٹے صفر منٹ اور 35 سیکنڈ میں جیتی تھی اور تب وہ بھی ایک نیا عالمی ریکارڈ تھا۔
میراتھن عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلون کیپٹم سڑک حادثے میں ہلاک
اولمپک چیمپیئن نے میراتھن کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا
ماضی میں کسی میراتھن کو دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں جیتنا ناممکن تصور کیا جاتا تھا، لیکن ساوے نے اس سال ایسا کر دکھایا۔
اس کے علاوہ برطانیہ کے دارالحکومت میں امسالہ لندن میراتھن میں انہوں نے نہ صرف ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا، بلکہ ساتھ ہی اپنا وہ اعزاز بھی برقرار رکھا، جو انہوں نے پچھلی مرتبہ لندن میراتھن جیت کر اپنے نام کر لیا تھا۔
تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے لیے 27 ممالک میں رائے دہی کا عمل، چین کی طرف سے مذمت
تبتی باشندوں کی نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے آج اتوار 26 اپریل کو کئی ممالک میں رائے دہی ہو رہی ہے، جس کی بیجنگ میں چینی حکومت نے شدید مذمت کی ہے۔
دلائی لاما کو 130 برس سے زائد کی عمر تک زندہ رہنے کی امید
اس ووٹنگ میں ایسے تمام تبتی باشندے حصہ لے رہے ہیں، جو چین کے کنٹرول میں اپنے آبائی علاقے تبت سے باہر دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔ اس انتخابی عمل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اپنی نئی جلاوطن حکومت کا انتخاب کے ساتھ تبتی باشندوں کو اب خود کو مستقبل کے لیے بتدریج تیار کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آئندہ اپنے روحانی پیشوا دلائی لاما کے بغیر اپنی جدوجہد کیسے جاری رکھیں گے۔
دلائی لاما اب بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور وہ خود بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ تبتی باشندوں کو خود کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہیے۔
بھارت میں قائم مرکزی تبتی انتظامیہ
تبتی باشندوں کی جلاوطن حکومت بھارت میں قائم ہے، جہاں نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل دلائی لاما چین سے فرار ہو کر پناہ گزین ہو گئے تھے۔
’لامہ‘ جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا، دلائی لامہ
یہ جلاوطن حکومت مرکزی تبتی انتظامیہ کہلاتی ہے، لیکن چین کی طرف سے اس انتظامیہ کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’محض ایک علیحدگی پسند سیاسی گروپ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔
دلائی لاما کی طرف سے سیاسی اختیارات کی منتقلی
تبت کی یہ جلاوطن حکومت تبت سے باہر مقیم تبتی باشندوں کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ایک ادارہ ہے، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ 2011ء میں دلائی لاما نے اپنے تمام تر سیاسی اختیارات اس مرکزی انتظامیہ کو منتقل کر دیے تھے۔
’بدھ مت کا تبتی نظریہ میرے بعد بھی برقرار رہے گا‘، دلائی لامہ
اتوار کے روز ہونے والے جلاوطن حکومتی انتخابات میں حصہ لینے والے ایک 19 سالہ تبتی باشندے تینزین تسیرنگ نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں بائلاکُپے کے مقام پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمارے ووٹ بہت اہم ہیں، میں پہلی بار ووٹ ڈال رہا ہوں۔ اس حکومت میں جلاوطن تبتیوں کی نوجوان نسل کو زیادہ نمائندگی حاصل ہونا چاہیے۔‘‘
دلائی لاما کی کتاب ’وائس فار دی وائس لیس‘ کی اشاعت، چین برہم
بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں بائلاکُپے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ہمالیہ کے پہاڑی خطے سے باہر تبتی باشندوں کی سب سے بڑی برادریاں آباد ہیں۔
نئی جلاوطن حکومت کے انتخاب کے لیے تبتی باشندے دنیا کے 27 ممالک میں ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان ممالک میں چین شامل نہیں ہے۔
ٹرمپ کے ایلچیوں کی آمد کی منسوخی کے بعد پاکستان امن مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کی کوشش میں
ایران جنگ میں واشنگٹن اور تہران کے مابین امن مذاکرات کے لیے ثالثی کرنے والے ملک پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اب اسلام آباد سے شروع ہونے والی مکالمت کو ناکامی سے بچانے کی کاوشوں میں ہے اور اس نے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
ایرانی وفد کی واپسی کے بعد امریکی وفد کی پاکستان آمد بھی منسوخ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے فضائی حملوں کے ساتھ جس ایران جنگ کا آغاز ہوا تھا، اس میں قریب ڈھائی ہفتے قبل جو فائر بندی طے پائی تھی، اس کے فوری بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی قرار دیے جانے والے براہ راست امن مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، جو بے نتیجہ رہا تھا۔
اس کے بعد سے اب تک پاکستانی قیادت اس بات چیت کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے، تاہم اب تک یہ دوسری مکالمت ممکن نہیں ہو سکی۔ اب اپنی ثالثی کوششوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے پاکستان نے کسی باقاعدہ جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
یہ بات دو ایسے اعلیٰ پاکستانی اہلکاروں نے اتوار 26 اپریل کے روز نیوز ایجنسی روئٹرز کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔ ان دونوں پاکستانی عہدیداروں کو میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
ان دونوں پاکستانی عہدیداروں نے کہا کہ کل ہفتے کے روز ایرانی وفد کے امریکی مذاکراتی مندوبین کی آمد سے پہلے ہی پاکستان سے روانہ ہو جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا دورہ فی الحال لیکن عین آخری وقت پر منسوخ کر دیا تھا۔
پاکستانی امن کوششیں: صرف اچھی شہرت یا اثر دیرپا ترقی پر بھی؟
اس وجہ سے اب پاکستان پر یہ دباؤ ہے کہ وہ اپنی ان سفارتی کوششوں کو مکمل ناکام ہونے سے بچا لے، جن کے وجہ سے قریب دو ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندے گزشتہ تقریباﹰ پانچ دہائیوں میں پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ کر آپس میں براہ راست مذاکرات کرنے لگے تھے۔
تہران اور واشنگٹن کے مابین امن مذاکرات کا دوسرا دور اسی ہفتے متوقع تھا، لیکن پھر جنگی فریقین کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی، اختلافی امور اور اشتعال انگیز بیان بازی اس مکالمت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے تھے۔
اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا موجودہ دورہ عمان بھی بہت اہم ہے، جس کی سرحدیں خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز سے ملتی ہیں اور جو ماضی میں اپنے طور پر ایران اور امریکہ کے مابین تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے کئی ادوار کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
پاکستان کے کہنے پر ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی عمان سے واپسی پر آج اتوار کی رات ایک بار پھر مشاورت کے لیے پاکستان جائیں گے، جس کے بعد ان کی اگلی منزل روس ہو گا۔ روس میں وہ ملکی قیادت سے مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ میں تہران کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے مشاورت کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات، عراقچی آج پھر واپس پاکستان پہنچیں گے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی عرب ریاست عمان کے دارالحکومت مسقط میں سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کے ساتھ ایک ملاقات میں ایران جنگ سے پیدا شدہ صورت حال اور علاقائی سلامتی کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق عمان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اتوار 26 اپریل کے روز بتایا کہ اس ملاقات میں ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں بالخصوص پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کاوشوں کے بارے میں گفتگو کی گئی۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی: ترکی کی شمولیت ممکن
ایرانی وزیر خارجہ ایک وفد کے ہمراہ کل ہفتے کے روز پاکستان میں تھے، جہاں اس وفد کے دورے کے اختتام پر عراقچی عمان روانہ ہو گئے تھے جبکہ ان کے وفد کے دیگر ارکان واپس تہران چلے گئے تھے۔
عباس عراقچی نے پاکستان میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستان ابھی تک ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن ایران کا اب کہنا یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں کوئی براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایرانی وفد کے پاکستان سے روانہ ہو جانے کے بعد کل ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دونوں ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا دورہ عین آخری وقت پر یہ کہہ کر منسوخ کر دیا تھا کہ یہ دونوں امریکی مندوبین اس لیے 18 گھنٹے کی پرواز کر کے پاکستان نہیں جائیں گے کہ وہ وہاں بات چیت تو کریں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔
عباس عراقچی کی دوبارہ پاکستان آمد کی امید
ایران کے سرکاری میڈیا نے کل ہفتے کو رات گئے بتایا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی، جو کل ہی پاکستان سے عمان گئے تھے، اس خلیجی ریاست سے واپس دوبارہ پاکستان جائیں گے، تاکہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے متعلق نئی مشاورت کی جا سکے۔
عباس عراقچی کو اپنے موجودہ غیر ملکی سفر کے دوران پاکستان، عمان اور روس جانا تھا۔ اس بارے میں ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے لکھا ہے کہ عراقچی عمان سے دوبارہ پہلے پاکستان جائیں گے اور اس کے بعد وہ اپنے موجودہ غیر ملکی دورے کے اگلے مرحلے پر روس جائیں گے، تاکہ وہاں بھی ایران جنگ سے متعلق بات چیت کر سکیں۔
اِرنا نے لکھا ہے کہ عراقچی آج جب اتوار کی رات پاکستان پہنچیں گے، تو تقریباﹰ اسی وقت ان کے وفد کے دیگر ارکان بھی دوبارہ تہران سے واپس پاکستان پہنچ جائیں گے۔
ایرانی جوہری پروگرام کی ہوش ربا قیمت: دعوے اور حقائق
عراقچی کے ساتھ پاکستان آنے والا وفد اس لیے واپس تہران چلا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان میں ہونے والی اپنی بات چیت سے متعلق مشاورت کر سکے اور اس سلسلے میں تہران میں قومی قیادت سے نئی ہدایات لے سکے۔
نئی دہلی میں سوئس انٹرنیشنل کی مسافر پرواز کو ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا، پانچ مسافر زخمی
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے سوئٹزرلینڈ میں زیورخ کے لیے روانہ ہونے والی ایک مسافر پرواز کو اتوار 26 اپریل کی صبح ٹیک آف کے دوران ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ گیا، جس کے باعث اس مسافر طیارے کا ٹیک آف منسوخ کر دیا گیا اور ہنگامی طور پر اس ہوائی جہاز کو خالی کرانے کی کوششوں کے دوران پانچ مسافر زخمی ہو گئے۔
خاتون مسافر شیمپین نہ ملنے پر لڑ پڑی، جہاز کی ہنگامی لینڈنگ
اس سوئس مسافر طیارے کا ٹیک آف کے دوران ایک انجن پہلے ناکام ہو گیا تھا اور پھر اس میں آگ لگ گئی تھی۔ اس وقت یہ طیارہ پرواز کے لیے فضا میں بلند ہونے کی خاطر رن وے پر مسلسل رفتار پکڑ رہا تھا۔
ان حالات میں جہاز کے کپتان نے ٹیک آف منسوخ کر کے طیارے کو روکنے کی کوشش کی اور فوری طور پر مسافروں کو ہنگامی بنیادوں پر جہاز سے اتارنے کا عمل شروع کر دیا۔
ایئر انڈیا حادثہ: صرف تیس سیکنڈ میں طیارہ تباہ، رپورٹ جاری
نجی طیاروں کی پرواز اب صرف امیروں کے لیے نہیں رہی
نیوز ایجنسی روئٹرز نے اس واقعے سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ زخمی ہونے والے تمام پانچوں مسافر اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
فلائٹ ریڈار 24 نامی ویب سائٹ کے مطابق سوئس انٹرنیشنل کی بھارت کے دارالحکومت سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ جانے والی جس پرواز کو یہ ایمرجنسی پیش آئی، وہ ایئر بس طرز کا ایک A330 ماڈل کا ہوائی جہاز ہے۔
بھارت: ایئر انڈيا طیارہ حادثے میں کم از کم 265 افراد ہلاک
اتوار کی دوپہر سوئس انٹرنیشنل ایئر لائن نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کر دی کہ نئی دہلی میں اس کی ایک پرواز کو پیش آنے والی ایمرجنسی میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
اس بارے میں بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے رپورٹنگ سے قبل نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی انتظامیہ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں اتوار کی صبح کہا تھا کہ فلائٹ نمبر LX147 کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد اس ہوائی اڈے پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا: مسافر طیارے کے حادثے میں 179 افراد ہلاک، سات روزہ قومی سوگ کا اعلان
بعد میں اس ایئر پورٹ کے معمول کے تمام رن وے آپریشنز بحال ہو گئے اور تمام مسافر پروازیں اپنے شیڈول کے مطابق آ جا رہی تھیں۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا ایئر پورٹ ملک کا مصروف تین ہوائی اڈہ ہے، جہاں پروازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے استعمال ہونے والے چار رن وے فعال ہیں۔
اس شوٹنگ کا ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں اپنی موجودگی کے دوران ایک امریکی شہری کی طرف سے کی جانے والی فائرنگ کے واقعے کے بارے میں بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ مشتبہ ملزم نے اس جرم کا ارتکاب بظاہر فرد واحد کے طور پر کیا۔
وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے ڈنر میں شوٹنگ، صدر ٹرمپ محفوظ رہے
ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی رائے میں اس شوٹنگ کا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایران جنگ میں اس وقت فائر بندی جاری ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکی ایرانی امن مذاکرات کی کوششوں کا تاحال کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔
سالانہ ڈنر کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات
واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی دارالحکومت کے ہلٹن ہوٹل میں، جہاں گزشتہ رات اس سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا، اس تقریب سے چھ گھنٹے قبل اور مقامی وقت کے مطابق بعد دوپہر دو بجے کے بعد سے عام لوگوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا گیا تھا۔
تب صرف ایسے افراد کو ہی ہوٹل میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی، جو یا تو اس ہوٹل میں مقیم مہمان تھے یا بھر جن کے پاس اس ڈنر میں شرکت کے دعوت نامے تھے۔ مجموعی طور پر تقریباﹰ 2,300 مہمانوں کو میٹل ڈیٹیکٹرز سمیت تفصیلی سکیورٹی اسکریننگ سے گزرنا پڑا تھا۔
صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک
پھر جب صدر ٹرمپ اس تقریب میں پہنچ گئے تھے، تو اس کے بعد کسی کو بھی اس ہال میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ہال کے اندر بھی امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے عام مہانوں اور صدر ٹرمپ کے درمیان دوری کو یقینی بناتے ہوئے ایک باقاعدہ ’بفر‘ قائم کر رکھا تھا۔
اس کے علاوہ سٹیج کے سامنے اور اس کے قریب ہی امریکی سیکرٹ سروس کے کئی اہلکار بھی موجود تھے، جو شوٹنگ کی آواز سنتے ہی صدر ٹرمپ کو بحفاظت وہاں سے نکال کر لے گئے۔
واشنگٹن میں شوٹنگ کا متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ملزم سیاسی طور پر کس طرح کی سوچ کا حامل؟
امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وفاقی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ ملزم متعدد آتشیں ہتھیاروں سے مسلح تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے اور ملزم کو سیکورٹی اہلکاروں نے فوراﹰ قابو کر لیا تھا۔
اس فائرنگ کے امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ ملزم کول ایلن کے بارے میں حکام نے بتایا ہے کہ وہ ایک یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک ٹیچر ہے، جو شوقیہ طور پر ویڈیو گیمز بھی تیار کرتا تھا۔
اس نے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
وہ گزشتہ قریب چھ سال سے ایک ایسے ٹیوٹر کے طور پر کام کر رہا تھا، جو مختلف امریکی کالجوں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی تعلیمی رہنمائی کرتا تھا۔
صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک
ملزم کول ایلن کے بارے میں امریکہ میں وفاقی سیاسی انتخابی مہم کے ریکارڈ کے جائزے سے یہ پتا بھی چلا ہے کہ وہ سیاسی طور پر امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا حامی ہے اور اس نے 2024ء میں سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر انتخابی مہم کے لیے 25 ڈالر (تقریباﹰ 21 یورو) کے مالی عطیہ بھی دیا تھا۔
اس ملزم نے بظاہر موقع پر موجود امریکی وفاقی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اس نے اس سمت میں فائرنگ نہیں کی تھی، جہاں عشائیے کی اس تقریب کے دوران سٹیج پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیٹھے ہوئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ مگر صدر ٹرمپ محفوظ رہے، ملزم گرفتار
امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے سالانہ ڈنر میں شوٹنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ رہے۔ اکتیس سالہ مشتبہ امریکی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی دارالحکومت کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ کرنے والے ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کی تنظیم کے اس سالانہ ڈنر میں مقامی وقت کے مطابق ہفتہ 25 اپریل کی رات بہت سے صحافی، کئی معروف شخصیات اور خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شریک تھے۔
امریکہ: ٹرمپ پر ایک اور ’ممکنہ قاتلانہ حملے‘ کی ناکام کوشش
جیسے ہی اس تقریب میں ایک شخص کی طرف سے فائرنگ کی گئی، امریکی صدر ٹرمپ کو ان کے محافظین نے فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس واقعے میں بالکل محفوظ رہے۔
فائرنگ کرنے والا ملزم کون؟
فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم کو، جس کی عمر 31 برس ہے اور جس کا تعلق امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا سے بتایا گیا ہے، موقع پر ہی سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔
مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق شوٹنگ کے اس واقعے میں امریکی سیکرٹ سروس کا ایک ایجنٹ زخمی ہو گیا، جس کا اس وقت ہسپتال میں علاج جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک شخص ہلاک
اس واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن کے جس ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کا یہ سالانہ ڈنر ہو رہا تھا، اس ہوٹل کی عمارت ’’کوئی خاص طور پر محفوظ عمارت نہیں تھی۔‘‘
فائرنگ کرنے والا مشتبہ ملزم امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا 31 سالہ ٹیچر بتایا گیا ہے، جس کا نام کول ایلن ہے اور جو اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ اور عالمی رہنماؤں کا ردعمل
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق کول ایلن کو خطرناک ہتھیار کے ساتھ وفاقی اہلکاروں پر حملہ کرنے اور ایک آتشیں ہتھیار کے ساتھ پرتشدد جرم کے ارتکاب کے الزامات میں کل پیر 27 اپریل کو واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ادارت: امتیاز احمد