پاکستانی امن کوششیں: صرف اچھی شہرت یا اثر دیرپا ترقی پر بھی؟
23 اپریل 2026
پاکستان نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اور تاریخی امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی اور سیاسی سطح پر صرف اسلام آباد ہی ان دونوں متحارب ممالک کو اپنی سفارتی کوششوں سے مذاکرات کی میز پر لا سکا۔ ان امن کوششوں کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا، اور پاکستانی رہنما اسلام آباد میں انہی دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد اور موجودہ کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی کاوشیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
گیارہ اپریل کو امریکی ایرانی امن مذاکرات کے پہلے دور کے بعد رواں ہفتے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے اسلام آباد میں پھر فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور شہر کی مختلف سڑکوں اور علاقوں کو بھی عوام کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بڑے ہوٹلوں کو بھی اسلام آباد آنے والے مہمانوں کے لیے خالی کرا لیا گیا تھا، مگر تمام تر تیاریوں کے باوجود دوسرے دور کی امن بات چیت ابھی تک ممکن نہین ہو سکی۔
پاکستانی امن کوششوں کا اعتراف
بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی حلقے معترف ہیں کہ پاکستان کی ثالثی میں اگرچہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے مابین دوسرے دور کی بات چیت اب تک شروع نہیں ہو سکی اور اس کے بارے میں کئی طرح کے خدشات بھی ہیں، تاہم پاکستان اب تک سفارتی سطح پر جو کچھ کر چکا ہے، اس سے عالمی برادری میں ایک امن ثالث کے طور پر اس جنوبی ایشیائی ملک کا قد اتنا اونچا ہوا ہے کہ اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ایک سابق اعلیٰ سفارت کار اعزاز چوہدری نے کہا کہ کسی بھی ملک کا تشخص اور ساکھ بہت اہم ہوتے ہیں اور پاکستان نے اس حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ''پوری دنیا میں اب نہ صرف پاکستان مزید جانا جانے لگا ہے بلکہ ایک مثبت کردار والے ملک کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے، جو ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔‘‘
امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششیں جاری
اعزاز چوہدری نے کہا کہ علاقائی سطح پر ہمسایہ حریف ملک بھارت نے ہمیشہ ہی پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دینے کی کوشش کی ہے، مگر سفارتی حوالے سے اس وقت خود بھارت بین الاقوامی سطح پر بالکل تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اپنی ساکھ میں اس بہتری سے پاکستان کو سفارتی کے علاوہ کوئی بالواسطہ سیاسی اور اقتصادی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں؟ مثلاﹰ اس تناظر میں کہ پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے اور اس ملک کو شدید اقتصادی مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔
پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اعزاز چوہدری نے بتایا، ''اس کا زیادہ تر انحصار تو ہماری اپنی کوششوں پر ہو گا، خاص طور پر اس وقت جب موجودہ جنگی صورت حال ختم ہو چکی ہو، تو پاکستان کے متعلقہ ادارے دیگر ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاملات کس طرح اٹھاتے ہیں۔‘‘
اچھی سفارتی شہرت سے دیرپا ملکی ترقی میں ممکنہ معاونت
سفارتی حلقوں کے علاوہ بعض تجزیہ کاروں کا بھی یہ کہنا ہے کہ پاکستان کا عالمی سفارتی سطح پر تشخص بہتر ضرور ہوا ہے، تاہم ملک میں جامع داخلی اصلاحات کے بغیر دیرپا بنیادوں پر ترقی کے عمل میں کوئی معاونت نہیں ملے گی۔ ان حلقوں کے مطابق صنعتی ترقی، انسانی صورت حال میں بہتری اور سماجی انصاف مثلاﹰ میرٹ کے احترام اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
معروف ماہر معاشیات قیصر بنگالی کے مطابق کسی بھی ملک کی عالمی سطح پر اچھی ساکھ کے اپنے فوائد ہوتے ہیں۔ ان کے بقول بہتر تشخص کے ساتھ جب کوئی ملک دوسرے ممالک سے رابطے کرتا ہے، تو ان رابطوں کو زیادہ مثبت انداز میں لیا جاتا ہے۔
پاکستان کے کہنے پر ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ ساکھ نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بھی کسی حد تک مدد دی، جہاں ڈیزل سبسڈی کے خاتمے جیسے معاملات پر کوئی سخت دباؤ سامنے نہیں آیا۔ تاہم قیصر بنگالی کے مطابق آسان شرائط پر قرض مل جانا ترقی کے مترادف نہیں بلکہ قرض کی حیثیت قرض ہی کی رہے گی جو بہرحال ایک بوجھ ہوتا ہے۔
اقتصادی مواقع کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ بہتر ساکھ مدد ضرور دیتی ہے، لیکن اصل فائدہ تبھی ممکن ہوتا ہے، جب کسی ملک کے پاس اپنے مؤثر پیداواری اور صنعتی ڈھانچے بھی موجود ہوں، ''اگر کسی کے پاس برآمد کرنے کے لیے کچھ ہو ہی نہ، تو صرف بہتر عالمی ساکھ سے تو عالمی سطح پر کوئی ٹھوس فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘‘
امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات سے ایران کی توقعات کیا؟
قیصر بنگالی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا، ''ایک بار پاکستانی حکام نے چین کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا ہے جبکہ پاکستان کی درآمدات بڑھ گئی ہیں۔ اس پر چینی حکام کا جواب تھا کہ اگر پاکستان کچھ برآمد کرنا چاہتا ہے، تو انہیں تو کوئی اعتراض نہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اگر آپ کے پاس بیچنے کے لیے کچھ ہے، تو بیچ لیں۔‘‘
میرٹ کی خلاف ورزیوں کے نقصانات
کئی تجزیہ کاروں کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مختلف معاملات میں کامیاب حل نکالنے کی صلاحیت میں بھی کمی پائی جاتی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اہم عہدوں کی تقسیم میں میرٹ کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے اور کسی بھی کام کے لیے ہمیشہ بہترین افراد ہی کا چناؤ نہیں کیا جاتا۔ قیصر بنگالی کے مطابق یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی ایسی مصنوعات بھی بیرونی منڈیوں میں اچھی طرح فروخت نہیں کر پاتا، جو اچھی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔
پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت کی سفارتی محاذ پر دوہری کاوشیں
ڈاکٹر ندیم الحق اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ پاکستان اپنے طیارے بھی دنیا میں نہیں بیچ پایا اور جو سودے ہوئے تھے، وہ بھی کچھ دوست ممالک نے منسوخ کروا دیے، حالانکہ پاکستان اپنے جے ایف تھنڈر جنگی طیاروں کا معیار بھارت کے خلاف مختصر عسکری تصادم میں ثابت کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ادارہ ایس آئی ایف سی بھی موجود ہے، جس کا مقصد ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانا ہے، خاص طور پر زراعت کے شعبے میں، ''لیکن وہاں بھی صورت حال بہت امید افزا تو نہیں ہے۔‘‘
ڈاکٹر ندیم الحق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میں مانتا ہوں کہ پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ چکا چوند عارضی ہے۔ دیرپا ترقی کے اصول مختلف ہوتے ہیں۔ اس وقت تو حالت یہ ہے کہ ملکی وزیر خزانہ نے قومی ٹیکس سسٹم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ بیرونی کنسلٹنٹس بھی ہیں، جو ہمارے ہاں زمینی حقائق کو نہیں سمجھتے۔ لیکن ہم انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔‘‘
پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں ثالثی پر بھارت ناراض کیوں؟
قیصر بنگالی اور ڈاکٹر ندیم الحق دونوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دوبارہ امریکی ایرانی امن مذاکرات ہوں، اور وہ کامیاب بھی رہیں، تو بھی عملی سطح پر پاکستان کو پہنچنے والا واحد فائدہ وہی ہو گا جو پوری دنیا کو بھی ہو گا، یعنی تیل کی قیمتیں کم ہو سکیں گی۔ ان کے مطابق دوسری صورت میں پاکستان کو شاید باقی ماندہ دنیا سے زیادہ اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادارت: مقبول ملک