پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت کی سفارتی محاذ پر دوہری کاوشیں
20 اپریل 2026
پاکستان کی طرف سے ایران جنگ میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی براہ راست امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی جا چکی ہے، جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا، لیکن اسلام آباد حکومت نے تہران اور واشنگٹن کو کسی جنگ بندی ڈیل تک لانے کے لیے اپنی جو مسلسل سفارتی کاوشیں جاری رکھیں، یہ انہی کا ثمر ہے کہ اب پاکستانی دارالحکومت میں ہی امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست امن مکالمت کا ایک نیا دور ہونے والا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ کی تازہ کارروائی کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان
اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ میں تہران کی طرف سے اسرائیل پر اور خلیجی عرب ریاستوں میں امریکی عسکری اور اقتصادی مفادات پر جو جوابی حملے کیے جاتے رہے، انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جنگ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں بدل دیا تھا۔
فوجی اور سیاسی قیادت میں فرائض کی تقسیم
پاکستان میں وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے خطے میں جنگ بند کروانے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو کم وقت میں زیادہ نتیجہ خیز بنانے کے لیے اسلام آباد نے اپنے سیاسی مذاکراتی ہدف کے طور پر مشرق وسطیٰ کے خطے کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا تھا۔
امریکی مذاکرات کار پاکستان جا رہے ہیں، ٹرمپ
ایک طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر تین روزہ دورے پر ایران گئے، جہاں انہوں نے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں اور ایران کو اس بات کا قائل کرنے کی مسلسل کاوشیں کیں کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لوٹ آنا چاہیے۔
دوسری طرف پاکستان کی سیاسی حکومت کے سربراہ کے طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اس لیے خطے کے تین دوست ممالک کے کئی روزہ دورے پر روانہ ہو گئے کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی جا کر ان علاقائی طاقتوں کو قائل کر سکیں کہ وہ بھی واشنگٹن اور تہران کے مابین امن مذاکرات کے نئے دور کے انعقاد کو ممکن بنانے میں مدد کریں۔
پاکستانی سفارت کاری میں تیزی لیکن امریکہ اور ایران میں تناؤ برقرار
ساتھ ہی شہباز شریف کے اس دورے کا مقصد یہ بھی تھا کہ خلیجی عرب ممالک میں ایران جنگ میں تہران کے اب تک کے رویوں سے متعلق پائے جانے والے عدم اطمینان اور خدشات کو بھی دور کیا جا سکے۔
مربوط اور 'جڑواں‘ دورے
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے ان حالیہ غیر ملکی دوروں کے بارے میں اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں بیرونی دورے دراصل ایسے مربوط لیکن جڑواں دورے تھے، جو اس بات کا ثبوت بھی تھے کہ پاکستان میں حکومت کے ساتھ مل کر عسکری قیادت بھی جو مسلسل سیاسی مذاکراتی کوششیں کر رہی ہے، جس کے لیے ماہرین اکثر 'ہائبرڈ رجیم‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، وہ پاکستانی نقطہ نظر سے بہت مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
سعودی عرب میں پاکستانی فوج: خطرات اور سوالات
اس بارے میں اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک نیشنل ڈائیلاگ فورم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شہریار خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ہی مقصد کے لیے توانائیوں کو دو ذیلی سمتوں میں بیک وقت لیکن باہم مربوط انداز میں استعمال کرنے کے باقاعدہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ: شہباز شریف کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات
شہریار خان نے کہا، ''توانائیوں کے اس مربوط استعمال سے حاصل ہونے والے نتائج کو مزید آگے تک لے جانے کے لیے ان کی رفتار میں اضافہ ضروری ہے۔‘‘
نئے امن مذاکرات کے لیے عاصم منیر کے دورہ ایران کی اہمیت
ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ''اس طرح کے حالات میں فیصلہ کرنے والی طاقت ملک کی سیاسی قیادت نہیں ہوتی، بلکہ یہ کام فوجی لیڈرشپ کرتی ہے۔‘‘
پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں ثالثی پر بھارت ناراض کیوں؟
اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں 11 اپریل ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ نمائندوں کے مابین جو تاریخی مذاکرات ہوئے، ان کے دوران کمرے میں موجود پاکستانی ثالثوں میں سے ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تھے۔
اس اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ اسلام آباد امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورہ ایران نے بہت اہم کردارا دا کیا۔
ایران جنگ سے کس کو برتری ملی، کس کا اثر و رسوخ کم ہوا؟
''معاہدہ تقریباﹰ ہو چکا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی وہ واحد شخصیت ہیں، جو ایرانی قیادت کو کوئی ڈیل طے کر لینے کا قائل کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت زیادہ اعتماد ہے۔‘‘
ادارت: جاوید اختر