برلن میں تقریباً 40 لاکھ کلوگرام آلو مفت تقسیم
25 جنوری 2026
تقریباً 40 لاکھ کلوگرام آلو، صاف ستھرے، ٹھنڈی اور خشک جگہ پر محفوظ، استعمال کے لیے بالکل تیار مگر پھر بھی ان کے ضائع ہو جانے کا خطرہ تھا۔ جرمنی کے صوبے سیکسنی میں ایک فارم پر آلوؤں کی فصل پڑی رہ گئی تھی، جو ایک تاجر نے آرڈر کی تھی۔ اس سال غیر معمولی طور پر زیادہ پیداوار کی وجہ سے مارکیٹ میں آلو کی قیمتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں تاجر کے لیے انہیں بیچنا منافع بخش نہ رہا۔
مالی معاملات طے پا چکے تھے مگر آلو اسٹوریج میں پڑے رہ گئے۔ یہ تمام پیداوار ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سرچ انجن ایکوشیا اور اخبار برلینر مورگن پوسٹ نے مل کر ایک مشترکہ اقدام شروع کیا اور اب یہ آلو مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
یہ آلو شہر لائپزگ کے جنوب میں واقع ''اوسٹر لانڈ اگرار جی ایم بی ایچ‘‘ کے فارم سے آ رہے ہیں۔ ایکوشیا ٹرانسپورٹ کے اخراجات اٹھا رہی ہے، جبکہ برلینر مورگن پوسٹ تقسیم کے انتظامات میں مدد دے رہی ہے۔
تقسیم کا عمل جنوری 2026ء کے وسط سے شروع ہو چکا ہے۔ برلن کے عوام انہیں مختلف مقامات، جیسے کہ اسکولوں، کالجوں اور سماجی تنظیمیں کے دفاتر سے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔
جرمنی میں آلوؤں سے محبت
جرمنی یورپی یونین میں آلوؤں کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ بعض اوقات جرمنوں کو طنزیہ طور پر 'کارٹوفِل‘ یعنی آلو کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ آلو جرمن ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ جرمنی میں آلوؤں کو مختلف انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے سادہ، ابال کر، فرائز کے طور پر، بطور سلاد، سوپ اور روایتی کھانوں میں بھی۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جنگوں اور قحط کے دوران جرمنوں کی غذائی ضروریات آلو ہی پوری کرتے آئے ہیں۔ یہ غذائی تحفظ، سادگی اور روزمرہ کی خوراک کی علامت بھی ہیں۔
آلو اور ٹماٹر کی تو پرانی رشتہ داری نکل آئی
تاہم یہ اقدام نہ صرف خوراک کے ضیاع کو روک رہا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جرمن معاشرے میں آلو کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور جب ضرورت پڑے تو انہیں بچانے کے لیے اجتماعی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔
ادارت: افسر اعوان