1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برلن میں دیو ہیکل فش ایکویرئیم پھٹنے سے سینکڑوں مچھلیاں ہلاک

16 دسمبر 2022

ایکویرئیم کے شیشے ٹوٹ کر لگنے سے دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ یہاں مختلف اقسام کی 1500 مچھلیاں رکھی گئی تھیں۔ حادثے کے بعد ہوٹل کو مہمانوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4L4BH
Deutschland I Riesenaquarium in Berliner Hotel geplatzt
تصویر: Iva Yudinski/tnn/instagrampicture alliance

جرمن دارالحکوت برلن کے ایک ہوٹل میں نصب دیو ہیکل فش ایکویرئیم  کے ٹوٹنے سے کم ازکم دو افراد زخمی ہو گئے۔جرمن ریسکیو سروسز نے جمعے کے روز بتایا کہ برلن کے مرکز میں واقع ایک ہوٹل میں 16 میٹر بلند اس ایکویرئیم کے چٹخنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

Deutschland I Riesenaquarium in Berliner Hotel geplatzt
16 میٹر بلند اس ایکویئریم کودیکھنے بڑی تعداد میں لوگ یہاں کا رخ کرتے تھےتصویر: Jörg Carstensen/dpa/picture alliance

جرمن دارالحکومت میں واقع ریڈیسن بلیو ہوٹل میں اس حادثے  سے نمٹنے کے لیے ایک سو سے زیادہ ہنگامی امدادی کارکنوں کو بلایا گیا تھا۔

برلن فائر بریگیڈ نے ٹوئٹر پر لکھا، ''ایکویرئیم کو نقصان پہنچا ہے، پانی رِس رہا ہے۔ اس وقت صورتحال واضح نہیں ہے۔‘‘

جبکہ برلن پولیس نے ٹویٹ کیا، ''ناقابل یقین آبی حیات کے نقصان کے علاوہ شیشے کے ٹوٹنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔‘‘

 اب تک کیا ہوا؟

 پولیس کے ایک مقامی ترجمان نے مقامی پبلک براڈکاسٹر آر بی بی کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر ایک بہت زور دار آواز آئی اور ہوٹل کے ایکویرئیم والے حصے  اڑ  کر سڑک پر جا لگے۔‘‘

برلن کی ٹریفک ایجنسی'وز‘ نے کہا کہ پانی کی ایک بہت بڑی مقدار باہر سڑک پر بہہ گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر ملبے سے بھرے ہوئے علاقے کوگھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ ہوٹل والی گلی کو بند کر دیا گیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی نامہ نگار اینا سراستے نے جمعہ کی صبح ٹویٹ کیا، ''ریڈیسن ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تمام 400 مہمانوں کو نکال لیا گیا ہے۔ وہ برلن کے کسی اور ہوٹل میں لے جائے جانے کے منتظر ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا ،''پولیس ابھی تک اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ ایکویرئیم کے ٹوٹنے کی وجہ کیا ہے، فی الحال وہ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی مجرمانہ فعل تھا۔‘‘

Deutschland I Riesenaquarium in Berliner Hotel geplatzt
ایکویئریم سے پانی بہ جانے کے بعد تمام مچھلیاں بھی مر گئیںتصویر: Christoph Soeder/dpa/picture alliance

جرمن دارالحکومت میں باہر کے موسم کا درجہ حرارت حالیہ دنوں میں گر گیا ہے اور جمعہ کی صبح کا اندازہ تقریباً منفی سات ڈگری سینیٹی گریڈ تھا۔

 مردہ مچھلیاں

ہوٹل کے دو مہمانوں کیرن وکی اور سانڈرا ہوفمان نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اندر سے ہر چیز تباہ ہو چکی ہے، ''وہاں مردہ مچھلیاں ہیں۔ سارا فرنیچر تباہ ہو گیا ہے۔ کھڑکیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ ہر طرف کرچیاں بکھری  ہیں۔‘‘ ہوٹل کے ایک اور نوجوان مہمان نے کہا، ''آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر چیز بکھر گئی تھی۔‘‘ 

Deutschland I Riesenaquarium in Berliner Hotel geplatzt
ایک سو سے زیادہ فائر فائٹرز نے حادثے کے بعد نقصان سے نمٹنے میں مدد دیتصویر: Christoph Soeder/dpa/picture alliance

'دنیا کا سب سے بڑا فری اسٹینڈ سلنڈریکل ایکویرئیم‘

 ''ڈوم ایکواری‘‘ عمارت برلن کیتھیڈرل سے صرف 350 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس میں سی لائف ایکویرئیم کے ساتھ نام نہاد ایکوا ڈوم  بھی ہے۔ یہ ایک بڑا ٹینک ہے جو تقریباً 1,500 انواع اقسام کی مچھلیوں کا گھر تھا۔ یہاں ایکویرئیم ایک ملین لیٹر سمندری یاکھارے پانی سے بھرا ہوا تھا، جو کہ 1000 میٹرک ٹن وزنی پانی کے برابر تھا۔

DomAquaree ویب سائٹ کے مطابق ایک مقبول سیاحوں کی توجہ کا مرکز AquaDom ''دنیا کا سب سے بڑا فری اسٹینڈنگ سیلنڈریکل ایکویرئیم‘‘ ہے۔ ایکویرئیم میں میں 10 منٹ کی لفٹ  سے سواری یہاں کی خاص باتوں میں سے ایک تھی۔

 ش ر ⁄ ش ح (روئٹرز، ڈی پی اے ایف پی )