1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بنگلہ دیشی انتخابات میں جماعت اسلامی کی پوزیشن کتنی مضبوط؟

شکور رحیم روئٹرز
10 جنوری 2026

انتخابی تجزیوں کے مطابق جماعت اسلامی آئندہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اب تک کی اپنی مضبوط ترین انتخابی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں ہے۔

https://p.dw.com/p/56Cvd
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی تقریباً 17 برس بعد اپنے پہلے قومی انتخابی عمل میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہے
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی تقریباً 17 برس بعد اپنے پہلے قومی انتخابی عمل میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہےتصویر: Privat/DW

بنگلہ دیش میں ایک عشرے سے زائد عرصے تک پابندی کا شکار رہنے والی مذہبی و سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے قائدین نے آئندہ انتخابات کے بعد ممکنہ طور پر وجود میں آنے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

انتخابی تجزیوں کے مطابق جماعت اسلامی آئندہ  فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اب تک کی  اپنی مضبوط ترین  انتخابی کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں ہے۔ اس کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ  بات چیت کا عمل جاری رکھا ہوا  ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا وفد ملک کے عبوری حکمران ڈاکتر یونس سے ملاقات کر رہا ہے
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا وفد ملک کے عبوری حکمران ڈاکتر یونس سے ملاقات کر رہا ہے تصویر: Bangladesh CA Press Wing

یہ بات جماعت اسلامی بنگلہ دیش  کے سربراہ شفیق الرحمان نے خبر رساں اداے روئٹرز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں بتائی۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق جماعت اسلامی تقریباً 17 برس بعد اپنے پہلے قومی انتخابی عمل میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے بعد دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہے، جس کے ساتھ وہ 2001 سے 2006 تک بطور جونیئر اتحادی جماعت اقتدار میں بھی رہ چکی ہے۔

جماعت اسلامی 175 ملین کی آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں مرکزی دھارے کی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے۔

جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے ڈھاکہ کے ایک رہائشی علاقے میں اپنے دفتر میں انٹرویو دیتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ وہ کم از کم پانچ سال کے لیے ملک میں استحکام دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوں تو حکومت مشترکہ طور پر چلائی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول نوجوان نسل کی ایک جماعت کے ساتھ اتحاد کے بعد جماعت اسلامی کے گرد سیاسی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا اشارہ شیخ حسینہ کی معزولی کی قیادت کرنے والے طلبا پر مشتمل نو قائم شدہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی جانب تھا۔

جماعت اسلامی نے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیشی کی انتخابی سیاست میں ایک بار پھر فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے
جماعت اسلامی نے شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیشی کی انتخابی سیاست میں ایک بار پھر فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہےتصویر: Privat/DW

جماعت اسلامی شریعت کے تحت اسلامی نظام حکومت کی حامی ہے، تاہم اس نے اپنی قدامت پسند بنیاد سے آگے بڑھ کر ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات مستقبل کی کسی بھی مخلوط حکومت کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا انتخاب سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کرے گی اور اگر جماعت اسلامی سب سے آگے رہی تو یہ طے کیا جائے گا کہ آیا وہ خود امیدوار ہوں گے یا نہیں۔

'عوامی لیگ آؤٹ، جماعت اسلامی اِن‘

اس جماعت کی سیاسی بحالی اگست 2024 میں طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ممکن ہوئی، جب نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں وہ اقتدار سے ہٹ گئیں۔ عوامی لیگ، جس کی قیادت شیخ حسینہ کر رہی تھیں، اب انتخابات میں حصہ لینے سے محروم ہے۔

حسینہ جماعت اسلامی کی سخت ناقد رہی ہیں اور ان کے دور میں جماعت کے کئی رہنماؤں کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران مبینہ جنگی جرائم   کے باعث سزائے موت سنائی گئی تھی، ایک ایسی جنگ جس کی جماعت اسلامی نے مخالفت کی تھی۔

بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم حسینہ واجد بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں
بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم حسینہ واجد بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیںتصویر: REUTERS

جماعت اسلامی پر 2013ء میں اس وقت انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جب ایک عدالت نے اس کے منشور کو ملکی سیکولر آئین کے منافی قرار دیا تھا۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری ملکی حکومت نے اگست 2024ء میں جماعت پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی تھیں۔

شیخ حسینہ کا بھارت میں قیام باعث تشویش

بھارت اور پاکستان سے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا، ''شیخ حسینہ کا اقتدار چھوڑنے کے بعد بھارت میں قیام تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ان کی معزولی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں کی اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ  بھارت، جو خطے کی ایک بڑی طاقت ہے، نے حسینہ کے دور میں بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی اور کاروباری تعلقات کو فروغ دیا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس سال کے آغاز میں ان کی ایک بھارتی سفارتکار سے ملاقات ہوئی تھی تاہم بھارتی اہلکار نے اس ملاقات کو خفیہ رکھنے کی درخواست کی تھی۔ شفیق الرحمان کے مطابق بنگلہ دیش کو تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کھلے اور متوازن انداز میں رکھنا چاہییں۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اس بیان پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا، تاہم بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔

نئی دہلی میں ڈھاکہ اور اسلام آباد کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش پائی جاتی ہے
نئی دہلی میں ڈھاکہ اور اسلام آباد کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش پائی جاتی ہےتصویر: Pakistan's Press Information Department/AFP

پاکستان کے ساتھ تاریخی تعلقات

پاکستان سے جماعت اسلامی کے تاریخی تعلقات کے بارے میں سوال پر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا چاہتی ہے اور کسی ایک ملک کی طرف جھکاؤ اس کی پالیسی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی حکومت کا حصہ بنی ، تو وہ صدر محمد شہاب الدین کے ساتھ خود کو ''آرام دہ‘‘ محسوس نہیں کرے گی۔

شہاب الدین 2023 ء میں عوامی لیگ کی حمایت سے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے تھے اور وہ پہلے ہی روئٹرز کو بتا چکے ہیں کہ وہ اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی مستعفی ہونے پر آمادہ ہیں۔

بدھ کو روئٹرز سے ٹیلی فون پر گفتگو میں صدر شہاب الدین نے شفیق الرحمان کے موقف پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہتے۔

ادارت: مقبول ملک

بنگلہ دیش میں دائیں بازو کے مذہبی گروہ طاقت جمع کر سکتے ہیں کیا؟

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں