1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے پر غور

جاوید اختر ، نئی دہلی
30 جنوری 2026

بھارت کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی پر عمر کی بنیاد پر حدود مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تجویز میٹا اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے لیے بھارت میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/57jN4
سوشل میڈیا
بھارتی ریاستیں، آندھرا پردیش اور گوا نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے سلسلے میں فریم ورک نوٹیفائی کر دیا ہےتصویر: Hollie Adams/REUTERS

بھارتی پارلیمان میں گزشتہ روز پیش کردہ اقتصادی جائزہ رپورٹ 2025-26 میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال اور انہیں ہدف بنا کر نشر کیے جانے والی ڈیجیٹل اشتہارات پر عمر کی بنیاد پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سفارش کی بنیاد نوجوان صارفین میں بڑھتی ہوئی 'ڈیجیٹل لت‘ سے متعلق خدشات ہیں۔

اگر حکومت بھارت کے چیف اکنامک ایڈوائزر کی اس تجویز پر عمل کرتی ہے تو بھارت ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا، جو بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں خاص طور پر آسٹریلیا کی مثال دی گئی ہے، جہاں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ تجویز میٹا اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے لیے بھارت میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، جو دنیا میں ان کی سب سے بڑی صارفین کی منڈی ہے۔

بھارت انٹرنیٹ صارفین
ستمبر 2025 تک بھارت میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً 1.02 ارب ہو چکی تھی، جو 2014 میں تقریباً 25 کروڑ تھیتصویر: Javed Akhtar/DW

بھارت میں انٹرنیٹ صارفین

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں تمام شہروں اور 95 فیصد دیہاتوں کو انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی حاصل ہے۔ روئٹرز کے مطابق ستمبر 2025 تک بھارت میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً 1.02 ارب ہو چکی تھی، جو 2014 میں تقریباً 25 کروڑ تھی۔ یہ ملک دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ ہے، جہاں تقریباً 75 کروڑ ڈیوائسز موجود ہیں۔

 ’ڈیٹا ریپورٹل‘ نامی ریسرچ کے ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں 50 کروڑ منفرد سوشل میڈیا صارفین ہیں۔

اگرچہ الفابیٹ اور میٹا مختلف ممالک میں اپنے صارفین سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کرتے، مگر ڈیٹا پورٹل کے مطابق بھارت میں یوٹیوب کے صارفین تقریباً 50 کروڑ، فیس بک کے 40.3 کروڑ، انسٹاگرام کے 48.1 کروڑ اور اسنیپ چیٹ کے 21.3 کروڑ صارفین ہیں۔ ایکس کے صارفین تقریباً 2.2 کروڑ ہیں۔

بھارتی پارلیمان
بھارتی پارلیمان میں پیش کی گئی رپورٹ میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال اور انہیں ہدف بنا کر نشر کیے جانے والی ڈیجیٹل اشتہارات پر عمر کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرنے تجویز دی گئی ہےتصویر: AP Photo/picture alliance

دو ریاستوں میں فریم ورک نوٹیفائی

کم از کم دو بھارتی ریاستیں، آندھرا پردیش اور گوا، بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی پر شدت سے غور کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں فریم ورک نوٹیفائی کر دیا ہے۔

بھارت کے ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو خدمات فراہم کرنے والی ٹیک کمپنیوں کو والدین کی اجازت لینا لازمی ہو گی۔ اس کے علاوہ بچوں کے  رویوں کی نگرانی اور انہیں ہدف بنا کر نشر کیے جانے  والے اشتہارات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

یہ فریم ورک نوٹیفائی ہو چکا ہے مگر ابھی نافذ نہیں ہوا ہے۔

آندھرا پردیش کے انفارمیشن ٹیکنالوجی وزیر نارا لوکیش کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اعتماد 'ٹوٹ رہا ہے‘ اور خبردار کیا کہ 'بچے بے لگام استعمال کی طرف جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے  اور بتایا کہ حکام نے عمر کے مطابق رسائی کا ضابطہ نافذ کرنے کے لیے قانونی طریقہ کار ترتیب دینے کے لیے مطالعہ شروع کر دیا ہے۔

لوکیش نے کہا کہ آندھرا پردیش کی حکومت نے میٹا، گوگل، ایکس اور اسنیپ چیٹ سمیت بڑے پلیٹ فارمز کو 'عالمی بہترین طریقہ کار‘ پر بات چیت اور جائزہ لینے کے لیے مدعو کیا ہے۔

سوشل میڈیا کے ذہنی صحت پر اثرات، میٹا کیا چھپا رہی ہے؟

تجویز میں کیا کہا گیا ہے؟

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق چیف اکنامک ایڈوائزر کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ عمر کی بنیاد پر رسائی کی حدود پر غور کیا جانا چاہیے کیونکہ کم عمر صارفین استعمال اور نقصان دہ مواد کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ پلیٹ فارمز، خاص طور پر سوشل میڈیا، جوئے کی ایپس، آٹو پلے فیچرز اور عمر کو مدنظر رکھ کر کی جانے والی اشتہاربازی کو، عمر کی تصدیق اور عمر کے مطابق ڈیفالٹ سیٹنگز نافذ کرنے کا ذمہ دار بنایا جانا چاہیے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کے لیے سادہ ڈیوائسز جیسے بنیادی موبائل فون یا صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ٹیبلٹس کو فروغ دیا جائے، ساتھ ہی استعمال کی حدیں اور مواد کے فلٹرز نافذ کیے جائیں۔ اس سے بچوں کو تشدد، جنسی یا جوئے سے متعلق نقصان دہ مواد سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ معاملہ عدالتی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ مرکز کو مشورہ دیا کہ وہ آسٹریلیا جیسی قانون سازی پر غور کرے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہو۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈیجیٹل پالیسی ماہرین نے پابندی عائد کرنے کے سلسلے میں احتیاط برتنے پر زور دیا۔ ڈیجیٹل فیوچرز لیب سے وابستہ ڈونا میتھیو نے ایک بیان میں جلد بازی میں قانون سازی کے خلاف خبردار کیا۔

انہوں نے کہا،''پابندیوں پر سوچ سمجھ کر، مضبوط قانونی بنیادوں کے ساتھ عمل ہونا چاہیے اور بچوں کے حقوق کے ماہرین سے مشاورت ضروری ہے۔‘‘

میتھیو نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں کے لیے خاص طور پر ذہنی صحت اور جنسی صحت جیسے موضوعات پر معلومات کے اہم ذرائع ہیں، جو بھارت میں آف لائن آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔

میتھیو کے مطابق آسٹریلیا کا قانون والدین یا بچوں کے بجائے پلیٹ فارمز کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جس سے عمر کو مد نظر رکھ کر بنائے جانے والے اشتہارات کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے بھارت میں ممکنہ قانونی تضادات کی نشاندہی کی، خاص طور پر عمر کی تصدیق کے نظام سے متعلق، کیونکہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت بچوں کے ڈیٹا کی پروفائلنگ اور پراسیسنگ پر پابندیاں ہیں۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں سولہ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے گزشتہ ماہ نافذ کی گئی پابندی دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی پیشرفت ہے۔ وہاں اب 16 سال سے کم عمر بچے ٹک ٹاک، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور تھریڈز جیسی بڑی سروسز استعمال نہیں کر سکتے۔ 16 سال سے کم عمر بچے نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکتے اور ان کے موجودہ پروفائلز بھی غیر فعال کر دیے گئے ہیں۔

ادارت: شکور رحیم

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔