1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولبھارت

بھارت میں گیس بحران کا متبادل حل: گوبر سے بنی بائیو گیس

جاوید اختر اے ایف پی کے ساتھ
1 مئی 2026

بھارت میں ہندوؤں کے لیے مقدس جانور گائے کا گوبر زمین لیپنے، ایندھن اور مذہبی رسومات سمیت کئی کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی گوبر اب بائیو گیس کی شکل میں بطور متبادل ایندھن توانائی بحران سے نمٹنے میں بھی مدد کر رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5D81y
بھارت میں دریائے گنگا کے کنارے ایک خاتون گائے کی پوجا کر رہی ہے
بھارت میں ہندو گائے کو انتہائی مقدس سمجھتے ہیںتصویر: Rajesh Kumar Singh/AP Photo/picture alliance

ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے باعث بھارت کے کئی حصوں میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والی مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے سلنڈرز بھروانے کے لیے لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں۔ لیکن گوری دیوی کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کے پاس اس کا قابل استعمال متبادل موجود ہے۔

نیلے شعلوں والے چولہے پر وہ روٹی بنا رہی ہیں، جو گائے کے گوبر سے بنائی گئی بائیو گیس سے جل رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک متبادل ایندھن ہے جو گیس کی سپلائی پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

نئی دہلی سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ریاست اتر پردیش میں ضلع بلند شہر کے گاؤں نیک پور میں اپنے صحن کے باورچی خانے میں موجود 25 سالہ گوری بتاتی ہیں، ''اس چولہے پر ہر چیز پک جاتی ہے، اگر پریشر کم ہو جائے تو ہم اسے آدھا گھنٹہ آرام دیتے ہیں اور یہ دوبارہ کام کرنے لگتا ہے۔‘‘

بھارت میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سالانہ کھپت تین کروڑ ٹن سے زیادہ ہے، جس کی نصف سے زیادہ مقدار درآمد کی جاتی ہے۔

حکومت کا اصرار ہے کہ کھانا پکانے کے لیے گیس کی کوئی کمی نہیں، لیکن سپلائی میں تاخیر، گھبراہٹ میں خریداری اور بلیک مارکیٹ نے سلنڈر بھروانے والوں کی طویل قطاریں پیدا کر دی ہیں۔

تاہم 1980 کی دہائی سے بھارت بائیو گیس کو ایک کم لاگت دیہی توانائی کے ذریعے کے طور پر فروغ دیتا آ رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے 50 لاکھ سے زائد 'ڈائجسٹر‘ یونٹس پر سبسڈی بھی دی گئی ہے، جو مویشیوں کے اور زرعی فضلے کو میتھین گیس میں تبدیل کرتے ہیں تاکہ کھانا پکایا جا سکے، جبکہ نائٹروجن سے بھرپور ایسا باقی فاضل مادہ کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

گوری چند بالٹیاں گوبر پانی کے ساتھ ملا کر ایک گاڑی کے سائز کے زیر زمین ٹینک میں ڈال دیتی ہیں، جس کے اوپر گیس ذخیرہ کرنے کے لیے ایک غبارہ نما حصہ ہوتا ہے۔ یہ سسٹم انہیں اتنی میتھین گیس فراہم کر دیتا ہے کہ وہ صرف ہنگامی حالات یا کسی تقریب کے وقت ہی ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتی ہیں۔

ایک شخص چھوٹے سے بایو گیس پلانٹ پر کام کر رہا ہے
بھارت نے 2070 تک کاربن نیوٹریلیٹی حاصل کرنے کے ہدف کے لیے بڑے پیمانے پر بائیو گیس کی پیداوار کو فروغ دیا ہےتصویر: DW

’کالا سونا‘

باقی بچنے والا گاڑھا مادہ بعد میں کھیتوں میں کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کسانوں کے مطابق اس میں عام گوبر کے مقابلے میں پودوں کے لیے نائٹروجن زیادہ مؤثر انداز میں دستیاب ہوتی ہے۔

کسان پرمود سنگھ نے کہا، ''یہ کھاد بہت عمدہ ہے۔‘‘ انہوں نے 2025 میں ایک بڑا یونٹ نصب کیا، جو چھ افراد کے لیے کھانا پکانے کی خاطر گیس کے مناسب حصول کے لیے کافی ہے۔ یہ یونٹ چار گائیوں سے حاصل ہونے والے روزانہ 30 سے 45 کلوگرام تک گوبر سے چلتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مائع کھاد خاص طور پر اس وقت بہت قیمتی ہے جب جنگ کے باعث تجارتی رکاوٹوں کی وجہ سے مصنوعی کیمیائی کھادوں کی عالمی سپلائی متاثر ہو چکی ہے۔

مقامی کسان رہنما پریتم سنگھ کا کہنا تھا، ''اصل فائدہ صرف گیس نہیں ہے، وہ تو ایک طرح سے بونس ہے۔ یہ گاڑھا مادہ ہی کالا سونا ہے۔‘‘

بھارت نے 2070 تک کاربن نیوٹریلیٹی حاصل کرنے کے ہدف کے لیے بڑے پیمانے پر بائیو گیس کی پیداوار کو فروغ دیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ سال یہ لازمی قرار دیا تھا کہ بائیو گیس کم از کم ایک فیصد مائع ایندھن کا حصہ بنے، جو گاڑیوں اور گھریلو استعمال دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ شرح 2028 تک بڑھا کر پانچ فیصد کی جائے گی۔

اب کروڑوں ڈالر مالیت کے درجنوں بڑے پیداواری پلانٹس منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں۔ لیکن چھوٹے پیمانے پر دیہی سطح پر بھی یونٹس متعارف کرائے جا رہے ہیں،جن کی قیمت تقریباً 25,000 سے 30,000 روپے (265 سے 318 ڈالر) تک ہوتی ہے، اور اکثر ان پر حکومت کی جانب سے بھاری سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔

پریتم سنگھ کہتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جو ہندو اکثریتی ہے اور گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور جہاں گوبر اور پیشاب کو کچا زمینی فرش لیپنے، ایندھن اور مذہبی رسومات سمیت مختلف کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے، وہاں اس منصوبے کے لیے حمایت حاصل کرنا آسان ہے۔

انہوں نے اپنا پہلا پلانٹ 2007 میں لگایا تھا اور صرف گزشتہ ایک سال میں ہی اپنے گاؤں میں مزید 15 ایسے یونٹس لگانے میں مدد بھی کی۔

ان کے مطابق ایل پی جی کی کمی کے بعد بائیو گیس میں دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ''جو لوگ پہلے دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اب پوچھتے ہیں کہ اسے کیسے حاصل کیا جائے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس سے کھانا پک رہا ہے اور فصلوں کو فائدہ ہو رہا ہے، تو وہ قائل ہو جاتے ہیں۔‘‘

ایک کسان گائے کا گوبر اکٹھا کر رہا ہے تاکہ اس سے بایوگیس تیار  کرسکے
بھارت میں بایوگیس پلانٹ لگانے کے لیے حکومت بھاری سبسڈی بھی دیتی ہےتصویر: Maxwell Suuk/DW

’چھوٹی فیکٹریاں‘

تاہم بائیو گیس اب بھی گھروں میں کھانا پکانے کے لیے ایندھن کا ایک چھوٹا حصہ ہے، جبکہ ایل پی جی کو زیادہ سہل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی سپلائی چین کمپنیوں کے ذریعے منظم ہوتی ہے۔

انڈین بائیو گیس ایسوسی ایشن کے صدر اے آر شکلا نے کہا، ''بائیو گیس پلانٹس صرف آلات نہیں ہیں، یہ چھوٹی فیکٹریاں ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ان کے لیے منظم تنصیب، باقاعدہ آپریشن اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا جب تک ان کی تنصیب اور دیکھ بھال کمیونٹی یا کوآپریٹیو اداروں کے ذریعے نہ کی جائے، گھریلو صارفین بائیو گیس کو ثانوی ایندھن ہی سمجھتے رہیں گے۔‘‘

حکومتی مدد کے باوجود اس کے استعمال میں کئی رکاوٹیں بھی موجود ہیں، جن میں لاگت اور جگہ کی کمی بھی شامل ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔