آلودگی: عالمی کھلاڑی کا دہلی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے سے انکار
15 جنوری 2026
ڈنمارک کے دو عالمی بیڈمنٹن کھلاڑیوں کے حالیہ بیانات سے نہ صرف دہلی میں جاری انڈیا اوپن چمپیئن شپ بلکہ بھارت کے قومی دارالحکومت میں آلودگی اور حفظان صحت کا معاملہ بھی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔
بھارتی روزنامے ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق چار مرتبہ بیڈمنٹن ورلڈ چیمپئن شپ کے فاتح اور عالمی نمبر تین ڈنمارک کے کھلاڑی اینڈرز اینٹونسن نے دہلی میں فضائی آلودگی کے باعث اس ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے، جبکہ ان کی ہم وطن کھلاڑی میا بلیچفیلڈٹ نے صفائی اور حفظانِ صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب بھارت 1936 کے اولمپکس کھیلوں کی میزبانی کی دعویداری پیش کر رہا ہے۔
اینٹونسن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مقابلے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) نے ان پر 5,000 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔
اینٹونسن نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹا گرام پرلکھا، ''بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ میں مسلسل تیسرے سال انڈیا اوپن سے کیوں دستبردار ہوا ہوں۔ اس وقت دہلی میں شدید آلودگی کی وجہ سے مجھے نہیں لگتا کہ یہ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے مناسب جگہ ہے۔ امید ہے کہ گرمیوں میں حالات بہتر ہوں گے جب دہلی میں ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہو گی۔ میرے فیصلے کے نتیجے میں ڈبلیو بی ایف نے ایک بار پھر مجھ پر 5,000 امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔‘‘
ڈبلیو بی ایف کے قوانین کے تحت 'ٹاپ کمیٹڈ پلیئرز‘، یعنی سنگلز کے ٹاپ15 کھلاڑی اور ڈبلز کی ٹاپ 10 جوڑیوں پر لازم ہے کہ وہ ورلڈ ٹور 750 اور 1000 ٹورنامنٹس اور ورلڈ ٹور فائنلز میں شرکت کریں، جب تک کہ انہیں چوٹ یا طبی بنیادوں پر استثنا حاصل نہ ہو۔
ایسا نہ کرنے کی صورت میں معیاری لیٹ ودڈرال (دیر سے دستبرداری) کی سزا کے علاوہ مزید جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔
ڈبلیو بی ایف کے قوانین کھلاڑیوں کو موقع پر ہونے والی تشہیری سرگرمیوں میں شرکت سے استثنا کی اجازت دیتے ہیں۔ موجودہ ورلڈ چیمپئن اور عالمی نمبر ایک شی یوچی نے بھی انڈیا اوپن چمپیئن سے دستبرداری اختیار کی، تاہم وہ تشہیری ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ایک دن کے لیے دہلی آئے۔
صفائی ستھرائی کے مسائل پر بھی اظہار تشویش
ڈنمارک کی میا بلیچفیلڈٹ نے ٹورنامنٹ کے مقام پر صفائی ستھرائی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مجھے امید تھی کہ (اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم کا) یہ ہال دوسرے ہال کے مقابلے میں بہتر ہوگا، لیکن یہ اب بھی بہت گندا ہے، تمام کھلاڑیوں کے لیے حالات واقعی غیر صحت مند ہیں۔ کل جب میں کورٹ پر آئی تو پرندے اُڑ رہے تھے اور گندگی پھیلا رہے تھے۔‘‘
تاہم بھارتی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
بھارتی حکام کا موقف
بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے سیکریٹری جنرل سنجے مشرا نے میا کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ''میا کے تبصرے عمومی کھیل کے حالات اور ذاتی صحت کی حساسیت کے وسیع تر تناظر میں تھے، نہ کہ خاص طور پر یونیکس-سن رائز انڈیا اوپن کے کھیل کے میدان کے بارے میں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مقابلے کے وینیو کو کافی اچھا رکھا گیا ہے۔ اور وہ شاید کے ڈی جادھو اسٹیڈیم کی بات کر رہی تھیں، جو ٹریننگ وینیو ہے، نہ کہ مرکزی کھیل کا میدان۔‘‘
انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا، ''ایک ایسے ایتھلیٹ کے طور پر جو گرد و غبار اور ماحولیاتی عوامل کے لیے زیادہ حساس ہیں، انہوں نے یہ ذاتی نقطۂ نظر پیش کیا کہ بعض اوقات حالات ان کی صحت پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کھیل کے میدان کو صاف، گرد و غبار سے پاک اور کبوتروں سے محفوظ رکھا گیا ہے، اور کئی کھلاڑیوں نے وینیو کی حالت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔‘‘
سابق عالمی نمبر ایک کادمبی سری کانتھ نے بھی اس تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مسائل صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
دریں اثنا بھارت کے سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 354 ریکارڈ کیا گیا، جو 'انتہائی خراب‘ کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں یہ سطح 300 سے بھی تجاوز کر گئی۔
ادارت: صلاح الدین زین