بھارت: کشمیر میں صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے کی مذمت
22 جنوری 2026
کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی جانب سے حالیہ طلبی اور ان سے ’امن برقرار رکھنے‘ کا حلف نامہ لینے کے واقعات پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا (ای جی آئی)، پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی)، کشمیر پریس کلب، دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے) اور متعدد دیگر صحافیوں کی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ فوراﹰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جمہوریت میں ایسے غیرمعمولی اقدامات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔
ڈی یو جے کی صدر سجاتا مدھوک نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پولیس کی جانب سے صحافیوں کو ان کی رپورٹس پر طلب کرنے اور دھمکانے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔
سجاتا مدھوک نے مزید کہا،’’ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر نشانہ بنانا بند کیا جائے۔ ہم ایڈیٹرز اور میڈیا مالکان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘
پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا بروا پشروتی نے پولیس کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'پولیس کا اقدام صحافیوں کی بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں صریح مداخلت ہے۔‘
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’چار دنوں تک پندرہ گھنٹے تک تھانے میں رکھنا اور ان سے بانڈ پر دستخط کروانا صحافیوں کو ہراساں کرنے کا واضح ثبوت ہے۔‘ پی سی آئی کی صدر نے مزید کہا کہ ایسے واقعات خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس سے صحافیوں کا آزادانہ کام کرنے کا ان کا آئینی حق متاثر ہوتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی مذمت
جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے بھی معمول کی رپورٹنگ پر سری نگر کے صحافیوں کو پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اس اقدام کو اظہار رائے میں حد سے زیادہ مداخلت اور صحافت کی آزادی کے لیے ایک چیلنج قرار دیا۔
خیال رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پولیس نے کم از کم تین صحافیوں سے، جو اس خطے میں کام کر رہے ہیں، تھانے میں طلب کیا۔ اور ان سے ایک حلف نامے پر دستخط کرنے کو کہا ہے، جس میں انہیں خطے میں ’’امن میں خلل نہ ڈالنے‘‘ کا وعدہ کرنا ہو گا۔
صحافیوں کی یہ طلبی اس وقت کی گئی جب انہوں نے اپنی رپورٹوں میں بتایا کہ کشمیر میں پولیس مساجد سے نمازیوں کی تعداد، انتظام، ان کی فنڈنگ اور بجٹ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت نے 2019 میں جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد مسلم اکثریتی اس متنازع علاقے میں کئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اور یہ قواعد وضع کیے ہیں کہ یہاں شورش سے متعلق خبروں کو کس طرح رپورٹ کیا جائے۔
تازہ معاملہ کیا ہے؟
روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے اپنے سری نگر بیورو کے صحافی اور ہاسسٹنٹ ایڈیٹر بشارت مسعود کو درپیش ہراسانی کی تفصیل شائع کی ہے۔ اخبار نے بتایا کہ مسعود کو چار دن تک شہر کے سائبر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا اور انہیں ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔
اخبار نے پہلے صفحے پر شائع رپورٹ میں لکھا، ’’مسعود، جو گزشتہ 20 سال سے سری نگر سے انڈین ایکسپریس کے لیے رپورٹنگ کر رہے ہیں، نے بانڈ پر دستخط نہیں کیے۔‘‘ انڈین ایکسپریس کے مطابق، پولیس نے مسعود کو طلب کرنے کی وجہ واضح طور پر نہیں بتائی، تاہم ایک افسر نے کہا کہ انہیں ان کی نیوز رپورٹ کے بعد طلب کیا گیا تھا۔
’ہندوستان ٹائمز‘ کے رپورٹر عاشق حسین کو بھی زبانی طلبی موصول ہوئی۔ لیکن اخبار نے کہا کہ ''ہم نے تحریری طلبی، وجوہات کے ساتھ، طلب کی تاکہ جواب دیا جا سکے۔‘‘
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دو دیگر صحافیوں کو بھی طلب کیا گیا تھا، تاہم ان میں سے ایک سفر میں تھے اور دوسرے پولیس اسٹیشن نہیں گئے۔ حساس نوعیت کے معاملے کی وجہ سے انہوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کیا۔
بھارت کے فوجداری قانون کے تحت پولیس افراد سے ایک پیشگی بانڈ طلب کر سکتی ہے تاکہ 'امن قائم رکھا جائے‘، چاہے ان افراد پر کوئی مجرمانہ الزام موجود نہ ہو۔
یہ کوئی نئی بات نہیں
کشمیر کے متعدد صحافیوں (جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) کا کہنا ہے کہ انہیں حیرت ہے کہ یہ معاملہ اب جا کر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس بار معاملہ اس لیے نمایاں ہوا کیونکہ وادی کے کچھ سرکردہ صحافیوں کو طلب کیا گیا۔ فری لانسرز صحافی تو پہلے ہی خدا کے رحم و کرم پر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر معمولی قسم کی رپورٹوں پر بھی طلب کیا جاتا ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کشمیر میں کسی سنجیدہ تحقیقاتی رپورٹ کی کوشش کرنے پر صحافی برادری میں کس قدر خوف پایا جاتا ہے۔‘‘
نیوز پورٹل ’نیوز لانڈری‘ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 25 کشمیری صحافیوں کو دھمکایا گیا۔
’نیوز لانڈری‘ نے مزید کہا کہ اگست 2019 میں نریندر مودی حکومت کے فیصلوں کے بعد ''گزشتہ چھ برسوں میں صحافیوں کے خاندانوں نے بھی نفسیاتی دباؤ کی قیمت چکائی ہے، جس کے باعث زیادہ تر صحافی خود سنسرشپ پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کچھ برسوں تک جیلوں میں رہے، کچھ اب بھی قید ہیں۔ کچھ کو سفر پر پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ چند خوف کے باعث پیشہ ہی چھوڑ گئے۔‘‘
سی پی جے کے ایشیا-پیسیفک پروگرام کے کوآرڈینیٹر کونال مجمدار کا کہنا تھا کہ ’’حکام کو صحافیوں کی ہراسانی بند کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی اپنے کام کرنے کے دوران کسی بھی غیر معقول پولیس کارروائی کا شکار نہ ہوں۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین