1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

90 سالہ خاتون کے کیس کی سماعت 20 سال بعد ہو گی، بھارتی عدالت

جاوید اختر ، نئی دہلی
29 اپریل 2026

ممبئی کی عدالت عالیہ نے ایک 90 سالہ خاتون کو ہدایت کی کہ وہ ہتک عزت کے اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے 20 سال انتظار کریں۔

https://p.dw.com/p/5D1NK
بامبے ہائی کورٹ کی عمارت
بھارتی ہائی کورٹس میں تقریباً 60 سے 65 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 93,000 سے زائد ہےتصویر: Anil Dave/Dinodia Photo/imago images

بھارت میں ممبئی کی عدالت عالیہکے جج، جسٹس جتیندر جین نے منگل کے روز ایک قانونی تنازعے کو 'انا کی جنگ‘ قرار دیا اور سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ''عدالتی نظام میں خلل‘‘ کا باعث بنا ہے۔ جسٹس جین نے حکم دیا کہ اس کیس کی اگلی سماعت 2046 کے بعد ہی کی جائے۔

یہ مقدمہ 2017 میں ترینیبین دیسائی (90) اور ان کی بیٹی دھوانی دیسائی (57) نے کلکلراج بھنسالی اور دیگر کے خلاف دائر کیا تھا۔

ترینیبین دیسائی، ایک معروف گجراتی ادیبہ ہیں اور ادب میں نمایاں خدمات کے لیے گجرات اور مہاراشٹر کے سرکاری ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی بیٹی دھوانی دیسائی، ایک اینیمیشن فلم میکر ہیں۔

یہ کیس 2015 میں شیام کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق ہے۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ان واقعات سے انہیں ذہنی اذیت اور تکلیف پہنچی، جس کے لیے انہوں نے 20 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کی عمارت، نئی دہلی
بھارت کا عدالتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور زیر التوا مقدمات کی تعداد 5.5 کروڑ (55 ملین) سے تجاوز کر گئی ہےتصویر: Sonu Mehta/Hindustan Times/IMAGO

’انا کی جنگ‘

جج جین نے کہا کہ یہ مقدمہ ان کیسز میں سے ایک ہے، جہاں فریقین کے درمیان انا کی جنگ عدالتی نظام کو جام کر دیتی ہے۔ نتیجتاً عدالت ان مقدمات کو نہیں سن پاتی جنہیں واقعی ترجیح کی ضرورت ہوتی ہے۔

عدالت نے پہلے تجویز دی تھی کہ معاملہ معافی کے ذریعے حل کر لیا جائے، لیکن پھر بتایا گیا کہ 90 سالہ مدعیہ مقدمہ جاری رکھنے پر بضد ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ مدعیہ ''سپر سینئر شہری‘‘ ہیں، کیس کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

اپنے حکم میں جج نے کہا، ''میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا، سوائے اس کے کہ اس معاملے کو آئندہ 20 سال تک نہ سنا جائے۔ اسے 2046 کے بعد کسی تاریخ پر سماعت کے لیے رکھا جائے۔‘‘

دیسائی خاندان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکلین اس حکم سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا، ''ہم یقینی طور پر اس حکم کو چیلنج کریں گے۔ ہم اپنے مؤکلین سے مشورہ کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘‘

بھارت میں ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد مقدمات زیر سماعت

بھارت کا عدالتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ زیر التوا مقدمات کی تعداد 5.5 کروڑ (55 ملین) سے تجاوز کر گئی ہے، جو انصاف کی فراہمی میں گہرے ساختی مسائل کو ظاہر کرتی ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا اور دیگر عدالتی ذرائع کے مطابق ان میں سے تقریباً 4.9 کروڑ مقدمات ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جو ملکی نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔

ہائی کورٹس میں تقریباً 60 سے 65 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 93,000 سے زائد ہے۔

اندازوں کے مطابق تقریباً 1.7 کروڑ مقدمات پانچ سال سے زائد عرصے سے حل طلب ہیں، جس سے عدالتی نظام کی موجودہ صورت کا حال کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔

دریں اثنا فریقین کے درمیان زندگی کے آخری مرحلے میں جاری "انا کی جنگ" قرار دیتے ہوئے ہتکِ عزت کے مقدمے کی سماعت 2046 تک ملتوی کرنے کے ایک دن بعد، ممبئی کی عدالت عالیہ  نے بدھ (29 اپریل 2026) کو اپنا حکم تبدیل کر دیا اور کیس کی سماعت اسی سال جولائی میں مقرر کر دی۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔