1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی عدالتوں میں خاموشی سے داخل ہوتی ہوئی مصنوعی ذہانت

جاوید اختر (مصنفین: دانش پنڈت، حنان ظفر)
9 اپریل 2026

عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی قانونی نظام میں موجود تعصب اور ساختی مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/5Bvmf
بھارتی سپریم کورٹ
صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کو خاموشی سے نظامِ انصاف کا حصہ بنایا جا رہا ہےتصویر: Sonu Mehta/Hindustan Times/IMAGO

جنوبی بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں زمین کے جھگڑے کا بظاہر ایک سادہ مقدمہ زیر غور تھا، جس پر جج نے چار قانونی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔ لیکن پتہ چلا کہ ان میں سے کوئی بھی نظیر حقیقت میں موجود نہیں تھی۔

یہ چاروں نظیریں ایک اے آئی ٹول نے تیار کی تھیں۔ ایسے فیصلے جو سننے میں بالکل حقیقی لگتے تھے، جن میں مقدمات کے نام اور قانونی دلائل بھی شامل تھے، مگر درحقیقت وہ مکمل طور پر فرضی تھے۔ یہ غلطی اس وقت سامنے آئی جب اپیل دائر کی گئی اور معاملہ بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔

عدالت عظمیٰ نے اسے محض ایک سادہ غلطی نہیں سمجھا اور اس معاملے پر بار کونسل آف انڈیا سمیت ملک کے اٹارنی جنرل اور سالیسیٹر جنرل پر 'بدانتظامی یا بدعملی‘ کے نوٹس جاری کر دیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کہاں تک جاتا ہے۔

تہاڑ جیل، دہلی
بھارت میں ذیلی عدالتوں سے لے کر عدالت عظمیٰ تک تقریباﹰ 55 ملین مقدمات زیر التوا ہیںتصویر: Saurabh Das/AP Photo/picture alliance

عدالت میں چیٹ جی پی ٹی

یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ایسی عدالتوں میں جو کہیں جدید اور کہیں شدید مالی قلت کا شکار ہیں، مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ نظام انصاف کا حصہ بن رہی ہے۔

بھارت میں عدالت میں اے آئی کا سب سے نمایاں معاملہ کسی اسکینڈل سے نہیں بلکہ ایک ایسے جج سے جڑا ہے، جس نے غیر معمولی طور پر صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔ ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے اپنے تحریری حکم میں واضح طور پر لکھا کہ انہوں نے ایک چیٹ بوٹ سے مشورہ لیا تھا۔

قانونی ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ بھارت میں اے آئی اور سائبر سکیورٹی کے حوالے سے اسٹریٹیجک مشیر اور اسٹارلیکس کنسلٹنٹس کی بانی ممانسا امبسٹھا کا کہنا ہے، ''انصاف کی فراہمی میں اے آئی انسانی ضمیر کی جگہ نہیں لے سکتی۔ خطرہ یہ ہے کہ مدد اور انحصار کے درمیان توازن بگڑ سکتا ہے اور جب یہ توازن ضمانت کی سماعت میں بگڑتا ہے تو کسی نہ کسی شخص کی آزادی داؤ پر لگ جاتی ہے۔‘‘

بھارت میں ذیلی عدالتوں سے لے کر عدالت عظمیٰ تک تقریباﹰ 55 ملین مقدمات زیر التوا ہیں۔ ایک لاکھ اسی ہزار سے زیادہ مقدمات ایسے بھی ہیں جو 30 سال سے زیادہ عرصے سے زیر سماعت ہیں۔ اتنی تاخیر کے اثرات نسلوں تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حکومت کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار سے مقدمات نمٹائے جاتے رہے، تو بیک لاگ ختم کرنے میں 324 سال لگ سکتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ عدالتوں میں اے آئی کو صرف ایک معاون ذریعے کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے
ماہرین کہتے ہیں کہ عدالتوں میں اے آئی کو صرف ایک معاون ذریعے کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیےتصویر: Supatman/La Nacion/ZUMA/picture alliance

اے آئی سے فائدہ یا نقصان؟

اسی بحران کے درمیان اے آئی عدالتوں میں داخل ہو رہی ہے، اور تیزی سے فیصلے کرنے کا پرکشش وعدہ کر رہی ہے۔

امبسٹھا کے مطابق یہ بحران دراصل ایسے حالات پیدا کرتا ہے، جہاں اے آئی کو بغیر مکمل نگرانی کے اپنانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت بھی اس بات سے متفق ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ ریمارک میں کہا کہ اے آئی بظاہر کام آسان بنانے کے بجائے بعض اوقات کام مزید بڑھا دیتی ہے، کیونکہ عدالت کے عملے کو پہلے یہ تصدیق کرنا پڑتی ہے کہ اے آئی سے تیار کیے گئے قانونی حوالہ جات حقیقت میں موجود بھی ہیں یا نہیں۔

بھارتی الیکشن میں 'ڈیپ فیک' کا جادو

مسئلہ کافی سنگین ہے

اصل تشویش صرف یہ نہیں کہ اے آئی حقائق کو گھڑ بھی سکتی ہے، بلکہ یہ بھی کہ وہ ان تعصبات کو بھی اپنا سکتی ہے جو اس قانونی ڈیٹا میں موجود ہوتے ہیں جس پر اسے تربیت دی جاتی ہے۔

قانونی ڈیٹا سیٹس دہائیوں کے عدالتی فیصلوں، پولیس ریکارڈ اور قانونی دستاویزات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب الگوردم ان سے سیکھتے ہیں تو وہ انہی رجحانات کو نئے فیصلوں میں خاموشی سے دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں۔

ممانسا امبسٹھا کے مطابق، ''اے آئی سسٹم تعصب کو خود سے پیدا نہیں کرتے، بلکہ وہ اسی چیز کی نقل کرتے ہیں جس پر انہیں تربیت دی جاتی ہے۔ اگر ڈیٹا میں امتیاز موجود ہو تو ماڈل اسے جذب کر لیتا ہے اور نتیجہ اس طرح پیش کرتا ہے جیسے وہ بالکل غیر جانبدار ہو۔‘‘

بھارت میں بڑے لسانی ماڈلز پر ہونے والی تحقیق سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ نظام اپنے تربیتی ڈیٹا میں موجود ذات اور مذہب سے متعلق دقیانوسی تصورات کو دوبارہ پیش کر سکتے ہیں۔

یہ خدشہ محض نظریاتی نہیں ہے۔ امریکہ میں استعمال ہونے والے بعض الگوردمک رسک اسیسمنٹ ٹولز پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ کچھ سسٹم سیاہ فام ملزمان کو سفید فام ملزمان کے مقابلے میں زیادہ خطرناک قرار دینے کا رجحان رکھتے تھے، حتیٰ کہ تب بھی، جب جرائم کی نوعیت ایک جیسی ہو۔

اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ عدالتوں میں اے آئی کو صرف ایک معاون ذریعے کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔