1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بہار میں حجاب کے تنازع پر پاکستان کا حکومتی ردِعمل

18 دسمبر 2025

پاکستان نے بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اس دوران ایک پاکستانی گینگسٹر نے مبینہ طور پر نتیش کمار کو معافی نہ مانگنے کی صورت میں نتائج کی دھمکی دی ہے۔

https://p.dw.com/p/55abf
پاکستان دفتر خارجہ، اسلام آباد
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس قسم کا رویہ ہندوتوا سے متاثر سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہےتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ اس ہفتے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچنے کے واقعے کی سخت تنقید کی۔

واقعے کی نشاندہی کرتے ہوئے بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اندرابی نے کہا کہ ''ایک سینیئر سیاسی رہنما کی جانب سے ایک مسلمان خاتون کا حجاب زبردستی کھینچنا اور اس کے بعد اس عمل کا عوامی تمسخر اڑایا جانا نہایت تشویشناک ہے اور اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد ریاست اتر پردیش کے ایک وزیر کی جانب سے بھی اس عمل کا عوامی مذاق اڑایا گیا۔ اور ایک دیگر وزیر نے نتیش کمار کا دفاع کیا۔

انہوں نے مزید کہا، ''اس اقدام سے بھارت میں مسلمان خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس طرزِ عمل سے بھارت کی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلم شہریوں، کے لیے عوامی سطح پر بے احترامی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔‘‘

اندرابی نے کہا، ''اس قسم کا رویہ ہندوتوا سے متاثر سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارتصویر: Murat Gok/Anadolu/picture alliance

’یہ شرمناک واقعہ ہے‘، ڈار

پاکستان کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈار نے اس واقعے کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ''بہار میں ایک مسلمان خاتون کی بے حرمتی سے متعلق شرمناک واقعہ قابلِ مذمت اور نہایت تشویشناک ہے۔ ایسے اقدامات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ناگزیر ضرورت اور اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافے کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔ خواتین اور مذہبی عقائد کا احترام ہر معاشرے میں بنیادی اور ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہونا چاہیے۔‘‘

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور بھارتی حکومت سے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ''بھارتی حکومت اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے، متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے، اور ذمہ دار افراد کے خلاف واضح اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔‘‘

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمارتصویر: ANI

نتیش کمار کو پاکستانی گینگسٹر کی مبینہ دھمکی

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آن لائن گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، میں مبینہ طور پر پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی کو وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کو وارننگ دیتے اور واقعے پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں بھٹی کو ایک مسلمان خاتون کے ساتھ نتیش کمار کے رویّے کا حوالہ دیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے سنا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کے نتائج ہو سکتے ہیں۔

بھٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آئینی عہدے پر فائز کوئی شخص اس طرح کا برتاؤ کیسے کر سکتا ہے اور متنبہ کیا کہ بعد میں نتیش کمار یہ نہ کہیں کہ انہیں خبردار نہیں کیا گیا تھا۔

اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ونئے کمار نے کہا کہ پولیس کو اس معاملے کی جانچ کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک سرکاری انکوائری کمیٹی ویڈیو اور مبینہ دھمکی کا جائزہ لے گی۔

خیال رہے کہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک تقریب کے دوران نتیش کمار نے نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کو تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچ دیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

اس واقعے کی بھارت کی اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے شدید مذمت کی اور نتیش کمار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ مسلم خاتون نے ملازمت قبول کرنے سے صاف طور پر انکار کر دیا ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔