1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں ایک ہزار سے زائد مشکوک ڈرون پروازیں دیکھی گئیں

صلاح الدین زین اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ
22 دسمبر 2025

رواں برس مشکوک ڈرون پروازوں سے جرمن ہوائی اڈے متاثر ہوئے، جس سے عام مسافروں کے لیے مسائل میں اضافہ ہوا۔ بغیر پائلٹ والی ان پروازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جرمنی نے خصوصی طیارہ شکن ٹینکوں کا آرڈر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/55n5S
ڈرون طیارہ
حکام کو اس بات کا شبہ ہے کہ ایسے ڈرونز ریاست کی ماتحتی میں چلائے جا رہے ہیں، جس کا مقصد جرمنی میں غیر یقینی صورتحال کے بیج بونا ہےتصویر: Felix Kästle/dpa/picture alliance

جرمنی کے فیڈرل کریمنل پولیس آفس (بی کے اے) کے سربراہ کے اتوار کے روز شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق جرمنی نے 2025 میں اب تک 1000 سے زیادہ مشکوک ڈرون پروازیں رجسٹر کی ہیں۔ ان کا یہ بیان معروف جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہوا ہے۔

بی کے اے کے سربراہ ہولگر منش نے کہا کہ اس طرح ڈرون کے نظارے "خطرے کی اہم صورتحال" کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اکتوبر میں کہا تھا کہ جرمن حکومت کا خیال ہے کہ جرمن سرزمین پر ڈرون دیکھے جانے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔

بی کے اے کے سربراہ ہولگر منش نے بلڈ کو بتایا کہ "100فیصد یقین" کے ساتھ یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ تمام مشکوک ڈرونز میں روس کا ہاتھ ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا شبہ ہے کہ ایسے ڈرونز ریاست کی ماتحتی میں چلائے جا رہے ہیں، جس کا مقصد جرمنی میں غیر یقینی صورتحال کے بیج بونا ہے۔

برلن اور میونخ کے ہوائی اڈوں پر بے لگام ڈرون

اس برس بے لگام ڈرون کے نظاروں سے جرمن ہوائی اڈوں پر خلل پڑا جس کے سبب پروازیں منسوخ کرنی پڑیں اور یہ سب مسافروں کے لیے درد سر رہا۔

مثال کے طور پر میونخ ہوائی اڈے پر اکتوبر کی اہم تقریبات سے عین قبل تین اکتوبر کو ڈرون کے سبب ہوائی ٹریفک کنٹرول کی کارروائیاں روکنی پڑیں۔ پھر نومبر میں برلن برینڈن برگ ایئرپورٹ کے آس پاس بھی نامعلوم ڈرون دیکھے گئے، جس کی وجہ سے تقریباً دو گھنٹے کے لیے آپریشن معطل کرنا پڑا۔

کئی بار اسی طرح کے ڈرون جرمن فوجی تنصیبات کے آس پاس بھی فضا میں دیکھے گئے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈیر اشپیگل کی اطلاع کے مطابق 13 اکتوبر کو روسٹاک کے بڑے شہر کے قریب شمال مشرقی قصبے گنوئین میں ایک جرمن فوجی اڈے پر چار ڈرون دیکھے گئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے وقت یوکرین کے فوجیوں کو گنوئین بیس پر تربیت دی جا رہی تھی۔

ڈرون
جرمن وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ڈرون کے واقعات پیش آنے پر ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات کی مدد کے لیے ڈرون دفاعی یونٹ کو بھی تیا کیا گیا ہےتصویر: DW

ڈرون طیاروں کا موثر جواب چاہیے

جرمن حکام اب مزید موثر اور تیز رفتار طریقے سے بغیر پائلٹ والی فضائی گاڑیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ نے بدھ کے روز برلن میں مشترکہ انسداد ڈرون مرکز (جی ڈی اے زیڈ) کا افتتاح کیا۔ یہ ادارہ ڈرون کے دفاع کے حوالے سے وفاقی اور ریاستی صلاحیتوں کو مربوط کرے گا۔

جرمن حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "مشترکہ انسداد ڈرون مرکز چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے اور اسے سکیورٹی خطرات کا فوری اور مربوط انداز میں جواب دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔"

بیان کے مطابق یہ مرکز "وفاقی اور ریاستی حکومتوں کی تکنیکی مہارت کو یکجا کرتا ہے، جاری مواصلات، مشترکہ صورتحال کے جائزے اور ڈرون دفاع میں مربوط کارروائی کے لیے ایک مضبوط فریم ورک بناتا ہے۔"

وزیر داخلہ نے ڈرون کے واقعات کے پیش آنے پر ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات کی مدد کے لیے ڈرون دفاعی یونٹ بھی بنایا ہے۔

جرمنی کی مسلح افواج (بنڈس ویر) نے بھی اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے خصوصی طیارہ شکن ٹینکوں کا آرڈر دیا ہے جو بھیڑ میں بھی اس طرح کے ڈرونز پر قابو پانے میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

ڈرون ٹيکنالوجی کی دوڑ، جرمنی بھی پيش پيش

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔