جرمنی کا مشہور زمانہ ’اکتوبر فيسٹ‘ شروع
جرمن شہر ميونخ ميں منعقد ہونے والا عالمی شہرت يافتہ ’اکتوبر فيسٹ‘ دو سال کے وقفے کے بعد ہفتہ سترہ ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ دنيا کے سب سے بڑے بيئر فيسٹول ’اکتوبر فيسٹ‘ ميں ہر سال چھ ملين سے زائد افراد شرکت کرتے ہيں۔

’اکتوبر فيسٹ‘ اب باقاعدہ ايک برانڈ
کووڈ کی عالمی وبا کی وجہ سے دو سال کے وقفے کے بعد میونخ کا معروف زمانہ Oktoberfest آخرکار واپس آ گیا ہے۔ تاہم اس بار دنیا کے سب سے بڑے بیئر فیسٹیول کے منتظمین نے چند تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جن میں اس تہورا کا ايک نيا لوگو بھی شامل ہے۔ اس تصوير ميں آپ ’اکتوبر فيسٹ‘ کا نيا لوگو ديکھ سکتے ہيں۔ منتظمين نے اس فيسٹول کو باقاعدہ ايک برانڈ کے طور پر رجسٹر بھی کرا ديا ہے۔
دو سال کے وقفے کے بعد فيسٹول کی واپسی
ميونخ ميں منعقد ہونے والا عالمی شہرت يافتہ ’اکتوبر فيسٹ‘ ہفتے سترہ ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے پچھلے دو سال سے يہ ميلہ نہيں لگ رہا تھا۔ منتظمين کی توقع ہے کہ اس سال شرکاء کی تعداد ريکارڈ حد تک زيادہ ہو سکتی ہے۔ جرمن رياست باويريا کے صدر مقام ميونخ شہر ميں سڑکوں پر عوام کی ايک بڑی تعداد اس موقع کی مناسبت سے روايتی لباس پہنی دکھائی ديتی ہے۔
فيسٹول کی تياری، وسيع تر انتظامات
’اکتوبر فيسٹ‘ کے ليے مختلف میدانوں کی تیاری ہمیشہ کی طرح بہت زیادہ کام طلب ثابت ہوئی۔ میونخ شہر کے مرکز میں چونتيس ہیکٹر پر پھیلی ہوئی کھلی زمين ’تھیریسین ویز پر سترہ بڑے اور اکيس چھوٹے خیمے لگائے جاتے ہيں۔خیموں کے اندر ايک وقت ميں 120,000 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس بار منتظمین نے ايک فیرس وہیل اور دیگر سواریاں اور جھولے بھی لگائے ہيں۔
ماحول دوست فيسٹول
يہ فيسٹول قابل تجدید توانائی پر چلتا ہے۔ منتظمین فضلہ کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جتنا ہو سکے پانی کو ری سائیکل کرتے ہیں۔ یہ ’اکتوبر فيسٹ‘ کی روایات رہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے زبردست بیئر کے جگ، روایتی باويريئن لوک موسیقی اور ساسيجز۔ درحقیقت سن 1997 میں ’اکتوبر فيسٹ‘ کو اس کے ماحولیاتی اسناد کے لیے انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔
’ماحول دوست‘ بيئر
اس سال ايک اور نئی چيز ہے۔ ارابيلا شورگروبر ’پولانر خیمے‘ کے انتظامات سنبھالتی ہيں۔ شورگروبر نے بتايا کہ وہ کولمبیا میں ایک ماحولیاتی منصوبے کی مالی معاونت کے ذریعے اس اپنے خيمے ميں فروخت ہونے والی خوراک اور مشروبات سے منسلک تمام تر CO2 کے اخراج کی نفی کے ليے اقدامات کريں گی۔ وہ کولمبيا ميں تحفظ ماحول کے ايک منصوبے ميں مالی مدد فراہم کريں گی، جو برساتی جنگلات کی بقا کے ليے کام کرتا ہے۔
روایتی بمقابلہ ویگن
روایتی باويريئن سفید ساسیج اس فيسٹول کا ايک کليدی حصہ ہے۔ ہر بار ايسے تقریباً 200,000 ساسيج کھائے جاتے ہیں۔ سالانہ بنيادوں پر شرکاء فيسٹول کے ايام ميں بھاری مقدار ميں سور کا گوشت اور لگ بھگ 500,000 مرغیاں بھی ہضم کر جاتے ہیں۔ لیکن غذائی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ اس سال پہلی بار شرکاء مٹر سے بنے سفید ساسیج چکھ سکتے ہیں۔ وہ اصل سے کہیں زیادہ صحت مند ہیں۔
اس سال بیئر کی قيمت کيا ہے؟
Oktoberfest میں ایک متاثر کن فیرس وہیل، زبردست لوک موسیقی اور کھانے پينے کی اشياء وافر مقدار ميں ہيں۔ لیکن حقيقتاً يہ ايک بيئر فيسٹول ہے اور لوگوں کے يہاں آنے کی سب سے بڑی وجہ بيئر ہی ہے۔ اس سال ایک لیٹر بيئر کی قیمت 12.70 يورو اور 13.50 کے درمیان ہے۔
کورونا کی پابندياں، بالکل نہيں
اگرچہ جرمنی میں کورونا وائرس کے انفیکشن مسلسل بڑھ رہے ہيں ليکن منتظمین نے کوئی سماجی پابندياں نافذ نہيں کی ہيں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس سے انفیکشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سالانہ بیئر فیسٹیول میں دنیا بھر سے مہمان آتے ہیں، جو وائرس کو دور دور تک پھیلا سکتے ہیں۔
سنگلز کی بھی چاندی
پہلی بار ’اکتوبر فيسٹ‘ کے منتظمین نے سنگل يا تنہا افراد کو خیموں میں نشستیں بک کرانے کی اجازت دی ہے۔ گزشتہ سالوں میں ايسی بکنگز دس يا اس سے زائد افراد کے گروپوں تک محدود تھيں۔ 79 يورو میں اب آپ ایک سیٹ بک کر سکتے ہیں، جس میں آپ کو کھانے پینے کے واؤچرز کے علاوہ ایک آفیشل ’اکتوبر فيسٹ‘ بیئر مگ بھی ملتا ہے۔
فيسٹول کی مقبولیت کم نہیں ہوئی
’اکتوبر فيسٹ‘ کے دوران ہجوم کے درمیان وقت گزارنا اور بیئر کی وافر مقدارپی جانا تھکا دینے والا تجربہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اکثريتی لوگ واپس اس فيسٹول کا رخ کرتے ہيں۔ سن 2019 میں اسی فيصد مہمان ماضی ميں تين مرتبہ اس فيسٹول کا حصہ بن چکے تھے۔ تقریباً ساٹھ فيصد دو مختلف مواقع پر آئے تھے۔