امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں جنگ کی کھلی تیاری، روس
25 مارچ 2026
روسی دارالحکومت ماسکو سے بدھ 25 مارچ کے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق امریکہ اور جزیرہ نما کوریا پر اس کی قریبی اتحادی ریاست جنوبی کوریا نے مل کر حال ہی میں جو فوجی مشقیں شروع کی ہیں۔ وہ واشنگٹن اور سیول کی طرف سے ''جنگ کی کھلی تیاری‘ کے مترادف ہیں۔
ایران جنگ کے سائے میں شمالی کوریا کا میزائلوں کا تجربہ
وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ ان مشترکہ امریکی جنوبی کوریائی مشقوں کو ''جنگ کی کھلی تیاری‘‘ کے علاوہ کوئی بھی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔
فوجی مشقوں کا آغاز رواں ماہ کے وسط میں ہوا
واشنگٹن اور سیول کی مسلح افواج نے وسیع پیمانے پر اپنی ان مشترکہ سالانہ جنگی مشقوں کا آغاز رواں ماہ کے وسط میں کیا تھا۔
شمالی کوریا کا بطور ایٹمی طاقت مقام ناقابل تنسیخ، کم جونگ ان
کم جونگ اُن کیا اپنی ’ٹین ایجر بیٹی‘ کو اپنا جانشین مقرر کرنے جا رہے ہیں؟
لیکن ماسکو کی طرف سے اب لگائے گئے الزام کے برعکس ان جنگی مشقوں کے آغاز پر امریکہ اور جنوبی کوریا دونوں ہی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ بالکل دفاعی نوعیت کا عسکری عمل ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان مشقوں کا مقصد حریف ملک شمالی کوریا کی طرف سے لاحق ممکنہ فوجی خطرات کے خلاف اپنی تیاری کی حالت کا جائزہ لینا اور اسے بہتر بنانا ہے۔
ٹرمپ اور کم میں دوستی سے جنوبی کوریا کو الگ تھلگ پڑنے کا خدشہ
لیکن روسی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا، ''سرکاری طور پر ان مشقوں کو دفاعی مشقیں کہا جا رہا ہے۔ لیکن ان مشقوں کے دوران عسکری سرگرمیوں کی وسعت اور ان میں استعمال ہونے والے فوجی ساز و سامان کو دیکھا جائے، تو یہ عسکری مہم جنگ کی کھلی تیاری کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔‘‘
شمالی کوریا کی روس کے لیے 'غیر متزلزل‘ حمایت
واشنگٹن اور سیول کی انہی سالانہ فوجی مشقوں کے دوران جنوبی کوریا کی حریف شمالی کوریائی کمیونسٹ ریاست کے رہنما کم جونگ ان نے آج زور دے کہا کہ پیونگ یانگ کی روس کے لیے تائید و حمایت ''غیر متزلزل‘‘ ہے، جو کبھی کم نہیں ہو گی۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں بدھ کے روز شائع ہونے والے اور کم جونگ ان کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے نام لکھے گئے ایک خط میں ان نے کہا کہ ماسکو کے لیے پیونگ یانگ کی حمایت میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔
شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی
روس اور شمالی کوریا کے باہمی تعلقات خاص طور پر 2022ء میں روسی کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی اور ابھی تک جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے مزید گہرے ہو چکے ہیں۔
شمالی کوریا میں معذور افراد پر طبی تجربات کی قابل اعتماد رپورٹیں، اقوام متحدہ
شمالی کوریائی حکومت نے اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے نہ صرف اپنے زمینی دستے روس بھیجے ہیں بلکہ محاذ جنگ پر ماسکو کی مزید مدد کرنے کے لیے اسے اپنے ہتھیاروں کے سسٹم بھی مہیا کیے ہیں۔
شمالی کوریا کی سپریم پیپلز اسمبلی کہلانے والی قومی پارلیمان کا جو سالانہ اجلاس رواں ہفتے کے آغاز پر ختم ہوا، اس میں مندوبین نے کم جونگ ان کو ایک بار پھر سربراہ مملکت منتخب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ترمیم شدہ ریاستی آئین کی منظوری بھی دے دی تھی۔
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ عسکری معاہدہ معطل کر دیا
پیونگ حکومت نے آئینی ترامیم کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ آئین میں جنوبی کوریا کو پہلی بار ''جارحیت کرنے والی سب سے بڑی دشمن ریاست‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
ادارت: شکور رحیم