جکارتہ دنیا کا سب سے بڑا شہر، ڈھاکہ دوسرے نمبر پر
26 نومبر 2025
جاوا کے گنجان آباد جزیرے کے مغرب میں واقع ایک نشیبی ساحلی شہر جکارتہ اب آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جسے 2000 میں شائع ہونے والے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دنیا کا سب سے بڑا شہر قرار دیا گیا تھا۔
جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کی آبادی 33.4 ملین اور نسبتاً مستحکم ہے اور اس طرح اب بنگلہ دیش کا گنجان آباد دارالحکومت ڈھاکہ نویں نمبر سے دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جس کی آبادی 36.6 ملین ہے۔ اس حساب سے ٹوکیو اب دنیا کے سب سے بڑے شہروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے۔
البتہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ کے 2050 تک دنیا کے سب سے بڑے شہر بننے کا قوی امکان ہے۔
اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی اور سماجی امور کی ورلڈ اربنائزیشن پراسپیکٹس 2025 کی رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ میگا سٹیز، یعنی ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہروں، کی تعداد اب بڑھ کر 33 ہو گئی ہے، جو کہ 1975 میں دنیا بھر میں موجود آٹھ میگا سٹیز سے چار گنا زیادہ ہے۔
بیشتر بڑے شہر ایشیا میں
فی الوقت دنیا کی 33 میگاسٹیز میں سے 19 ایشیا میں ہیں اور اس میں سب سے زیادہ آبادی والی 10 میں سے نو اسی خطے میں پائے جاتے ہیں۔
جکارتہ، ڈھاکہ اور ٹوکیو کے علاوہ، ٹاپ 10 میں دوسرے ایشیائی شہر، بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی (30.2 ملین) چین کا شہر شنگھائی (29.6 ملین) چینی شہر گوانگزو (27.6 ملین)، فلپائن کا منیلا (24.7 ملین)، بھارتی شہر کولکتہ (22.5 ملین)، اور 22.5 ملین کی آبادی پر مشتمل جنوبی کوریا کا سیول ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 32 ملین افراد کی آبادی کے ساتھ مصر کا دارالحکومت قاہرہ ٹاپ 10 میں واحد شہر ہے، جو ایشیا سے باہر ہے۔
برازیل میں ساؤ پالو، 18.9 ملین آبادی کے ساتھ، خطہ امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہے، جبکہ نائیجیریا میں لاگوس میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ سب صحارا افریقہ کا سب سے بڑا شہر بن گیا ہے۔
تیزی سے بڑھتے شہر
ڈھاکہ کی تیز رفتار ترقی جزوی طور پر دیہی علاقوں کے لوگوں کی دارالحکومت کی جانب منتقل ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مواقع کی تلاش میں یا آبائی شہروں سے فرار ہونے کے باعث سیلاب اور سطح سمندر میں اضافے سمیت مسائل کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بدتر ہو گئی ہے۔
جکارتہ کو بھی سطح سمندر میں اضافے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک شہر کا ایک چوتھائی حصہ زیر آب آ سکتا ہے۔
مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت بورنیو جزیرے کے مشرقی کلیمانتان صوبے میں ایک نیا دارالحکومت تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق باوجود اس کے کہ انڈونیشیا کی پارلیمانی عمارتیں اور حکومتی عملے کے لیے ایک نیا شہر ہو گا، 2050 تک جکارتہ میں مزید 10 ملین لوگ آباد ہو جائیں گے۔
شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کو عدم مساوات کے خدشات کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا، جس کی وجہ سے رواں برس کے شروع میں انڈونیشیا کے شہر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد احتجاج کے لیے نکل پڑے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کا دارالحکومت تہران، جسے پانی کی کمی کا سامنا ہے، اس وقت اس کی آبادی نو ملین افراد پر مشتمل ہے۔
نئے تجزیے میں تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ نے مختلف ممالک کی جانب سے شہر کاری کو بیان کرنے میں پائے جانے والے تضادات کو دور کرنے کی کوشش کی ہیں۔
ادارت: جاوید اختر