روسی حکومت بیلاروس میں جوہری میزائل تعینات کر رہی ہے، ماہرین
3 جنوری 2026
امریکی محققین نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے اندازہ لگایا ہے کہ غالباﹰ روس مشرقی بیلاروس کی ایک سابقہ ایئر بیس پر جوہری صلاحیت رکھنے والے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل تعینات کر رہا ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں روس یورپ بھر کو اپنے میزائلوں کی زد میں لانے کی صلاحیت مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محققین کی یہ نشان دہی امریکی انٹیلیجنس کے نتائج سے عمومی طور پر مطابقت رکھتی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلے ہی بتایا تھا کہ وہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اوریشنک میزائل بیلاروس میں تعنیات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن یہ کہاں نصب کیے جائیں گے، اس بارے میں درست مقام پہلے رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اوریشنک میزائل کی رینج تقریبا 5,500 کلومیٹر ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیلاروس میں اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی دراصل روس کی ایک ایسی کوشش ہے، جس کے تحت وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کی طرف سے یوکرین کو ایسے ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں، جو روس کے اندر تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔
واشنگٹن میں روسی سفارتخانے نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہ دیا جبکہ بیلاروس کے سفارتخانے نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
بیلاروس کی سرکاری نیوز ایجنسی بیلٹا نے وزیر دفاع وکٹور خرینن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اوریشنک کی تعیناتی یورپ میں طاقت کے توازن کو نہیں بدلے گی اور یہ دراصل مغرب کے ''جارحانہ اقدامات‘‘ پر ''ہمارا جواب‘‘ ہے۔
دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے بھی اس بارے میں فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا اور سی آئی اے نے بھی اپنی رائے محفوظ رکھی۔
روس کی تبدیل شدہ حکمت عملی؟
کیلیفورنیا میں مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ جیفری لیوس اور ورجینیا میں سی این اے ریسرچ اینڈ اینالیسس تنظیم سے منسلک ڈیکر ایویلتھ کے مطابق انہوں نے اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی کے بارے میں اپنا اندازہ کمرشل سیٹلائٹ کمپنی پلینٹ لیبز کی تصاویر کی مدد سے لگایا ہے۔
لیوس اور ایویلتھ نے کہا کہ انہیں 90 فیصد تک یقین ہے کہ موبائل اوریشنک لانچرز اس سابقہ ایئر بیس پر رکھے جائیں گے۔ یہ بیس کریچیف کے قریب واقع ہے، جو بیلاروس کے دارالحکومت منسک سے تقریباً 307 کلو میٹر دور مشرق میں اور ماسکو سے 478 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
ماسکو نے نومبر سن 2024 میں یوکرین میں ایک ہدف کے خلاف روایتی ہتھیاروں سے لیس اوریشنک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر پوٹن فخر سے کہتے ہیں کہ اس میزائل کو روکنا ناممکن ہے کیونکہ اس کی رفتار مبینہ طور پر 'ماک 10 سے زیادہ‘ ہے۔
جان فورمین کا کہنا ہے کہ صدر پوٹن کا منصوبہ ہے کہ اس ہتھیار کو ''بیلاروس میں تعینات کیا جائے تاکہ اس کی رینج یورپ بھر میں مزید بڑھ جائے۔‘‘ تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس سے وابستہ فورمین ماسکو اور کییف میں برطانوی دفاعی اتاشی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
فورمین نے کہا کہ وہ اس روسی اقدام کو جرمنی میں امریکی میزائلوں کی متوقع تعیناتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ آئندہ برس امریکہ اپنے روایتی میزائل جرمنی میں تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ان میزائلوں میں درمیانے فاصلے تک مار کر سکنے والے ہائپر سونک 'ڈارک ایگل‘ بھی شامل ہیں۔
بیلاروس میں روسی اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی سن 2010 میں طے پانے والے نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل متوقع ہے۔ یہ معاہدہ دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقتوں یعنی امریکہ اور روس کے اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کو محدود کرنے والا آخری معاہدہ ہے۔
صدر پوٹن نے دسمبر سن 2024 میں اپنے بیلاروسی ہم منصب الیکسانڈر لوکاشینکو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اوریشنک میزائلوں کو اس سال کی دوسری سہ ماہی میں بیلاروس میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
روس کا یہ اقدام اپنی پرانی پالیسی میں تبدیلی کا ایک کھلا اشارہ ہے۔ اس نظرثانی شدہ حکمت عملی کے تحت ماسکو حکومت سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے باہر جوہری ہتھیار تعینات کر رہی ہے۔