866,000 کلومیٹر: 2025 میں جرمنی میں ٹریفک جام
5 فروری 2026
زمین سے چاند تک، پھر واپسی اور اس کے بعد زمین کے گرد مزید ڈھائی چکر، یہ جرمنی کی شاہراہوں پر گزشتہ سال لگنے والے ٹریفک جام کی کل لمبائی تھی۔ ٹریفک جام کی طوالت اور دورانیے میں اضافہ ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ 2026 میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جرمن موٹر ویز پر 2025 میں ٹریفک جام اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ طویل تھے اور انہیں ختم ہونے میں بھی زیادہ وقت لگا۔ جرمن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (ADAC) کے مطابق، 2025ء میں ان کی مجموعی لمبائی 866,000 کلومیٹر رہی، جو 2024ء کے مقابلے میں 7,000 کلومیٹر زیادہ ہے۔
جرمن موٹر وے پر کاروں کی حد رفتار مقرر کرنے کا تنازعہ
جرمن موٹر ویز پر آئندہ بھی رفتار کی کوئی حد نہیں ہو گی
اس کے علاوہ ٹریفک میں رکاوٹ کا دورانیہ بھی طویل رہا۔ گزشتہ برس مجموعی طور پر 478,000 گھنٹے ٹریفک جام رہا، جو 2024 کے مقابلے میں 30,000 گھنٹے زیادہ ہے۔
ایک مثبت پہلو تاہم یہ رہا کہ کم از کم ایک کلومیٹر طویل ٹریفک جام کی تعداد 20,000 کی کمی کے ساتھ 496,000 رہ گئی۔ مگر یہ کمی اوسط لمبائی اور دورانیے میں ہونے والے اضافے کا اثر زائل کرنے یا شاہراہوں پر صورتحال کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔
نارتھ رائن ویسٹ فیلیا: ٹریفک جام کا گڑھ
2025 میں ٹریفک جام کا سب سے بڑا شکار جرمنی کی ایک مغربی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا رہی۔ ADAC کے مطابق، ٹریفک جام کے کل گھنٹوں کا تقریباً 35 فیصد اسی ریاست میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ باویریا 13 فیصد اور باڈن ورٹمبرگ 10 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
ٹریفک جام سے سب سے زیادہ متاثرہ مہینہ جولائی رہا، جس میں 50,000 گھنٹے اور 87,000 کلومیٹر طویل جام ریکارڈ کیے گئے۔ اکتوبر 49,000 گھنٹوں اور 85,000 کلومیٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ تاہم، سال کا بدترین دن موسم سرما میں آیا۔ نو جنوری کو اچانک برفباری اور سرد موسم کی وجہ سے مجموعی طور پر 6,300 کلومیٹر طویل ٹریفک جام ہوا۔
رواں سال صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ
ADAC نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں سال کے دوران موٹر ویز پر صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ ٹریفک کلب کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے حجم میں معمولی اضافہ ممکنہ طور پر مزید جام کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ، ''سیکڑوں خستہ حال موٹر وے پلوں کی جدید کاری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تعمیراتی کام‘‘ بھی ٹریفک میں مزید رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ تاہم، ADAC کا کہنا ہے کہ موٹر وے نیٹ ورک کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
ادارت: جاوید اختر