زیادہ تر سوئس شہری آبادی کی 10 ملین تک کی حد کے حق میں، سروے
29 اپریل 2026
حکومت نے تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جسے دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی نے پیش کیا ہے اور جس پر 14 جون کو ووٹنگ ہونا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو نقصان پہنچائے گا اور لیبر مارکیٹ کو محدود کر کے معیشت کو بھی متاثر کرے گا۔
تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پبلک انفراسٹرکچر پر دباؤ کے خدشات بہت سے سوئس شہریوں کو اس تجویز کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔
یہ سروے میڈیا گروپ Tamedia اور اخبار 20 Minuten نے پولنگ ادارے Leewas کے ساتھ مشترکہ طور پر کرایا۔
سوئٹزرلینڈ کی آبادی اس وقت 90 لاکھ سے زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 تک اس میں غیر ملکی شہریوں کا تناسب 27 فیصد سے زائد تھا۔
یہ سروے 22 اور 23 اپریل کو کرایا گیا اور اس کے نتائج اخبار ’ٹاگیس انسائیگر‘ میں شائع ہوئے، جن کے مطابق 16,176 افراد میں سے 52 فیصد اس تجویز کے حق میں یا اس کی طرف مائل تھے، جبکہ 46 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ باقی افراد نے کوئی رائے ظاہر نہ کی۔
اخبار کے مطابق مارچ کے اوائل میں کرائے گئے ایک سابقہ سروے میں 45 فیصد افراد اس تجویز کے حق میں جبکہ 47 فیصد اس کے خلاف تھے۔
تازہ نتائج غیر معمولی
سروے کے تازہ نتائج کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے کیونکہ سوئٹزرلینڈ میں عام طور پر ریفرنڈم کی تجاویز کو ووٹنگ کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ کم عوامی حمایت ملتی ہے۔
اس سروے میں غلطی کا امکان تین فیصد پوائنٹس سے کم تھا۔
اس تجویز کے تحت 2050 تک مستقل رہائشی آبادی 10 ملین سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اور سوئٹزرلینڈ کو یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت (فریڈم آف موومنٹ) کے معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔
سوئس قانون ساز اس وقت 2024 کے آخر میں طے پانے والے ایک سوئس یورپی معاہدے پر بحث کر رہے ہیں، جس کا مقصد معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ بحث 2025 کےمشکل حالات کے بعد ہو رہی ہے، جب سوئٹزرلینڈ کو غیر متوقع طور پر امریکہ کی جانب سے یورپ میں سب سے زیادہ تجارتی ٹیرفس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سوئس پیپلز پارٹی، جو سوئٹزرلینڈ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، یورپی یونین کے ساتھ مزید انضمام کی مخالفت کرتی ہے، کیونکہ اس کے نزدیک یہ سوئس خود مختاری کے لیے خطرہ ہے اور اضافی ضوابط (ریگولیشنز) کا باعث بنتی ہے۔
ادارت: مقبول ملک