1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتسعودی عرب

سعودی عرب بمقابلہ متحدہ عرب امارات: خلیج میں ایک ’سرد جنگ‘؟

افسر اعوان کیتھرین شائر
11 جنوری 2026

یمن میں متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں پر حالیہ سعودی فضائی حملے نے ان دونوں اہم خلیجی ریاستوں کے خارجہ پالیسی کے منصوبوں میں بڑے اختلافات کو آشکار کیا۔ لیکن کس کا منصوبہ کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہے؟

https://p.dw.com/p/56T7l
لندن میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر۔
یمن میں یو اے ای کے ہتھیاروں پر سعودی حملے نے ان خلیجی ریاستوں کے درمیان خارجہ پالیسی کے بڑے فرق کو آشکار کیا ہے۔تصویر: Andrea Domeniconi/SOPA Images/ZUMA/picture alliance

پردے کے پیچھے ان کے درمیان ہمیشہ سے مقابلہ بازی رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے دو بااثر ترین ممالک، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اب تک چھپے ہوئے اختلافات نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا اور کھل کر سامنے آ گئے۔ 30 دسمبر کو سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر مکلا پر بمباری کی، جس میں وہاں کے علیحدگی پسندوں کے لیے بھیجی گئی ہتھیاروں کی ایک کھیپ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کھیپ متحدہ عرب امارات نے 'سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ (ایس ٹی سی) کے لیے بھیجی تھی، جو جنوبی یمن میں ایک الگ ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔

اماراتیوں کا کہنا تھا کہ یہ کھیپ علاقے میں ان کی اپنی سکیورٹی فورسز کے لیے تھی نہ کہ ایس ٹی سی کے لیے۔ سعودی حکام نے واضح طور پر اس پر یقین نہیں کیا اور کہا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو ہتھیار نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی اور وہ اماراتی اقدامات کو ''انتہائی خطرناک‘‘ سمجھتے ہیں۔

سعودی محقق ہشام الغنام نے، جو تھنک ٹینک ''کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر‘‘ کے اسکالر ہیں، یمنی میڈیا آؤٹ لیٹ ''عدن الغد‘‘ کو بتایا کہ یمن کا صوبہ حضرموت، جہاں ایس ٹی سی سرگرم ہے، سعودی عرب کے ساتھ طویل زمینی سرحد رکھتا ہے اور اس علاقے کا کسی ایسے گروہ کے کنٹرول میں ہونا جو سعودیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو، ریاض کے لیے ناقابل قبول ہے۔

سعودی حملے دونوں ممالک کے درمیان پہلا براہ راست تصادم تھے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ یمن سے اپنے بقیہ تمام فوجی دستے واپس بلا لے گا۔

یمن میں سعودی فضائی حملے کا نشانہ بننے والی متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھیجی گئی گاڑیاں۔
یمن میں متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں پر حالیہ سعودی فضائی حملے نے ان دونوں اہم خلیجی ریاستوں کے خارجہ پالیسی کے منصوبوں میں بڑے اختلافات کو آشکار کیا۔تصویر: Stringer/AFP/Getty Images

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہو رہا۔ کیونکہ بنیادی معاملہ دو مختلف طرح کی خارجہ پالیسی کا ہے۔ رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ کے فیلو کرسٹیان کوٹس الرچسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''گزشتہ چند مہینوں میں علاقائی پیش رفتوں نے علاقائی نظم و ضبط کے حوالے سے دونوں کے نظریات کے فرق کو واضح کیا ہے۔‘‘

 ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک متعدد تنازعات میں مختلف اطراف کھڑے نظر آئے ہیں۔ الرچسن کہتے ہیں، ''سعودی عرب میں دوبارہ فوجی مہم جوئی کی کوئی خواہش نہیں ہے، برخلاف ابوظہبی کے، جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ خطرے مول لینے اور علاقائی مسلح غیر ریاستی گروہوں کی حمایت کرنے کا شوق رکھتا ہے۔‘‘

لندن کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو ایچ اے ہیلیئر نے سوشل میڈیا پر ایک تحریر میں دلیل دی کہ علاقائی طاقت سعودی عرب زیادہ تر استحکام، علاقائی اقتصادی تعاون، اپنی داخلی ترقی اور اقوام متحدہ جیسے قائم شدہ اداروں کے ذریعے کام کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا 'علیحدگی پسندوں کا محور‘

دوسری طرف، محققین کے مطابق متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا ماڈل ''توڑ کر تعمیر کرنے‘‘ والا ہے، جو ضروری نہیں کہ عرب علاقائی اتفاق رائے کے مطابق ہو۔ کنگز کالج لندن کے سینیئر لیکچرار اینڈریاس کریگ، متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی کو ''علیحدگی پسندوں کا محور‘‘ بنانے سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی اماراتی مختلف مقامات جیسے لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن میں مختلف مسلح غیر ریاستی عناصر کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ حکومتوں سے معاملہ کیے بغیر اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے۔ تاہم متحدہ عرب امارات خود باقاعدگی سے اس کی تردید کرتا ہے۔

کریگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''متحدہ عرب امارات کا علیحدگی پسندوں کا محور نیٹ ورک پر مبنی اور مؤثر ہے۔ یہ سعودی عرب کے ریاست کے گرد گھومنے والے نقطہ نظر سے زیادہ لچکدار ہے کیونکہ یہ کسی ایک دارالحکومت، ایک چینل یا ایک رسمی معاہدے پر منحصر نہیں ہے۔ پیسہ، لاجسٹکس، ہوا بازی، بندرگاہیں، میڈیا کی تشہیر اور لابنگ امارات ان سب پر انحصار کرتا ہے۔‘‘

کریگ کے مطابق، اس کے علاوہ بہت کچھ ''سطح کے نیچے‘‘ ہو رہا ہے، جس میں ''بروکرز، تاجر، شپنگ اور ہوا بازی کے درمیانی لوگ، کارپوریٹ گاڑیاں، نقدی اور اجناس کے سرکٹس‘‘ شامل ہیں۔ ان تہہ در تہہ نیٹ ورکس کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے اہم سمندری راستوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز تک رسائی اور اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔

کریگ کی دلیل ہے کہ یہ ''ایک متبادل علاقائی نظام تخلیق کرتا ہے جس میں ابوظہبی معاہدوں کے بجائے گروہوں اور راہداریوں کے ذریعے شرائط طے کرتا ہے۔ یہ روایتی بڑی طاقتوں کو نظر انداز کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کرتا ہے۔‘‘

اس صورتحال نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مختلف تنازعات میں آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر، سعودی عرب نے سوڈان میں ثالث کا کردار ادا کیا اور وہاں کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی، جبکہ متحدہ عرب امارات پر سوڈانی پیرا ملٹری 'ریپڈ سپورٹ فورسز‘ یا آر ایس ایف کی حمایت کا الزام ہے۔ حال ہی میں جب اسرائیل نے صومالی لینڈ کو صومالیہ سے الگ ریاست کے طور پر تسلیم کیا، تو سعودی عرب سمیت اکثر عرب ریاستوں نے اس متنازع اقدام پر احتجاج کیا۔ متحدہ عرب امارات نے ایسا نہیں کیا اور اس کے صومالی لینڈ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ایس ٹی سی کے ارکان عدن میں ایک چیک پوسٹ پر موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ سعودی فضائی حملے کا نشانہ بننے والی کھیپ علاقے میں ان کی اپنی سکیورٹی فورسز کے لیے تھی نہ کہ ایس ٹی سی کے لیے۔تصویر: AP Photo/picture alliance

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ تب تک ایسا نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ متحدہ عرب امارات پر شام میں علیحدگی پسند دھڑوں، خاص طور پر دروز اقلیت کی حوصلہ افزائی کا بھی الزام ہے جو نئی شامی حکومت سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ مؤخر الذکر کو سعودیوں کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو سفارتی طور پر سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ صورتحال کو مشرق وسطیٰ کی دو با اثر ترین قوموں کے درمیان ایک طرح کی ''سرد جنگ‘‘ کی طرف لے جا رہا ہے۔

سعودی اماراتی تناؤ کا مستقبل کیا ہے؟

گزشتہ ہفتے کے بعد سے دونوں ممالک کے مقامی لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ ایک سعودی تجزیہ کار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ''ممالک اور معاشروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے‘‘ جبکہ ایک اور نے امارات کو ایک باغی چھوٹے بھائی سے تشبیہ دی۔ دوسری طرف ایک اماراتی مبصر نے شکایت کی کہ سعودی عرب اس بڑے بھائی کی طرح ہے، جو سمجھتا ہے کہ وہ سب سے بہتر ہے۔

لیکن فی الحال، مبصرین کے خیال میں بات زبانی اختلافات سے آگے نہیں بڑھے گی۔ الرچسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرا خیال ہے کہ سعودیوں نے یمن میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے اور یہ شاید ان چند مواقع میں سے ایک ہے جب متحدہ عرب امارات کو غیر ریاستی گروہوں کی حمایت پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘  لیکن مستقل تعلقات منقطع کرنے کی کوئی حقیقی خواہش نہیں ہے، اس لیے زیادہ امکان یہ ہے کہ ''سعودی اور اماراتی اپنی اپنی الگ پالیسیوں پر مزید سختی سے کاربند رہیں گے۔‘‘

سوڈان میں آر ایس ایف کے ارکان
سوڈان میں جس گروپ کی متحدہ عرب امارات حمایت کرتا ہے یعنی آر ایس ایف، اس پر قتل عام اور دیگر مظالم کے الزامات ہیں، اور متحدہ عرب امارات کو ان کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے.تصویر: REUTERS

اس کے علاوہ کریگ کہتے ہیں کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی خصوصی فورسز واپس بلا لی ہوں گی، لیکن وہ مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹیں گے، ''(حالیہ واقعات) انہیں عمل کو مزید سخت کرنے، اپنی موجودگی کو چھپانے اور ردعمل کو سنبھالنے پر مجبور کریں گے، لیکن بنیادی منطق اب بھی برقرار نظر آتی ہے۔‘‘

’سرد جنگ‘ کون جیتے گا؟

کریگ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے طریقوں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے: ''لیکن فیصلہ کن متغیر ساکھ اور سیاسی قیمت ہے۔‘‘

مثال کے طور پر، سوڈان میں جس گروپ کی متحدہ عرب امارات حمایت کرتا ہے یعنی آر ایس ایف، اس پر قتل عام اور دیگر مظالم کے الزامات ہیں، اور متحدہ عرب امارات کو ان کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کریگ کے مطابق سوڈان متحدہ عرب امارات کی ''علیحدگی پسندوں کے محور‘‘ کی پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایف پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ رہی ہے، تردید کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اس کا ردعمل ہر طرف سے آ رہا ہے، بشمول خود خلیج کے اندر سے، لہٰذا وقت گزرنے کے ساتھ، وہی فریق حقیقی معنوں میں جیتے گا جو اپنے اثر و رسوخ کو جواز اور پائیدار استحکام میں تبدیل کر سکے گا۔