چین، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان لیزر ہتھیاروں کی دوڑ
16 مئی 2026
ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ماہرین نے گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کے دبئی ہوائی اڈے پر ایک چینی ساختہ لیزر نظام دریافت کیا۔ یہ لیزر سسٹم ایک گاڑی پر نصب ہے اور ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پہلے سے اسرائیلی ساختہ لیزر نظام ''آئرن بیم‘‘ موجود ہے، جو اسرائیل نے بظاہر امارات کو عاریتاً دیا ہے۔ مزید اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات ایک امریکی لیزر ویپن سسٹم خریدنے کی بھی کوشش کر رہا ہے اور اس نے یورپی و امریکی کمپنیوں کے ساتھ ایک اپنا لیزر ویپن سسٹم مشترکہ طور پر تیار کرنے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔
2025ء کے اواخر میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی نے فوجی سازوسامان کی ترسیل کی تصاویر شائع کیں، جن سے غیر ارادی طور پر یہ انکشاف ہوا کہ عُمان بھی چینی ساختہ لیزر ہتھیاروں کا خریدار ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیلی حملے کے بعد قطر بھی ترک فضائی دفاعی نظام ''اسٹیل ڈوم‘‘ کے کچھ اجزاء حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں لیزر ہتھیار بھی شامل ہیں۔
اُدھر سعودی عرب میں بھی فوج چینی ساختہ لیزر نظاموں کی آزمائش کر رہی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے چین کے ''سائلنٹ ہنٹر‘‘ کے آٹھ یونٹ تک خریدے ہیں اور امریکی لیزر ہتھیار خریدنے پر بھی غور کر رہا ہے۔
'اسٹار وار‘ حقیقت بن رہی ہے
لیزر ہتھیار سائنسی داستانوں کا حصہ لگتے تھے لیکن ایران جنگ انہیں حقیقی تنازعات میں عام استعمال کے قریب لا رہی ہے۔ یہ بات دفاعی صحافی جیرڈ کیلر نے کہی، جو ''لیزر وارز‘‘ نامی نیوزلیٹر چلاتے ہیں اور اسی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں لکھا کہ اپریل اور مئی کے دوران عالمی سطح پر لیزر ہتھیاروں کی ترقی کی رفتار اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انہوں نے مزید کہا، ''متحدہ عرب امارات آہستہ آہستہ دنیا میں لیزر ہتھیاروں کی مصروف ترین منڈی بنتا جا رہا ہے،‘‘ کیونکہ اس کے پاس اب دو مختلف اقسام کے لیزر نظام موجود ہیں اور وہ تیسرا خرید رہا ہے۔
کیلر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم اس مقام پر آ گئے ہیں، جہاں کئی عوامل یکجا ہو کر لیزر ہتھیاروں کو عام کر رہے ہیں، جن میں سے ایک ٹیکنالوجی کی پختگی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکی فوج نے 1973ء میں پہلی بار آزمائشی طور پر لیزر سے ڈرون مار گرایا تھا اور تب سے اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے لیکن اب لیزر ہتھیار زیادہ چھوٹے اور بہتر ہو گئے ہیں۔
لیزر ''براہ راست توانائی ‘‘ کے اخراج والے ہتھیاروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس زمرے میں ہائی انرجی لیزر شامل ہیں، جن کی شعاع اہداف کو نقصان پہنچانے یا ناکارہ کرنے کے کام آتی ہے۔ اس میں ''ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار‘‘ بھی شامل ہیں، جو مائیکروویو کی لہریں خارج کر کے اہداف میں اندرونی خرابی پیدا کرتے ہیں۔
کیلر کے مطابق دوسری وجہ جنگ میں ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ انہوں نے کہا، ''بغیر پائلٹ ڈرون جنگ کے پھیلاؤ نے روایتی جنگی معاشیات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔‘‘ یعنی محض چند سو ڈالر میں بننے والے سستے ڈرون کو لاکھوں یا کروڑوں ڈالر مالیت کے میزائل سے مار گرانا کسی طور سود مند نہیں۔
انہوں نے کہا، ''یہ ایک ناپائیدار صورتحال ہے، خاص طور پر، جب یہ ڈرون تیزی سے بڑی تعداد میں بنائے اور بآسانی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ میزائل بنانے میں کافی وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر کی حکومتیں کم خرچ متبادل تلاش کر رہی ہیں۔‘‘
مثال کے طور پر ہائی انرجی لیزر ہتھیاروں کے مینوفیکچررز اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر فائر پر صرف تین سے پانچ ڈالر لاگت آتی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ایران جنگ نے لیزر ہتھیاروں کی مانگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ اگرچہ یوکرین میں روسی ڈرون حملوں کے خلاف بھی لیزر ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور روس کے پاس بھی بظاہر کچھ موجود ہیں لیکن ایران جنگ پہلا موقع ہے، جب امریکی فوج، خلیج میں اس کے اتحادیوں اور اسرائیل کو اس انداز میں ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کیلر نے کہا، ''ایران جنگ نے ڈرون جنگ کو گھر کے قریب لے آئی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مارچ کی ایک کانفرنس میں امریکی دفاعی اعلیٰ حکام نے کہا کہ وہ اگلے تین برسوں میں بڑے پیمانے پر لیزر ہتھیار نصب کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''جو بھی ملک اپنے ہمسائے سے فوری خطرے میں ہو، وہ ان نظاموں کو جلد از جلد حاصل کرنا چاہے گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستوں میں لیزر ہتھیار تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
کیا لیزر واقعی ڈرون حملوں کے خلاف کارگر ہیں؟
تاہم کیلر کا کہنا ہے کہ لیزر ہتھیار کوئی ''جادوئی حل‘‘ نہیں ہیں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے یہ ہتھیار ایک وسیع تر اور کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام کے حصے کے طور پر سب سے زیادہ مفید ثابت ہوں گے۔
اس کی وجہ لیزر کی اپنی کچھ خامیاں ہیں۔ لیزر کی شعاع سیدھی لکیر میں چلتی ہے، اسے صرف ایک مخصوص فاصلے تک استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً اسرائیل کے آئرن بیم یونٹ کی زد صرف 10 کلومیٹر تک ہے اور مؤثر ہونے کے لیے اسے ایک مقررہ وقت تک ہدف پر مرکوز رکھنا پڑتا ہے۔ تیز رفتار ڈرون کی صورت میں یہ ''ٹھہراؤ ‘‘ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
لیزر کی شعاع کو نمی، بارش، دھند، کہرا، برف، ریت، گرد اور سمندری پھوار جیسے عوامل بھی منتشر یا کمزور کر سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی شدید گرمی بھی لیزر کے حساس پرزوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور انہیں چلانا مشکل بنا دیتی ہے کیونکہ ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے چینی ساختہ لیزر کی آزمائش کے دوران انہی مسائل کی شکایت کی ہے۔
اس سے قبل خاصی توقعات کے باوجود اسرائیل کا آئرن بیم لیزر سسٹم ابھی تک ایران جنگ میں پوری طرح استعمال نہیں ہوا۔ اس کے ایک ورژن نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کے داغے گئے ڈرون مار گرائے ہیں لیکن اسرائیلی فضائیہ کے مطابق اس لیزر کو مؤثر ہونے کے لیے کم از کم 14 مزید بیٹریوں کی ضرورت ہے، جو فی الحال ملک کے پاس نہیں ہیں۔
لیزر وارز کے بانی کیلر کے مطابق یہی وجہ ہے کہ 100 کلو واٹ کا آئرن بیم لیزر سسٹم متحدہ عرب امارات کو بھیجنا ''ایک عملی و تکتیکی اقدام سے زیادہ ایک سفارتی چال ہو سکتی ہے۔‘‘
مشرق وسطیٰ میں لیزر ہتھیاروں کے حوالے سے جیو پولیٹیکل پہلو بھی واضح طور پر موجود ہے۔
کنگز کالج لندن کے اسکول آف سکیورٹی اسٹڈیز میں سینئر لیکچرار آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرح مختلف ذرائع سے لیزر ہتھیار خریدنا خلیجی ریاستوں کے لیے اپنے دفاع کو متنوع بنانے کا ایک طریقہ ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ مختصر مدت میں یہ انحصار ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن درمیانی اور طویل مدت میں خلیجی ریاستوں کو خود کفالت بڑھانے کے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔‘‘
ایران اور جیسا کہ سعودی اعلیٰ قیادت نے اس ہفتے کہا کہ اسرائیل سے خطرہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہے گا۔
کریگ نے کہا، ''یہ بات واضح ہے کہ انہیں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ایران کو تجارت اور استحکام میں خلل ڈالنے کا موقع دینے سے روکنے کی مضبوط صلاحیت بھی پیدا کرنی ہو گی۔ اس کا ایک راستہ یہ ہے کہ ایک زیادہ خود کفیل فضائی دفاعی چھتری بنائی جائے، جو امریکی اسلحے پر کم انحصار کرے کیونکہ امریکی اسلحہ حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
ادارت: شکور خان