سولر پینلز، اب کہیں بھی لگائے جا سکتے ہیں
سڑکوں سے لے کر کھیتوں اور سمندروں کے کھلے پانی پر بھی، سولر پلیٹس کہیں بھی لگائے جا سکتے ہیں اور شمسی توانائی اب تقریباً ہر جگہ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

پارکنگ ایریاز میں لگے سولر پینلز
جنوبی یورپ میں سپر مارکیٹیں اب اپنی پارکنگ لاٹس میں شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے سولر پلیٹس نصب کر رہی ہیں۔ یہاں خریداروں کو سایہ دار پارکنگ کے ساتھ الیکٹرک کار چارجنگ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمنی اور چین میں سڑک کنارے بھی سولر پینلز نصب کیے جاتے ہیں۔ یہ پینلز نہ صرف بجلی پیدا کرتے ہیں بلکہ ٹریفک کے شور کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ٹرین کی پٹڑی اور شمسی توانائی
سوئٹزرلینڈ نے 2025 میں اس وقت دنیا کو حیران کر دیا جب وہاں ٹرین کی پٹریوں پر شمسی توانائی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی انہی پٹڑیوں پر لگے ان سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر سوئس ٹرینیں بھی چل سکیں گی۔ حکام کے مطابق یہ نظام ہر سال سوئس ریلوے کی بجلی کی ضروریات کا تقریباً 44 فیصد پورا کرے گا۔
سولر پینلز تلے اگتی فصلیں
نئی ٹیکنالوجی نے کسانوں کے لیے بھی کچھ حد تک آسانی پیدا کر دی ہے۔ اب کھیتوں میں لگے شمسی پلیٹس اوپر سے بجلی پیدا کرتے ہیں اور ان کے سائے تلے اگتی ہیں فصلیں۔ گرم علاقوں میں یہ سایہ دار سولر پینلز پودوں میں موجود پانی کو بخارات بننے سے روکتے ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں بجلی اور اناج دونوں کی پیداوار کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ اسے کہتے ہیں زراعت اور توانائی کا بہترین امتزاج ہے۔
پانی سے بجلی کے بعد اب پانی کی سطح پر بجلی
شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اب سولر پینلز صرف زمین پر نہیں لگائے جائیں گے، اب دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں پر بھی تیرتے ہوئے سولر پارک دکھائی دیں گے۔ یہ فلوٹنگ پینلز پانی کی سطح پر تیرتے ہیں اور صاف، ماحول دوست بجلی پیدا کرتے ہیں۔ تو کیوں نا اب اس طریقے کو اپنا کر آپ بھی زمین بچائیں اور پانی کی سطح پر سولر پینلز کا جال بچھائیں۔
خوبصورتی اور توانائی ایک ساتھ
چھتوں اور بالکنیوں میں سولر پینلز لگانا تو اب عام سی بات ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب عمارت کی دیواروں اور سامنے والے حصے میں بھی سولر پینل نصب کیے جا سکتے ہیں؟ یہ پینلز نہ صرف بجلی بناتے ہیں بلکہ مختلف رنگوں میں بھی دستیاب ہیں تاکہ نصب کرنے کے بعد یہ عمارت کا ہی حصہ لگیں۔ روایتی پینلز کے مقابلے میں یہ زیادہ اسٹائلش ہوتے ہیں اور عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
خلا سے زمین اور پھر خلا کا سفر
کیا آپ جانتے ہیں کہ شمسی توانائی کی مدد سے 1950 کی دہائی سے ہی سیٹلائٹس کو بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ آج بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سورج سے حاصل ہونے والی بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔