عمران خان کی بینائی کا معاملہ، صورتِ حال کشیدہ
15 فروری 2026
عمران خان کی دائیں آنکھ کی مبینہ طور 85 فیصد بینائی ضائع ہونے کی اطلاعات کے بعد ملک بھر سے سامنے آنے والے شدید ردِعمل کے نتیجے میں حکومت نے سابق وزیرِاعظم کو علاج کے لیے جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھی۔ رواں ہفتے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سابق وزیرِاعظم کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے۔
تجزیہ کار نسیم زہرہ کے مطابق حکومت نے عمران خان کے علاج کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی، جو ان کے بقول ایک مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کے قریبی طبی ماہرین سے بات کی ہے، جن کے مطابق کھو جانے والی بینائی کو واپس لانا اگر ناممکن نہیں تو اب انتہائی مشکل ضرور ہو چکا ہے۔
عمران خان کے حق میں ملک بھر سے احتجاجی آوازیں
عمران خان کی بینائی کے مبینہ نقصان اور علاج میں مبینہ حکومتی غفلت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد، پشاور، صوابی، کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں دھرنوں، ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ احتجاج کے دوران اٹک پل بند ہونے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان اہم ترین زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، جبکہ جی ٹی روڈ بھی کئی مقامات پر احتجاج کی زد میں رہی۔ مظاہرین کی جانب سے ایک ریاست، دو دستور نامنظور، نامنظور اور عمران کو رہا کرو جیسے نعرے لگائے گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کی صحت سے متعلق ہمدردی اور احتجاجی پیغامات کی بھرمار ہے اور ایکس پر ان کے علاج سے متعلق ٹوئٹس ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس پارلیمنٹ کے بند گیٹ کے اندر سے موجود پولیس اہلکاروں سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کون ہے جو کھانا بھی اندر لانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ ویڈیو میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور انہیں پچھلے 24 گھنٹوں سے کھانا نہیں ملا، جبکہ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا کھانا روکنے والے مسلمان نہیں ہیں۔
عمران خان کے بنیادی حقوق اور ان کے طبی علاج کے مطالبے پر ملک کے اندر اور باہر سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان کے حق میں بیان دینے والوں میں وسیم اکرم، وقار یونس، شاہد آفریدی، معین خان اور محمد حفیظ سمیت ان کے سابق ساتھی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔
ہسپتال میں علاج کی اجازت دباؤ کا نتیجہ
تجزیہ کار امتیاز عالم نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے عمران خان کو ہسپتال میں علاج کی اجازت خوشی سے نہیں بلکہ دباؤ کے تحت دی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ عدالتیں عمران خان کی اپیلیں نہیں سن رہیں، مقدمات سست روی کا شکار ہیں اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مزاحمتی عمل شدت اختیار کرتا گیا تو صورتِ حال نیپال، بنگلہ دیش یا سری لنکا جیسے مناظر بھی اختیار کر سکتی ہے۔
عمران خان کے خاندانی ذرائع نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت اور خاندان کے درمیان بداعتمادی کی خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ ان کے بقول معاملہ اب صرف آنکھ کے علاج تک محدود نہیں رہا بلکہ اس بات کی تحقیقات ضروری ہیں کہ کہیں یہ بیماری کسی سازش کا نتیجہ تو نہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ عمران خان کو ایسی ادویات دی جا رہی ہوں جو خون کو گاڑھا کر رہی ہوں، کیونکہ آج آنکھ میں بننے والا کلاٹ کل جسم کے کسی اور حصے میں بھی بن سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کو صحت کے معاملے پر پراپیگنڈا نہیں کرنا چاہیے، ن لیگ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی بیماری کے معاملے میں حکومت بری طرح پھنس چکی ہے۔ اگر انہیں علاج کے لیے جیل سے باہر نہ نکالا گیا تو عوامی غصے میں اضافہ کسی بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ اگر حکومت انہیں کسی عوامی ہسپتال میں رکھتی ہے تو وہاں ان کے حامیوں کو کنٹرول کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
ایک قومی روزنامے سے وابستہ کالم نگار سلمان عابد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ عمران خان کی بیماری سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ان کے علاج میں دانستہ یا نادانستہ غفلت برتی گئی۔ ان کے مطابق، ''اس دوران عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں ان کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا ہو گئی ہے، جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے عمران خان کے اس بیانیے کو بھی تقویت دی ہے کہ انہیں ناانصافی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور دیگر وزرا کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست کر رہی ہے اور اسے بے بنیاد پراپیگنڈے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ ن لیگ کے وزرا کے مطابق حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
ان حالات میں عمران خان کے وکلا نے ان کی خراب ہوتی صحت کی بنیاد پر بدعنوانی کے مقدمات میں سنائی گئی 17 سال قید کی سزا معطل کرنے اور ان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔