1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مسجد ميں بم دھماکا، کم از کم سات افغان شہری ہلاک

13 جنوری 2013

افغانستان کی ایک مسجد ميں ہونے والے ايک بم دھماکے ميں کم از کم سات شہری مارے گئے ہیں۔ يہ دھماکا نيٹو کے زیر قیادت افغان فوجی دستوں اور طالبان عسکريت پسندوں کے درميان ہونے والے ایک مسلح تصادم کے بعد ہوا۔

https://p.dw.com/p/17J7S
تصویر: picture-alliance/dpa

صوبائی گورنر کے ترجمان شاہداللہ شاہد کے بقول يہ واقعہ صوبہ وردک کے سعيد آباد نامی علاقے ميں مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح قريب دو بجے پيش آيا۔ يہ علاقہ دارالحکومت کابل کے جنوب مغرب ميں واقع ہے۔ ترجمان کے بقول افغان اور نيٹو کے فوجی دستے عسکريت پسندوں کے خلاف رات گئے ايک کارروائی کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ ايک مسجد ميں چھپے چند عسکريت پسندوں نے ان پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی ميں چار عسکريت پسند مارے گئے۔

مسجد ميں دھماکہ اس وقت ہوا جب ہلاک شدہ عسکريت پسندوں کی لاشيں مسجد سے نکالی جا رہی تھيں۔ سرکاری ترجمان شاہداللہ شاہد نے جرمن خبر رساں دارے ڈی پی اے کو بتايا، ’’ہميں ابھی يہ معلوم نہيں ہو سکا ہے کہ يہ دھماکا خود کش جيکٹ کے پھٹنے يا کسی دھماکہ خيز مواد کے ذريعے ہوا۔‘‘

کابل سے موصولہ ڈی پی اے کی رپورٹ ميں اتحادی افواج کے ايک ترجمان نے بھی اس بات کی تصديق کر دی ہے کہ مسجد کے کمپاؤنڈ ميں کی جانے والی کارروائی ميں چار عسکريت پسند مارے گئے ہیں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے ميجر مارٹن کرائٹن نے کہا، ’’ہم اس واقعے ميں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے الزام سے واقف ہيں اور اس معاملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہيں۔‘‘

واقعہ صوبہ وردک کے سعيد آباد نامی علاقے ميں پيش آيا
واقعہ صوبہ وردک کے سعيد آباد نامی علاقے ميں پيش آياتصویر: AFP/Getty Images

ايک اور خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ ميں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ميڈيا کو جاری کردہ اپنی ايک ای ميل ميں يہ دعویٰ کيا ہے کہ ’امريکی فورسز‘ نے مسجد پر دو فضائی حملے کيے۔

چند مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسجد پر کارروائی اتحادی افواج کے فضائی دستوں نے کی لیکن ميجر کرائٹن اس کی ترديد کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اس واقعے ميں کوئی فضائی حملہ نہيں کيا گيا۔ ان کے بقول يہ ايک زمينی کارروائی تھی جس ميں نيٹو اور افغان افواج نے مسجد کے کمپاؤنڈ ميں دھماکا خيز مواد کو ناکارہ بنايا۔

واضح رہے کہ اسی قسم کی رات گئے کی جانے والی عسکری کارروائياں اور شہری ہلاکتيں ماضی ميں افغان حکومت اور مغربی ممالک کے درميان اختلافات کا باعث بنتی رہی ہيں۔

as/ia (Reuters, dpa)