میرس کا دورہ چین: جرمن چانسلر، چینی صدر مزید تعاون کے خواہاں
25 فروری 2026
جرمنی کی قدامت پسند یونین جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) سے تعلق رکھنے والے سربراہ حکومت فریڈرش میرس کا بطور چانسلر چین کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اس دورے کو بدلتے ہوئے عالمی سیاسی حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
فریڈرش میرس اس دورے کے لیے کل منگل کی سہ پہر جرمنی سے روانہ ہوئے تھے اور آج ان کا چین میں سرکاری مصروفیات کا پہلا پورا دن تھا۔ بدھ 25 فروری کے روز چانسلر میرس نے کہا کہ وہ چین میں جرمن صنعتی برآمد کنندگان کے لیے 'شاندار مواقع‘ دیکھ رہے ہیں جبکہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اس جرمن مہمان کی موجودگی میں زور دے کر کہا کہ برلن اور بیجنگ دونوں کو اپنے ''اسٹریٹیجک تعاون میں مزید اضافہ‘‘ کرنا چاہیے۔
میرس کا دورہ چین: جرمن چینی روابط میں چیلنج بڑے، مواقع نئے
فریڈرش میرس کے اس دورہ چین کا ایک ضمنی پس منظر یہ بھی ہے کہ ایک طرف اگر یورپ کے امریکہ کے ساتھ موجودہ سیاسی تعلقات ویسے نہیں ہیں، جیسے وہ ماضی میں عشروں تک رہے تھے، تو دوسری طرف خود عوامی جمہوریہ چین بھی، جو آبادی کے لحاظ سے اور اپنی معیشت کے حجم کے حوالے سے بھی دنیا کی دوسری بڑی طاقت ہے، امریکہ کے ساتھ تجارتی شعبے میں پائی جانے والی کشیدگی کی وجہ سے اپنے لیے مغربی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ زیادہ قربت کا خواہش مند ہے۔
میرس کی شی سے ملاقات
جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بدھ کے روز جو ملاقات کی، اس میں انہوں نے چینی صدر کو بتایا کہ برلن کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنایا جائے۔
میرس کا چین میں آج دیا جانے والا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ جرمن چانسلر بھی اب ان مغربی رہنماؤں میں شامل ہو گئے ہیں، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں چین کے دورے کیے ہیں۔
جرمنی نے اپنی پہلی خلائی دفاعی پالیسی کا اعلان کر دیا
میرس نے بیجنگ میں چینی سربراہ مملکت کے ساتھ ملاقات میں کہا، ''ہم (چین اور جرمنی) دنیا کی تین سب سے بڑی صنعتی اقوام میں شامل دو قومیں ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی ذمے داری ہے۔ لیکن یہ ایک بہت بڑا موقع بھی ہے۔‘‘
چانسلر میرس نے چینی صدر سے کہا کہ دونوں ممالک کے اچھے باہمی تعلقات کی تاریخ عشروں پرانی ہے اور ''میں چاہوں گا کہ ہم اسی راستے پر آگے بڑھیں۔‘‘
چین اور کینیڈا کے درمیان نئی اسٹریٹیجک شراکت داری
چینی صدر کی خواہش
چانسلر میرس کے ساتھ اپنی ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ برلن اور بیجنگ اپنے باہمی تعلقات کو ''ایک نئی بلند سطح تک‘‘ لےجا سکتے ہیں۔
شی جن پنگ نے فریڈرش میرس کو بتایا، ''میں آپ کے ساتھ مل کر ایسی کوششیں کرنے کے لیے تیار ہوں کہ جرمنی اور چین کے مابین جامع اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مسلسل آگے کی طرف سفر کے ساتھ نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔‘‘
ساتھ ہی صدر شی نے مزید کہا کہ انہوں نے چینی جرمن روابط کو ہمیشہ ہی بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کو آپس کے اسٹریٹیجک تعاون میں مزید اضافے کے راستے تلاش کرنا چاہییں۔
جرمنی، کیا فریڈرش میرس خارجہ پالیسی چیلنجز کے لیے تیار ہیں؟
جرمنی کے چین کے ساتھ تعلقات، خاص طور پر تجارتی روابط حالیہ مہینوں کے دوران ایک واضح اور امید افزا تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
میرس کی چینی وزیر اعظم سے ملاقات
چانسلر میرس اس دورے پر ایک بڑا جرمن کاروباری وفد بھی اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اس پہلو کو یوں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برس امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک بن گیا تھا اور دونوں کے مابین تجارت کا سالانہ حجم بھی 250 بلین یورو (294 بلین ڈالر) تک پہنچ گیا تھا۔
بیجنگ میں بدھ کے روز جرمن چانسلر نے چینی صدر کے علاوہ چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ایک علیحدہ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی فریڈرش میرس نے کہا کہ جرمنی چین کے ساتھ اقتصادی تبادلوں کے عمل میں بھی مزید قربت کا خواہش مند ہے۔
جرمنی کو ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت کیوں؟
میرس نے زور دے کر کہا، ''اس دوطرفہ تعاون پر جرمنی کے کچھ تحفظات بھی ہیں اور میں چاہوں گا کہ چینی جرمن تعاون منصفانہ بنیادوں پر آگے بڑھے۔‘‘
اسی تناظر میں جرمن سربراہ حکومت نے کھل کر کہا، ''یہ بہت ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھلے پن کے ساتھ بات چیت کریں۔‘‘
ادارت: جاوید اختر