1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میرس کا دورہ چین: جرمن چینی روابط میں چیلنج بڑے، مواقع نئے

مقبول ملک (کرسٹوف ہاسل باخ)
23 فروری 2026

جرمن چانسلر میرس اس ہفتے چین کا دورہ کر رہے ہیں، جو ان کا بطور چانسلر چین کا پہلا دورہ ہو گا اور اس لیے بہت اہم ہے کہ امریکہ کی طرف سے اپنے روایتی کردار سے دستبرداری کے بعد جرمنی اپنے لیے گلوبل پارٹنرز کی تلاش میں ہے۔

https://p.dw.com/p/59Hpu
وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس، دائیں، اور چینی صدر شی جن پنگ
وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس، دائیں، اور چینی صدر شی جن پنگتصویر: Li Xueren/Xinhua/-,Yauhen Yerchak/Zuma Wire/picture-alliance

اقتصادی حوالے سے عالمی صورت حال کے بارے میں اس وقت عمومی تجزیوں میں تاریک منظر کشی کے واقعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے رواں ماہ کے وسط میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے آغاز پر اپنی تقریر میں کہا تھا، ''بڑی طاقتوں کے اس دور میں ہماری آزادی کوئی ایسی شے نہیں جس کی ہمیشہ کے لیے ضمانت دی گئی ہو۔ یہ آزادی اس وقت خطرے میں ہے۔‘‘

جرمنی نے اپنی پہلی خلائی دفاعی پالیسی کا اعلان کر دیا

اپنی اسی سوچ کے حوالے سے جرمن چانسلر نے چین کا کھل کر ذکر کیا تھا۔  انہوں نے کہا تھا، ''چین کی خواہش ہے کہ وہ عالمی حالات و واقعات کی ہیئت پر اثر انداز ہو سکے۔ وہ اسٹریٹیجک تحمل سے اپنے اس عمل کے لیے بنیادیں کئی برسوں سے تعمیر کرتا رہا ہے۔ مستقبل قریب میں چین ممکنہ طور پر اپنی فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکہ کے تقریباﹰ ہم پلہ ہو جائے گا۔ چین ایک منظم طریقے سے دوسروں کے خود پر انحصار کو اپنے حق میں استعمال کرتا آیا ہے اور وہ بین الاقوامی نظام کی اپنی ہی شرائط پر نئی تشریح کے لیے بھی کوشاں ہے۔‘‘

وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس اب امریکہ کو ماضی کی طرح جرمنی اور یورپ کا ایک قابل بھروسہ پارٹنر نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اپنا وہ روایتی قائدانہ کردار خود ہی ترک کر دیا ہے، جو وہ ماضی میں عشروں تک ادا کرتا رہا تھا۔

جرمنی، کیا فریڈرش میرس خارجہ پالیسی چیلنجز کے لیے تیار ہیں؟

جرمن چانسلر میرس چین کا یہ دورہ وزیر اعظم لی چیانگ (تصویر) کی دعوت پر کر رہے ہیں
جرمن چانسلر میرس چین کا یہ دورہ وزیر اعظم لی چیانگ (تصویر) کی دعوت پر کر رہے ہیںتصویر: Alexi J. Rosenfeld/Getty Images/AFP

میرس کا دورہ چین

جرمن چانسلر میرس منگل 24 فروری کو اپنے دورہ چین کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو بطور چانسلر ان کا عوامی جمہوریہ چین کا اولین دورہ ہو گا۔ وہ یہ دورہ چینی وزیر اعظم لی چیانگ کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

فریڈرش میرس کا چین کا یہ دورہ مئی 2025ء میں برلن میں وفاقی جرمن حکومت کا سربراہ بننے کے بعد سے پہلا دورہ ہے، جو انہیں بیجنگ لے جائے گا۔

جرمنی کو ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت کیوں؟

اپنے اس دورے پر روانگی سے قبل چانسلر میرس نے کہا ہے کہ وہ اس دورے کے دوران چینی قیادت کے ساتھ ''اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘‘ پر بات چیت کریں گے۔

لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ بیجنگ برلن کو ایسی کسی پارٹنرشپ کے لیے جو بھی پیشکش کر سکتا ہے، وہ کتنی حوصلہ افزا اور پرامید کر دینے والی ہو گی؟

جرمنی: جاسوسی کے شُبے میں ایک چینی خاتون گرفتار

چینی وزیر خارجہ وانگ یی رواں ماہ میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
چینی وزیر خارجہ وانگ یی رواں ماہ میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Alexandra Beier/AFP

چیلنج اور مواقع

اس بارے میں برلن کی فری یونیورسٹی کے چینی امور کے ماہر ایبرہارڈ زانڈ شنائڈر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ظاہر ہے کہ ہر وہ شے جس کا چین خواہش مند ہے، خود بخود تو جرمنی کے اپنے مفادات میں نہیں ہو گی۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مکالمت اور بھرپور مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔‘‘

شی کی پوٹن اور ٹرمپ سے بیک ٹو بیک گفتگو: بیجنگ کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

چانسلر فریڈرش میرس کے ساتھ سرکردہ جرمن کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی چین جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانا چاہیے کہ چین 2025ء میں امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک بن گیا تھا۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 250 بلین یورو (294 بلین ڈالر) کے برابر رہا تھا۔

اس پس منظر میں یہ بات تو یقینی ہے کہ جرمنی اور چین کے باہمی تعلقات میں بہت سے چیلنجز بھی ہیں لیکن یہی دوطرفہ روابط اپنے اندر بہت سے نئے مواقع بھی لیے ہوئے ہیں۔  ان چیلنجز پر قابو پانا اور نئے مواقع کو استعمال میں لانا ہی مستقبل کے جرمن چینی تعلقات کی کامیابی کا ضامن ہو گا۔

ادارت: جاوید اختر

چین کی جرمن زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔