میرس کا دورہ چین: جرمن چینی روابط میں چیلنج بڑے، مواقع نئے
23 فروری 2026
اقتصادی حوالے سے عالمی صورت حال کے بارے میں اس وقت عمومی تجزیوں میں تاریک منظر کشی کے واقعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے رواں ماہ کے وسط میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے آغاز پر اپنی تقریر میں کہا تھا، ''بڑی طاقتوں کے اس دور میں ہماری آزادی کوئی ایسی شے نہیں جس کی ہمیشہ کے لیے ضمانت دی گئی ہو۔ یہ آزادی اس وقت خطرے میں ہے۔‘‘
جرمنی نے اپنی پہلی خلائی دفاعی پالیسی کا اعلان کر دیا
اپنی اسی سوچ کے حوالے سے جرمن چانسلر نے چین کا کھل کر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ''چین کی خواہش ہے کہ وہ عالمی حالات و واقعات کی ہیئت پر اثر انداز ہو سکے۔ وہ اسٹریٹیجک تحمل سے اپنے اس عمل کے لیے بنیادیں کئی برسوں سے تعمیر کرتا رہا ہے۔ مستقبل قریب میں چین ممکنہ طور پر اپنی فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکہ کے تقریباﹰ ہم پلہ ہو جائے گا۔ چین ایک منظم طریقے سے دوسروں کے خود پر انحصار کو اپنے حق میں استعمال کرتا آیا ہے اور وہ بین الاقوامی نظام کی اپنی ہی شرائط پر نئی تشریح کے لیے بھی کوشاں ہے۔‘‘
وفاقی جرمن چانسلر فریڈرش میرس اب امریکہ کو ماضی کی طرح جرمنی اور یورپ کا ایک قابل بھروسہ پارٹنر نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے اپنا وہ روایتی قائدانہ کردار خود ہی ترک کر دیا ہے، جو وہ ماضی میں عشروں تک ادا کرتا رہا تھا۔
جرمنی، کیا فریڈرش میرس خارجہ پالیسی چیلنجز کے لیے تیار ہیں؟
میرس کا دورہ چین
جرمن چانسلر میرس منگل 24 فروری کو اپنے دورہ چین کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جو بطور چانسلر ان کا عوامی جمہوریہ چین کا اولین دورہ ہو گا۔ وہ یہ دورہ چینی وزیر اعظم لی چیانگ کی دعوت پر کر رہے ہیں۔
فریڈرش میرس کا چین کا یہ دورہ مئی 2025ء میں برلن میں وفاقی جرمن حکومت کا سربراہ بننے کے بعد سے پہلا دورہ ہے، جو انہیں بیجنگ لے جائے گا۔
جرمنی کو ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت کیوں؟
اپنے اس دورے پر روانگی سے قبل چانسلر میرس نے کہا ہے کہ وہ اس دورے کے دوران چینی قیادت کے ساتھ ''اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘‘ پر بات چیت کریں گے۔
لیکن اہم بات یہ بھی ہے کہ بیجنگ برلن کو ایسی کسی پارٹنرشپ کے لیے جو بھی پیشکش کر سکتا ہے، وہ کتنی حوصلہ افزا اور پرامید کر دینے والی ہو گی؟
جرمنی: جاسوسی کے شُبے میں ایک چینی خاتون گرفتار
چیلنج اور مواقع
اس بارے میں برلن کی فری یونیورسٹی کے چینی امور کے ماہر ایبرہارڈ زانڈ شنائڈر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ظاہر ہے کہ ہر وہ شے جس کا چین خواہش مند ہے، خود بخود تو جرمنی کے اپنے مفادات میں نہیں ہو گی۔ اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مکالمت اور بھرپور مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔‘‘
شی کی پوٹن اور ٹرمپ سے بیک ٹو بیک گفتگو: بیجنگ کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟
چانسلر فریڈرش میرس کے ساتھ سرکردہ جرمن کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی چین جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانا چاہیے کہ چین 2025ء میں امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جرمنی کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک بن گیا تھا۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 250 بلین یورو (294 بلین ڈالر) کے برابر رہا تھا۔
اس پس منظر میں یہ بات تو یقینی ہے کہ جرمنی اور چین کے باہمی تعلقات میں بہت سے چیلنجز بھی ہیں لیکن یہی دوطرفہ روابط اپنے اندر بہت سے نئے مواقع بھی لیے ہوئے ہیں۔ ان چیلنجز پر قابو پانا اور نئے مواقع کو استعمال میں لانا ہی مستقبل کے جرمن چینی تعلقات کی کامیابی کا ضامن ہو گا۔
ادارت: جاوید اختر