1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شی کی پوٹن اور ٹرمپ سے بیک ٹو بیک گفتگو کیا معنی رکھتی ہے؟

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
5 فروری 2026

شی جن پنگ کی پوٹن اور ٹرمپ سے یکے بعد دیگرے ٹیلی فونک رابطوں نے عالمی سفارت کاری کے منظر نامے پر غیر معمولی ہلچل مچا دی ہے۔ اس سے چین کی ابھرتی ہوئی مستحکم پوزیشن واضح نظر آ رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/587wI
چین کے صدر شی جن پنگ سال نو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے
بیجنگ خود کو ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہےتصویر: Yan Yan/Xinhua/AP Photo/picture alliance

 

چین کے صدر شی جن پنگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یکے بعد دیگرے بات چیت  کر کے عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی ماحول پیدا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وقت اور ترتیب نہ صرف منفرد ہے بلکہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ بیجنگ خود کو ایک ایسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو ہنگامہ خیز بین الاقوامی ماحول میں استحکام کا پیغام دینا چاہتا ہے۔

مودی کی چین سے قربت، امریکہ سے دوری ہے؟

 

روسی اور امریکی صدور سے ایک ہی دن میں رابطہ کیوں؟

شی جن پنگ  نے بدھ کی دوپہر ولادیمیر پوٹن  کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کی اور چند گھنٹے بعد ہی ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایشیا گروپ (TAG) جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم اسٹریٹیجک ایڈوائزری اور مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم سے وابستہ جارج چن کے مطابق یہ غیر معمولی اور قابلِ توجہ ہے، '' شی کا ایک ہی دن میں پوٹن اور ٹرمپ دونوں سے بات کرنا عام بات نہیں‘‘۔

روسی صدر دفتر کریملن کے مطابق شی اور پوٹن کی گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، جبکہ ٹرمپ  نے شی کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک کال کو ''طویل اور تفصیلی‘‘ بات چیت قرار دیا۔

روسی صدر پوٹن ویڈیو کال پر شی جن پنگ سے بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں
شی جن پنگ نے بدھ کی دوپہر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کی تصویر: Kremlin Pool/Russian Look/picture alliance

سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیلن لوہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شی باآسانی دنیا کے دو بااثر رہنماؤں سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ چین کے لیے ''بہت اہم‘‘ ممالک ہیں، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ  محض شیڈولنگ کا اتفاق ہی ہو۔

کیا بات چیت ہوئی؟

صدر ٹرمپ کے مطابق ان کی شی جن پنگ سے گفتگو میںتجارت، یوکرین میں روس کی جنگ اور ایران کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے موجودہ سیزن میں امریکہ سے 2 کروڑ ٹن سویا بین خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔

ڈیلن لوہ کے مطابق اس کال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حالات کے باوجود امریکہ اور چین کے تعلقات میں قلیل مدتی استحکام آ سکتا ہے۔ تائیوان کے معاملے پر شی نے واشنگٹن کو اس جزیرے کو اسلحہ فروخت کرنے میں احتیاط برتنے کی تنبیہ کی۔ یاد رہے کہ چین، تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا  اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے بل پر اسے چین کا حصہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔

تاہم تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے کہا کہ وہ اس فون کال پر پریشان نہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ اس سے صورتحال کو استحکام ملے گا۔

پاکستان کے قدرتی وسائل پر چین اور امریکہ کی نظریں

دوسری جانب شی اور پوٹن نےچین  اور روس کے باہمی تعلقات کی مضبوطی کی تعریف کی، خاص طور پر مغرب کے مقابل مشترکہ مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے۔ دونوں ممالک سن 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مزید قریب آئے ہیں، جس نے ماسکو کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا تھا۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ 30 اکتوبر 2025 کو جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں Gimhae ایئر بیس پر دو طرفہ ملاقات کے بعد روانہ ہوتے ہوئے مصافحہ کر رہے ہیں
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کی شی جن پنگ سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں تجارت، یوکرین میں روس کی جنگ اور ایران کے بارے میں بات چیت ہوئیتصویر: Andrew Harnik/Getty Images

یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندے تقریباً چار سالہ یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے ابوظہبی میں نئے مذاکرات کر رہے تھے۔

شی کی کالز کے ممکنہ اثرات

کریملن کے مطابق پوٹن نے سن 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کے  دورے کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپریل میں بیجنگ کے اپنے اعلان کردہ دورے کے منتظر ہیں۔ پوٹن نومبر میں شی کے میزبانی میں ہونے والے APEC سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

یہ کالز شی کی حالیہ سرگرم سفارت کاری کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے وہ چین کو واشنگٹن کے مقابلے میں ایک مستحکم متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین–روس تعلقات '' اٹل‘‘ نہیں اور بیجنگ اور ٹرمپ انتظامیہ ایک دوسرے سے وہ مطالبات کر سکتے ہیں جو پورے کرنا مشکل ہوں۔

 

ادارت: عاطف بلوچ