شی کی پوٹن اور ٹرمپ سے بیک ٹو بیک گفتگو کیا معنی رکھتی ہے؟
5 فروری 2026
چین کے صدر شی جن پنگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یکے بعد دیگرے بات چیت کر کے عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی ماحول پیدا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وقت اور ترتیب نہ صرف منفرد ہے بلکہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ بیجنگ خود کو ایک ایسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو ہنگامہ خیز بین الاقوامی ماحول میں استحکام کا پیغام دینا چاہتا ہے۔
روسی اور امریکی صدور سے ایک ہی دن میں رابطہ کیوں؟
شی جن پنگ نے بدھ کی دوپہر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کی اور چند گھنٹے بعد ہی ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایشیا گروپ (TAG) جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم اسٹریٹیجک ایڈوائزری اور مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم سے وابستہ جارج چن کے مطابق یہ غیر معمولی اور قابلِ توجہ ہے، '' شی کا ایک ہی دن میں پوٹن اور ٹرمپ دونوں سے بات کرنا عام بات نہیں‘‘۔
روسی صدر دفتر کریملن کے مطابق شی اور پوٹن کی گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، جبکہ ٹرمپ نے شی کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک کال کو ''طویل اور تفصیلی‘‘ بات چیت قرار دیا۔
سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیلن لوہ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شی باآسانی دنیا کے دو بااثر رہنماؤں سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور امریکہ چین کے لیے ''بہت اہم‘‘ ممالک ہیں، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض شیڈولنگ کا اتفاق ہی ہو۔
کیا بات چیت ہوئی؟
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کی شی جن پنگ سے گفتگو میںتجارت، یوکرین میں روس کی جنگ اور ایران کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے موجودہ سیزن میں امریکہ سے 2 کروڑ ٹن سویا بین خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔
ڈیلن لوہ کے مطابق اس کال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حالات کے باوجود امریکہ اور چین کے تعلقات میں قلیل مدتی استحکام آ سکتا ہے۔ تائیوان کے معاملے پر شی نے واشنگٹن کو اس جزیرے کو اسلحہ فروخت کرنے میں احتیاط برتنے کی تنبیہ کی۔ یاد رہے کہ چین، تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے بل پر اسے چین کا حصہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
تاہم تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے کہا کہ وہ اس فون کال پر پریشان نہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ اس سے صورتحال کو استحکام ملے گا۔
دوسری جانب شی اور پوٹن نےچین اور روس کے باہمی تعلقات کی مضبوطی کی تعریف کی، خاص طور پر مغرب کے مقابل مشترکہ مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے۔ دونوں ممالک سن 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مزید قریب آئے ہیں، جس نے ماسکو کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا تھا۔
یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندے تقریباً چار سالہ یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے ابوظہبی میں نئے مذاکرات کر رہے تھے۔
شی کی کالز کے ممکنہ اثرات
کریملن کے مطابق پوٹن نے سن 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپریل میں بیجنگ کے اپنے اعلان کردہ دورے کے منتظر ہیں۔ پوٹن نومبر میں شی کے میزبانی میں ہونے والے APEC سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
یہ کالز شی کی حالیہ سرگرم سفارت کاری کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے وہ چین کو واشنگٹن کے مقابلے میں ایک مستحکم متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین–روس تعلقات '' اٹل‘‘ نہیں اور بیجنگ اور ٹرمپ انتظامیہ ایک دوسرے سے وہ مطالبات کر سکتے ہیں جو پورے کرنا مشکل ہوں۔
ادارت: عاطف بلوچ