1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتروس

پوٹن کے گھر پر حملے کے بعد روس یوکرین امن مزاکرات خطرے میں

صلاح الدین زین اے پی، اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ
30 دسمبر 2025

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات کو اس وقت شدید دھچکا لگا، جب روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی افواج نے صدر ولادیمیر پوٹن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون سے حملہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/567TA
پوٹن اور زیلنسکی
ماسکو نے روسی صدر کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کا الزام یوکرین پر عائد کیا جبکہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کیتصویر: Mandel Ngan/Andrew Caballero-Reynolds/AFP

روس نے پیر کے روز کہا کہ صدر ولادیمیر پوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد ماسکو جنگ سے متعلق امن مذاکرات پر اپنے موقف میں نظرثانی کرنے پر غور کر رہا ہے۔ روس نے پوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کی ذمہ داری یوکرین پر عائد کی ہے۔ البتہ ماسکو نے اپنے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے "مکمل من گھڑت" قرار دیا اور روس پر الزام لگایا کہ وہ کییف میں سرکاری عمارتوں پر حملے کے لیے زمین تیار کر رہا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ کییف نے روس کے شمال مغربی نوگوروڈ علاقے میں واقع پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر طویل فاصلے تک مار کرنے والی بغیر پائلٹ والی تقریبا 90 فضائی گاڑيوں کا استعمال کرتے ہوئے رات کے دوران حملہ کیا۔

اس دوران روس کے اپنے علاقائی عزائم پر ثابت قدم رہنے کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہوئے، صدر پوٹن نے کہا کہ ان کے جرنیلوں کو زاپوریژیا کے تمام خطے کو محفوظ بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔ واضح رہے اس خطے پر ماسکو کو پہلے ہی سے تقریباً 75 فیصد کنٹرول حاصل ہے۔

حملے پر ٹرمپ کا رد عمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر اپنے پہلے رد عمل میں کہا کہ وہ اس خبر سے "بہت ناراض" ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "مجھے یہ پسند نہیں ہے، یہ قطعی اچھی بات نہیں ہے۔"

ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، "حملہ کرنا ایک چیز ہوتی ہے، تاہم ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنا ایک الگ بات ہے۔ ایسا کچھ بھی کرنے کا صحیح وقت نہیں ہے۔ اور مجھے آج صدر پوٹن سے اس کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں اس پر بہت ناراض تھا۔"

امریکی صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے رد عمل میں کہا کہ وہ اس خبر سے بہت ناراض ہیں اور انہیں یہ پسند نہیں ہے، یہ قطعی اچھی بات نہیں ہے تصویر: Allison Robbert/UPI Photo/Newscom/picture alliance

اتوار کے روز ہی ٹرمپ نے فلوریڈا میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی اور بات چیت کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے "بہت قریب، شاید بہت قریب" پہنچ رہے ہیں۔

شہباز شریف کی سخت مذمت

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹس کی مذمت کرتے ہوئے اسے "گھناؤنا فعل" قرار دیا۔

سول شل میڈيا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا، "پاکستان روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوٹن کی رہائش گاہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی گھناؤنی حرکت امن و سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم ہر قسم کے تشدد اور سلامتی کو نقصان پہنچانے اور امن کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کو سختی سے مسترد کرنے کا اعادہ کرتے ہیں۔"

یوکرین امریکی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا، زیلنسکی

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فوکس نیوز کو بتایا کہ یوکرین امریکی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا۔

انہوں نے کہا، "کیا ہم امریکی حمایت کے بغیر جیت سکتے ہیں؟ نہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پوٹن پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ یوکرین کے لیے کامیابی نہیں چاہتے ہیں۔

اس سے قبل پیر کے روز یوکرینی صدر نے کہا کہ 20 نکاتی امن کی تجویز میں دو اہم مسائل کو حل کرنا باقی ہے۔ اس میں روس کی کنٹرول میں زیپوریزیا نیوکلیئر پاور سٹیشن کا کنٹرول اور ڈونباس کے علاقے کی قسمت شامل ہے۔

ادارت: رابعہ بگٹی

امن مذاکرات کے دوران روس کے یوکرین پر تازہ حملے

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔