1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

پاکستان: اندرون ملک فضائی سفر کا ترقی کرتا ہوا شعبہ

24 جنوری 2026

حالیہ برسوں کے دوران پاکستان میں اندرون ملک فضائی سفر کے شعبے نےکافی ترقی کی ہے۔ کیا یہ شعبہ نئی ایئر لائنز کی آمد، پی آئی اے کی نجکاری اور ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن سے نئی بلندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے؟

https://p.dw.com/p/576uo
ڈومیسٹک ایئر ٹریول میں تبدیلی آئی ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ صرف دو بڑے روٹس ہیں: کراچی-لاہور اور کراچی-اسلام آباد
ڈومیسٹک ایئر ٹریول میں تبدیلی آئی ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ صرف دو بڑے روٹس ہیں: کراچی-لاہور اور کراچی-اسلام آبادتصویر: Ismat Jabeen/DW

پاکستان دنیا کی آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے اور اندرون ملک فضائی سفر کے رجحان میں پچھلے کئی سالوں سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈومیسٹک ایئر ٹریول مارکیٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے علاوہ دیگر ایئر لائنز کی آمد سے مقابلہ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں خدمات میں بہتری آئی ہے اور اس شعبے میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔

بیرون ملک سفر کے لیے درجنوں ایئر لائنز دستیاب ہیں، جن میں پی آئی اے اور ایئر سیال جیسی ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن اندرون ملک سفر کے لیے اب مسافر مختلف پاکستانی فضائی کمپنیوں میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ فی الحال کم از کم پانچ مقامی فضائی کمپنیاں کمرشل پروازوں کے ذریعے ڈومیسٹک ایئر ٹریول ممکن بنا رہی ہیں۔

ان میں سب سے بڑی اور قدیم پی آئی اے ہے، جو ماضی میں سرکاری ادارے کے تحت کام کرتی تھی اور حال ہی میں اس کی نجکاری ہوئی ہے۔ اس کا انتظام اور کاروبار خریدار ادارے کے حوالے کرنے کا قانونی عمل جاری ہے۔ دیگر نجی کمپنیاں ایئر بلیو، ایئر سیال اور فلائی جناح ہیں۔ ایک اور نجی ایئر لائن سیرین ایئر (SereneAir) بھی ہے، مگر اکتوبر 2025 سے تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس کی تمام پروازیں معطل ہیں۔

پاکستان میں فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی تعداد

ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو ملا کر پاکستان میں مسافر پروازوں کے لیے استعمال ہونے والی فضائی کمپنیوں کی تعداد تین درجن سے زائد ہے اور عموماً 37 سے 39 کے درمیان رہتی ہے۔ ہوائی اڈوں اور ایروڈرومز کی مجموعی تعداد 131 سے 151 کے درمیان ہے، جن میں باقاعدہ ہوائی اڈوں کی تعداد 25 ہے۔ ان میں سے 10 انٹرنیشنل گیٹ وے کے طور پر کام کرتے ہیں۔

عام مسافر ایک گھنٹے کی فلائٹ کے لیے اوسطاً تقریباً 100 امریکی ڈالر کے برابر کرایہ ادا کرتے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر بہت کم ہے
عام مسافر ایک گھنٹے کی فلائٹ کے لیے اوسطاً تقریباً 100 امریکی ڈالر کے برابر کرایہ ادا کرتے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر بہت کم ہےتصویر: Ismat Jabeen/DW

بین الاقوامی سفر کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہوائی اڈے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور سیالکوٹ ہیں۔ انہی چھ اڈوں سے اندرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

پاکستان: ایئر ٹریفک کم، یورپ میں پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، جو پی آئی اے کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں بزنس ٹورازم بہت کم ہے۔ بیرون ملک سفر زیادہ تر ان مقامات تک ہوتا ہے، جہاں پاکستانی بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ دنیا نے پاکستان کی سول ایوی ایشن کو قبول کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انگلینڈ اور یورپ میں پی آئی اے اور ایئر بلیو کو آپریٹ کرنے کی اجازت ہے، جبکہ پی آئی اے کینیڈا میں بھی کام کر رہی ہے۔ پاکستانی ایئر لائنز اب دنیا کی بہت سی جگہوں پر آپریٹ کر رہی ہیں یا مستقبل میں کر سکیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی نہیں لگائی تھی بلکہ پاکستان میں رجسٹرڈ طیاروں پر پابندی تھی، جو پائلٹ لائسنسوں کے ایشو کی وجہ سے لگی تھی۔ اب یہ پابندی ختم ہو چکی ہے اور دونوں ایئر لائنز یورپ میں آزادانہ آپریٹ کر سکتی ہیں۔

آپریٹرز کے لیے زیادہ لاگت

ان کے بقول ڈومیسٹک ایئر ٹریول میں تبدیلی آئی ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ صرف دو بڑے روٹس ہیں: کراچی-لاہور اور کراچی-اسلام آباد۔ انہی پر زیادہ ٹریفک ہے۔ سالانہ تقریباً پانچ سے چھ ملین مسافر فضائی سفر کرتے ہیں اور اس تعداد میں بہت زیادہ اضافہ مشکل ہے کیونکہ ریل اور موٹر ویز کے متبادل دستیاب ہیں۔ اس لیے فضائی سفر کی شرح میں سالانہ بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا۔

عام مسافر ایک گھنٹے کی فلائٹ کے لیے اوسطاً تقریباً 100 امریکی ڈالر کے برابر کرایہ ادا کرتے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر بہت کم ہے۔ آپریٹرز کے لیے لاگت زیادہ ہے کیونکہ لیز پر طیارے لینے میں پریمیم ادا کرنا پڑتا ہے۔ طیاروں کے پرزوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس زیادہ ہیں اور دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے انشورنس ریٹ بھی بلند ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی صارفین کو ملنے والی ویلیو بہت اچھی ہے۔

سیف اللہ خان کہتے ہیں کہ مستقبل کے لیے سکھر، فیصل آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس کی فیزیبلٹی اور پلاننگ بھی جاری ہے
سیف اللہ خان کہتے ہیں کہ مستقبل کے لیے سکھر، فیصل آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس کی فیزیبلٹی اور پلاننگ بھی جاری ہےتصویر: Ismat Jabeen/DW

ماضی کی غلطیاں

پی آئی اے کی سابق سینئر پرسنل روبینہ اشرف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ڈومیسٹک ایئر ٹریول میں اتنی ترقی نہیں ہوئی، جتنی ہو سکتی تھی۔ کراچی مصروف ترین ایئرپورٹ ہے مگر کوئٹہ میں دہشت گردی کی وجہ سے زمینی سفر کے بجائے فضائی سفر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ افسوسناک ہے کہ ماضی میں پاکستانی پائلٹوں کے بارے میں جھوٹ پھیلایا گیا۔ پاکستانی پائلٹ باصلاحیت ہیں اور 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے بعد بھی بیرون ملک کام مل جاتا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گزشتہ 25 برسوں میں شہری ہوا بازی کا شعبہ مثبت تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ جدید ٹرمینلز، بہتر رن ویز، ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم اور نیویگیشن ٹیکنالوجی دستیاب ہیں۔ اگست 2024 میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) خود مختار ادارے کے طور پر قائم ہوئی تاکہ ہوائی اڈوں کے انتظام، ترقی اور سرمایہ کاری پر توجہ دی جا سکے۔

نئے منصوبوں کا آغاز

سیف اللہ خان کے مطابق لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ٹرمینل توسیع جاری ہے، جو ستمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گی۔ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے اپ گریڈیشن، نئی ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور، ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ اسٹیشن اور توسیع کے منصوبے زیر عمل ہیں۔ پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر سائیڈ اور ایئر ٹریفک انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے۔ سکردو میں نئے ٹرمینل اور تمام موسموں کے لیے فلائٹ پروسیجرز کی منصوبہ بندی ہے۔

تربت ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن تقریباً مکمل ہے اور فروری سے پروازیں شروع ہو سکتی ہیں۔ بنوں اور پاراچنار ایئرپورٹس کی بہتری جاری ہے تاکہ جون 2026 تک چھوٹے طیاروں کی محفوظ لینڈنگ ممکن ہو۔ ڈیرہ غازی خان کے اپ گریڈیشن پلان کی منظوری کے بعد کام شروع ہو جائے گا۔

سیف اللہ خان کہتے ہیں کہ مستقبل کے لیے سکھر، فیصل آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹس کی فیزیبلٹی اور پلاننگ بھی جاری ہے، جو علاقائی رابطوں، تجارت اور معیشت کو فروغ دیں گے۔