1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آئی ایم ایف کی پاکستان کے ساتھ بجلی کے ٹیرف پر بات چیت

افسر اعوان روئٹرز کے ساتھ
14 فروری 2026

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں مجوزہ ترامیم پر بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات آئی ایم ایف کی طرف سے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/58kpi
آئی ایم ایف کا لوگو
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں مجوزہ ترامیم پر بات چیت کر رہا ہے۔ تصویر: AFP

آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترامیم کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے گھرانوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ''حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ ترامیم ان وعدوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں، اور افراطِ زر سمیت میکرو اکنامک استحکام پر ان کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔‘‘

اسلام آباد میں بجلی کے کھمبوں کی قطاریں
آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں مجوزہ ترامیم کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے گھرانوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔تصویر: Shazia Mehboob/DW

بدعنوانی نے پاکستان کی ترقی کا گلا گھونٹ دیا ہے، آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قرض کی منظوری

پاکستان نے ٹیرف میں تبدیلی کے مجوزہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن صنعت پر دباؤ کم ہوگا، کیونکہ ملک اپنے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی سہولت (EFF) کے تحت شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پروگرام کا اگلا جائزہ بھی قریب ہے۔

ای ایف ایف، آئی ایم ایف کا ایک طویل المدتی قرض کا پروگرام ہے جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور ادائیگیوں کے توازن کے درمیانی مدت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں بجلی کی قیمتیں خاصی اہمیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل ایک انتہائی حساس معاملہ بن جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی 2023 میں تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہونے کے باوجود اب بھی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔

ایک ریلی کے دوران پاکستان کا پرچم لہراتا ایک شخص۔ فائل فوٹو
پاکستان نے ٹیرف میں تبدیلی کے مجوزہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا لیکن صنعت پر دباؤ کم ہوگا۔تصویر: Afifa Nasrallah/DW

پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہونے والے غیر ادا شدہ بلوں اور سبسڈیز کا ایک سلسلہ ہے۔ اسی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے تحت بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ کیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ وصولیوں میں بہتری اور نقصانات کی روک تھام کی بدولت پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔

آئی ایم ایف چیف کا پاکستانی اقتصادی حالت پر اظہار ہمدردی

ادارت: کشور مصطفیٰ