افغان شہریوں پر حملے جنگی کارروائیاں ہیں، بھارت
11 دسمبر 2025
بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق اجلاس میں پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت افغانستان میں فضائی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے خدشات سے اتفاق کرتا ہے۔
اقوم متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے پرواتھنی ہریش نے حالیہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ’’خواتین، بچوں اور کرکٹرز سمیت عام شہری مارے گئے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ جنگ بندی کے باوجود رواں ہفتے کے اوائل میں افغان طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کو توڑنے کا الزام لگایا تھا۔
بھارت نے مزید کیا کہا؟
بدھ کے روز افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی مندوب نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسی اپنائے جن سے افغانستان کے لوگوں کے لیے پائیدار فوائد حاصل کرنے میں مدد ملے۔
بھارت سفیر کا کہنا تھا، ’’بھارت فضائی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی تشویش کی حمایت کرتا ہے، اور افغانستان میں معصوم خواتین، بچوں اور کرکٹرز کے قتل کی مذمت کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کرنے کے مطالبات میں ہم اپنی آواز کو شامل کرتے ہیں اور خاص طور پر معصوم شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔‘‘
اسی اجلاس میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب نےسلامتی کونسل کو آگاہ کرتے ہوئے کہا، ’’افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا اور سنگین خطرہ ہے۔‘‘
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اپنی تقریر کے دوران ایک علاقائی ملک کا حوالے دیتے ہوئے کہا، ’’ایک موقع پرست اور بگاڑ پیدا کرنے والا ملک دہشت گرد گروہوں کو مالی، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کر کے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو تیز کر رہا ہے۔‘‘
ان کا واضح اشارہ ہمسایہ ملک بھارت کی جانب تھا، جس کے افغان طالبان سے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں۔
پاکستان افغان سرحد پر تجارتی بندش پر تنقید
افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بیچ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی متاثر ہوئی ہے اور اس پر بھی بھارت نے شدید نکتہ چینی کی۔
بھارتی سفیر کا کہنا تھا، ’’ہم ’تجارتی اور ٹرانزٹ دہشت گردی‘ کے عمل کو بھی گہری تشویش کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں اور یہ کہ افغانستان کے لوگوں تک رسائی کو مذموم بندش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں کے لوگ کئی سالوں سے مشکل حالات کا شکار ہیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ کارروائیاں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کی کھلی دھمکیاں، ایک کمزور قوم کے خلاف جنگی کارروائیاں ہیں، جو مشکل حالات میں تعمیر نو کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ایسی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، ہم افغانستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے طالبان کے ساتھ ’’عملی روابط‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ خالصتاً تعزیراتی اقدامات حالات کو تبدیل نہیں کر سکتے اور صورتحال جوں کی توں برقرار رکھیں گے۔
پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ بھارت نے صحت کی دیکھ بھال کی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے افغانستان کے لیے انسانی امداد میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی نمائندے نے کہا کہ نئی دہلی نے تھیلیسیمیا سینٹر اور ایک جدید تشخیصی مرکز کے قیام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ بھارت کابل کے بگرام ضلع میں 30 بستروں کا ہسپتال، کابل میں ایک آنکولوجی سینٹر اور ٹراما سینٹر اور پانچ میٹرنٹی ہیلتھ کلینکس تعمیر کرے گا۔
وا ضح رہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے کی حیثیت میں بحال کر دیا ہے اور پورے افغانستان میں 500 سے زیادہ ترقیاتی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی سفیر نے کہا، ’’افغانستان کے ایک ہمسایہ کے طور پر، بھارت اپنے تہذیبی تعلقات اور صدیوں پرانے دوستی کی قدر کرتا ہے۔‘‘
پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ''ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام‘‘ نہ اٹھائے تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب طالبان کا موقف رہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں اور وہ اسلام آباد حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اندرون ملک سکیورٹی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے افغان طالبان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔
ادارت: شکور رحیم