1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امريکا کی افغانستان ميں آئندہ موجودگی، خطے کے ممالک ناخوش

17 مئی 2012

افغانستان سے تمام غير ملکی افواج کے 2014ء تک انخلا کے فيصلے کے باوجود وہاں امريکا کی موجودگی کے خاتمے کا تا حال کوئی امکان نظر نہيں آتا۔

https://p.dw.com/p/14x3N
صدر کرزئی، صدر اوباما: تزويراتی معاہدہ
صدر کرزئی، صدر اوباما: تزويراتی معاہدہتصویر: AP

امريکا 2014ء کے بعد بھی افغانستان کی کمزور حکومت کی فوجی مدد بھی کرنا چاہتا ہے۔ خطے کے ممالک اسے کس نظر سے ديکھتے ہيں؟

حال ہی ميں امريکہ اور افغانستان کے درميان جو تزويراتی معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت واشنگٹن 2024ء تک افغانستان سے جامع اشتراک عمل کرے گا۔

اس معاہدے پر سب سے پہلے احتجاج کرنے والا ملک ايران ہے۔ ايرانی امور کی ماہر فرزانہ روستائی کا کہنا ہے کہ تہران کو امريکی فوجی اڈوں کے گھيرے ميں آجانے کا شديد خوف ہے۔ وہ اب تک پڑوسی ملکوں مثلاً قطر، بحرين،عراق یا ترکی میں امر يکی فوجی موجودگی سے خائف ہے اور اب ان ميں افغانستان کا اضافہ ہو گيا ہے۔ تاہم معاہدے ميں يہ دفعہ شامل ہے کہ امريکا افغانستان ميں مستقل فوجی اڈے قائم نہيں کرے گا۔ يہ طے نہيں کہ 2014ء کے بعد امريکا کتنی تعداد ميں فوجی افغانستان ميں رکھے گا ليکن ماہرين کا اندازہ ہے کہ يہ 10 سے 20 ہزار کے درميان ہوں گے۔

کابل، طالبان کے ايک حملے کے بعد
کابل، طالبان کے ايک حملے کے بعدتصویر: DW

دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں امريکا کا اتحادی پاکستان بھی افغانستان اور علاقے ميں امريکا کی مستقل فوجی موجودگی کو اپنے مفادات کے ليے خطرہ سمجھتا ہے۔ امريکا اور افغانستان کے درميان تزويراتی يا اسٹريٹيجک معاہدے نے خطے ميں افغانستان کی اہميت ميں اضافہ کر ديا ہے۔ پاکستانی ماہر سياسيات فضل رحيم مروت کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی اور وسطی ايشيا ميں امريکہ کے اہم ترين ساتھی کی حيثيت سے اپنے کردار کو خطرے ميں ديکھتا ہے۔ اُسے خدشہ ہے کہ مغرب سے مدد حاصل کرنے والا افغانستان پاکستانٓ کے ازلی حريف بھارت کے ساتھ اُس کا مخالف محور بن سکتا ہے۔ يہ اسلام آباد کے ليے ايک بھيانک خواب کی مانند ہوگا۔ پاکستان کو کابل اور دہلی کے درميان حصار ميں آ جانے کا خوف ہے۔

پاکستان افغانستان ميں طالبان کی حکومت کو ترجيح ديتا ہے۔ اسلام آباد کو اميد تھی کہ امريکا 2014ء ميں مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے گا ليکن يہ اميد افغان امريکی تزويراتی معاہدے کے بعد دم توڑ چکی ہے۔

پاکستان ميں امريکا کے خلاف ايک مظاہرہ
پاکستان ميں امريکا کے خلاف ايک مظاہرہتصویر: AP

چين بھی طالبان کا حامی ہے ليکن اعتدال پسند طالبان کا۔ وہ معدنياتی ذخائر سے مالا مال اپنے ہمسايہ ملک افغانستان ميں ايک مستحکم حکومت ديکھنا چاہتا ہے جو نہ تو مغرب کی جانب زيادہ جھکاؤ رکھتی ہو اور نہ ہی زيادہ بنياد پسند ہو۔ چين کو دہشت گرد تنظيم القاعدہ اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے خلاف جنگ کے ليے افغانستان ميں امريکا کی ضرورت ہے۔ اس طرح چين کے مسلم آبادی کے علاقوں ميں بنياد پسندی کو پھيلنے سے روکنا بھی مقصود ہے۔ نئی عالمی طاقت چين افغانستان کے مغرب سے يکطرفہ اتحاد کی بھی مخالف ہے۔

روس کو افغانستان ميں بنياد پسندی کے طاقتور بن جانے سے خوف ہے ليکن وہ وہاں امريکا کی آئندہ فوجی موجودگی پر بھی متفکر ہے۔ وہ پچھلی صدی کی طرح وسط ايشيا کے معدنی ذخائر سے مالا مال علاقے کو اپنے کنٹرول ميں رکھنا چاہتا ہے اور وہ يہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ وسط ايشيا ميں امريکا کے منصوبے کيا ہيں۔

R. Shamil/sas/H.Spross/km