امریکہ-ایران مذاکرات، دوسرے دور کے لیے راہ ہموار ہوتی ہوئی
24 اپریل 2026
امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہفتے کے روز اسلام آباد میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ایرانی پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس ان مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتہ کے روز پاکستان روانہ ہوں گے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ایلچی پاکستان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، جو پہلے ہی ''دوطرفہ مشاورت‘‘کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اس دورے میں شریک نہیں ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے دور کے مذاکرات کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ ابتدائی 10 روزہ جنگ بندی پیر کو ختم ہونا تھی۔
ایران امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے پیشکش تیار کر رہا ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد امریکی مطالبات کو پورا کرنا ہے۔
روئٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں امریکی صدر نے کہا، ''وہ ایک پیشکش تیار کر رہے ہیں، دیکھنا ہوگا کیا سامنے آتا ہے،‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ابھی اس پیشکش کی تفصیلات معلوم نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو انہوں نے کہا، ''میں یہ نہیں بتانا چاہتا، لیکن ہم اُن لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت اقتدار میں ہیں۔‘‘
عراقچی کی اسلام آباد آمد
ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعہ کی شام اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام نے کیا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق عراقچی اپنے دورے کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کریں گے۔
اس دوران امریکہ نے ایران کے تیل کی ترسیل سے متعلق ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے چین میں قائم ایک ریفائنری اور تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو ایرانی تیل کی نقل و حمل میں ملوث تھے۔
ادارت: رابعہ بگٹی