امریکہ، ایران ڈیل پر ’متفق مگر ٹرمپ کی منظوری باقی،‘ رپورٹ
وقت اشاعت 28 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 28 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسرائیل کے جنوبی لبنان کے علاوہ دارالحکومت بیروت پر بھی کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ فضائی حملے
- امریکہ اور ایران کے مابین ’ڈیل پر اتفاق مگر صدر ٹرمپ کی طرف سے حتمی منظوری ابھی باقی،‘ رپورٹ
- جرمنی اور نیدرلینڈز مل کر بالٹک کے علاقے میں نیٹو کا مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کریں گے، جرمن حکومت
- اقوام متحدہ کی طرف سے روسی یوکرینی جنگ میں نئی ’خطرناک شدت‘ کی مذمت، مذاکرات کا مطالبہ
- بلااجازت آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش کرنے والے چار بحری جہازوں پر ایرانی فورسز کی تنبیہی فائرنگ
- چار ایرانی ڈرونز مار گرائے اور بندرگاہی شہر بندر عباس پر فضائی حملہ بھی کیا، امریکی فوجی اہلکار
اسرائیل کے جنوبی لبنان کے علاوہ دارالحکومت بیروت پر بھی کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ فضائی حملے
لبنان جنگ میں اصولاﹰ فائر بندی کے باوجود اسرائیل کے اپنے اس ہمسایہ ملک پر فضائی حملے جمعرات 28 مئی کو بھی جاری رہے۔ اس دوران جنوبی لبنان کے علاوہ کئی ہفتوں بعد پہلی بار دارالحکومت بیروت کے مضافات پر بھی حملے کیے گئے۔
اسرائیل کی جنوبی لبنانی شہر صور سے بھی عوامی انخلا کی وارننگ
بیروت سے مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین جنگ میں 16 اپریل کو شروع ہونے والی موجودہ فائر بندی کے باوجود اسرائیل نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران پہلی بار ایسا کیا کہ بیروت اور اس کے مضافات پر بھی حملے کیے گئے۔
بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں اسرائیلی افواج کی طرف سے کوئی تفصیلات بتائے بغیر صرف یہ تصدیق کی گئی کہ بیروت پر بہت نپے تلے فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی
حملوں کا ہدف علی الحسینی
غیر سرکاری طور پر دو اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس حملے کا مقصد علی الحسینی کو ٹارگٹ کرنا تھا۔ علی الحسینی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امام حسین ڈویژن نامی ایک ملیشیا کے میزائل یونٹ کے سربراہ ہیں۔
امام حسین ڈویژن نامی ملیشیا گروپ کے بارے میں اسرائیلی ذرائع کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور کارروائیوں میں حزب اللہ اور ایران دونوں کا ہم خیال ہے۔ تازہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں حزب اللہ یا ایران کی طرف سے آخری خبریں ملنے تک کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟
تاہم ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے بیروت شہر کے جنوبی مضافات میں ایک عمارت کو ہدف بناتے ہوئے دو بہت نپے تلے فضائی حملے کیے۔
لبنان جنگ میں فائر بندی کا ایک اور کڑا امتحان
لبنان جنگ میں فائر بندی پہلے ہی بہت نازک مرحلے میں ہے اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی گزشتہ چند دنوں سے کافی وسیع اور شدید ہو چکی زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اب بیروت پر بھی قریب ڈیڑھ ماہ بعد جو نئے فضائی حملے کیے گئے ہیں، انہوں نے امریکہ کی ثالثی کوششوں سے طے پانے والی فائر بندی کو ایک اور کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری
موجودہ لبنان جنگ کے نام سے اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین مسلح تصادم اور ایک دوسرے پر حملے اس وقت شروع ہوئے تھے، جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ ایران جنگ کے آغاز کے چند روز بعد دو مارچ کو حزب اللہ نے بھی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے شروع کر دیے تھے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر
دریں اثنا چند اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ملکی فوج بیروت پر دوبارہ حملوں کا ارادہ تو گزشتہ تین ہفتوں سے کیے ہوئے تھی، تاہم آج تک ان حملون کو اس لیے مؤخر کیا جاتا رہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے نیتن یاہو حکومت پر دباؤ تھا کہ وہ بیروت پر حملے بحال کرنے سے اجتناب کرے۔
امریکہ اور ایران کے مابین ’ڈیل پر اتفاق مگر صدر ٹرمپ کی طرف سے حتمی منظوری ابھی باقی،‘ رپورٹ
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے مابین ایک ڈیل پر مبینہ اتفاق رائے ہو گیا ہے مگر امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیئس‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کی طرف سے اس ڈیل کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
واشنگٹن سے جمعرات 28 مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ’ایکسیئس‘ نے دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایران اور امریکہ کے مابین موجودہ فائر بندی میں 60 روزہ توسیع سے متعلق ایک مفاہمتی دستاویز پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
چار ایرانی ڈرونز مار گرائے اور بندر عباس پر بھی فضائی حملہ کیا، امریکہ
اس عرصے کے دوران واشنگٹن اور تہران کے مابین ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت شروع کر دی جائے گی۔ تاہم یہ دستاویز تب تک کسی باقاعدہ معاہدے یا مفاہمت کی صورت اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری نہ دے دیں۔
نیو یارک سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جمعرات کو اس ڈیل سے متعلق مفاہمتی دستاویز یا ایم او یو پر اتفاق رائے ہو جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی فی بیرل قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
اسرائیل کی جنوبی لبنانی شہر صور سے بھی عوامی انخلا کی وارننگ
اس پیش رفت سے قبل امریکہ نے ایران کے چار ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے ایران کے بندرگاہی شہر بندر عباس پر نئے فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
اس کے جواب میں تہران کی طرف سے بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ٹارگٹ کیا۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
’ایکسیئس‘ کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت سے باخبر ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مذاکراتی مندوبین سے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ ڈیل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لیے مزید چند روز درکار ہوں گے۔
جرمنی اور نیدرلینڈز مل کر بالٹک کے علاقے میں نیٹو کا مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کریں گے، جرمن حکومت
وفاقی جرمن حکومت کی طرف سے جمعرات 28 مئی کے روز برلن میں اعلان کیا گیا کہ یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک جرمنی اور اس کا ہمسایہ ملک نیدرلینڈز مل کر بالٹک کے علاقے میں اسی سال مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا ایک ایسا مشترکہ کمانڈ سینٹر قائم کریں گے، جو ایک جوائنٹ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر ہو گا۔
یورپ کے سب سے بڑے دفاعی منصوبے مشکلات کا شکار کیوں؟
برلن میں جرمن وزارت دفاع کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ون جی این سی (1GNC) نامی مشترکہ جرمن ڈچ کمانڈ سینٹر ’’آئندہ چند مہینوں میں نیٹو کے مشرقی بازو کی قیادت کا کردار سنبھال لے گا، خاص طور پر بالٹک میں ایسٹونیا اور لیٹویا کی جمہوریاؤں کے خطے میں۔‘‘
ساتھ ہی جرمن وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا، ’’اس خطے میں نیٹو کے ایک اضافی ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر کی قیادت سنبھال لینے کے ساتھ مغربی دفاعی اتحاد کی داخلی مضبوطی کو بھی تقویت ملے گی اور روس کے حوالے سے مغربی ڈیٹرینس میں بھی اضافہ ہو گا۔‘‘
روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟
پچاس ہزار تک فوجیوں کی کمان
نیٹو کا یہ ون این جی سی نامی کمانڈ سینٹر ضرورت پڑنے پر اس اتحاد کے 50 ہزار تک فوجیوں کو کمانڈ کر سکے گا۔
اس کمانڈ سینٹر کے بنیادی فرائض میں فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی اور تکمیل اور کسی ممکنہ تنازعے کے نتیجے میں جنگ شروع ہو جانے کی صورت میں وہاں نیٹو کے دستوں کی قیادت کرنا بھی شامل ہوں گے۔
جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی، نیٹو نے وضاحت مانگ لی
اس یونٹ کا پورا نام فرسٹ جرمن نیڈرلینڈز کور یا 1GNC ہے اور اب تک اس کے ہیڈکوارٹرز جرمنی کے شہر میونسٹر میں ہیں۔
یورپی یونین کی خود انحصاری: قبرص سمٹ میں ’عملی پلان‘ پر غور
اس کور کے دستوں کی جب بھی کسی جگہ ضرورت پڑتی ہے، تو انہیں میونسٹر سے ہی نیٹو کے مختلف مشنوں کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
نیٹو کی 1995 میں قائم کی جانے والی کور
اب تک بالٹک کے خطے میں تعینات نیٹو فورسز کی قیادت اس دفاعی اتحاد کے اس ہیڈکوارٹر کے پاس ہیے، جو پولینڈ کے شہر اشٹیٹین میں قائم ہے۔
نیٹو کی ون جی این سی کور کا قیام 1995 میں عمل میں آیا تھا اور اس کی کمان جرمنی اور نیدرلینڈز کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔
اس وقت اس کور کی کمانڈ جرمنی کے پاس ہے، جس کی مدت 2028 کے اوائل میں پوری ہو جائے گی۔
یورپ کی توجہ اپنی بہتر سکیورٹی پر ہونا چاہیے، ڈچ ملٹری انٹیلیجنس چیف
مغربی دفاعی اتحاد کے بالٹک میں نئے کمانڈ سینٹر کے ساتھ وہاں نیٹو دستوں کی فوری اور مؤثر تعیناتی کی اہلیت بھی بڑھ جائے گی۔
اقوام متحدہ کی طرف سے روسی یوکرینی جنگ میں نئی ’خطرناک شدت‘ کی مذمت، فریقین سے مذاکرات کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے روسی یوکرینی جنگ میں نئی ’خطرناک شدت‘ کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات 28 مئی کے روز کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کی طرف سے اس جنگ میں ایک دوسرے پر حملوں کو شدید تر بنا دینے کی دھمکیاں بھی قابل مذمت ہیں اور ان متحارب ممالک کو جلد از جلد مذاکرت کی میز پر واپس آنا چاہیے۔
روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟
جنیوا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق فولکر ترک نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’میں پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ جنگی فریق اجتناب سے کام لیں، باہمی مذاکرات بحال کریں اور اس جنگ سے پیدا شدہ مصائب کا خاتمہ کریں۔‘‘
اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ اہلکار نے یہ مطالبہ روس کی طرف سے کییف پر کیے گئے حالیہ شدید ترین حملوں کے محض چند روز بعد کیا ہے۔ ان حملوں میں ماسکو کی مسلح افواج نے بڑی تعداد میں میزائل اور جنگی ڈرونز استعمال کیے تھے۔
یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط
روس وکٹری ڈے پریڈ پر ممکنہ یوکرینی حملے سے خوف زدہ، زیلنسکی
یہ چار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل روس کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ میں کییف پر کیے گئے ماسکو کے شدید ترین جنگی حملوں تازہ ایک مثال قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے بعد سے یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنی جنگی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
یوکرین میں اس سال کے پہلے چار ماہ میں ہونے والی ہلاکتیں
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق روں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران یوکرین پر روسی جنگی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 815 رہی جبکہ 4,174 عام شہری زخمی بھی ہوئے۔
اس عرصے میں جنگ میں ہلاک یا زخمی ہونے والے یوکرینی شہریوں کی یہ تعداد 2025 کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ بنتی ہے۔
روس تیل فروخت کرتا رہے گا، امریکی پابندیوں میں ایک بار پھر چھوٹ
اس بارے میں فولکر ترک نے کہا، ’’اس طرح کہ جیسے شدید ہو چکے حملوں میں شہری ہلاکتوں یا زخمی یوکرینی شہریوں کی یہ تعداد بھی انتہائی پریشان کر دینے والی نہیں تھی، روسی حکام کی طرف سے سرعام یہ دھمکیاں بھی دی گئیں کہ وہ کییف پر حملوں میں اور اضافہ کر دیں گے۔‘‘
انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کا تقاضا
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا، ’’انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی مسلح تنازعے کے فریق اس مقصد کے لیے تمام تر عملی احتیاط پسندی کا مظاہرہ کریں کہ سویلین آبادی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘
جرمن چانسلر کا زیلنسکی سے اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ
فولکر ترک نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا، ’’یہ صرف کوئی تجاویز یا سفارشات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایسے لازمی فرائض ہیں، جن کی کسی بھی تنازعے کے فریقین پر پوری قانونی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘‘
بحیرہ بالٹک میں روسی تیل کی برآمدی بندرگاہ پر ایک بار پھر یوکرینی حملہ
عالمی ادارے کے اس ہائی کمشنر کے دفتر نے یہ نشاندہی بھی کی کہ یوکرینی فوج کی طرف سے 21 اور 22 مئی کو روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرینی شہر اسٹاروبلسک میں ایک تعلیمی مرکز پر جو حملے کیے گئے، ان میں روسی حکام کے بیانات کے مطابق 21 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے تھے۔
بلااجازت آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش کرنے والے چار بحری جہازوں پر ایرانی فورسز کی تنبیہی فائرنگ
ایران کی فورسز نے تہران کی طرف سے بند کردہ آبنائے ہرمز کو حکام سے باقاعدہ اجازت لیے بغیر پار کرنے کی کوشش کرنے والے چار مال بردار بحری جہازوں پر تنبیہی فائرنگ کی۔
چار ایرانی ڈرونز مار گرائے اور بندر عباس پر بھی فضائی حملہ کیا، امریکہ
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر بی آئی کی طرف سے جمعرات 28 مئی کے روز بتایا گیا کہ وارننگ شاٹس فائر کیے جانے کے بعد ان بحری جہازوں نے اپنا سفر جاری رکھنے کے بجائے اپنا رخ موڑ لیا۔
آئی آر آئی بی کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا، ’’ان بحری جہازون کو تنبیہ کی گئی تھی، لیکن جب انہوں نے اس وراننگ کو نظر انداز کر دیا، تو ان کو فیصلہ کن طور پر خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد وہ واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے۔‘‘
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران
اس ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق ان کارگو جہازوں پر تنبیہی فائرنگ مقامی وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات 12 بج کر 35 منٹ پر کی گئی، جب عالمی وقت کے مطابق بدھ کی رات نو بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔
ان بحری جہازوں کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں، مثلاﹰ یہ کہ ان پر کس قسم کا کارگو لدا ہوا تھا یا ان کا تعلق کس ملک سے تھا۔
چار ایرانی ڈرونز مار گرائے اور بندرگاہی شہر بندر عباس پر فضائی حملہ بھی کیا، امریکی فوجی اہلکار
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے چار ایرانی جنگی ڈرونز مارا گرائے ہیں اور تازہ ’دفاعی کارروائیوں‘ کے دوران جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس پر فضائی حملہ بھی کیا۔ جواباﹰ ایران نے بھی خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ٹارگٹ کیا۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
امریکی فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ بدھ 27 مئی کی رات ایران کی طرف سے حملوں کے لیے لانچ کیے گئے چار مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا اور اس کے بعد جنوبی ایران کے بندرگاہی شہر بندر عباس میں قائم ایک لانچنگ سائٹ کے کنٹرول سینٹر کو اس لیے ایک فضائی حملے میں ہدف بنایا گیا کہ ایسے مزید ڈرونز کی لانچنگ کو روکا جا سکے۔
امریکی ’دفاعی حملوں‘ کا دوسرا دن
یہ امریکی فوجی کارروائی واشنگٹن کی مسلح افواج کی طرف سے تقریباﹰ تین ماہ قبل شروع ہونے والی موجودہ ایران جنگ میں کئی ہفتوں سے جاری بہت نازک فائر بندی کے باوجود دوبارہ شروع کیے گئے ’دفاعی حملوں‘ کے دوسرے روز کی گئی۔
ایک امریکی فوجی اہلکار نے بدھ کی رات نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’(بندر عباس میں) یہ کارروائیاں بہت نپے تلے انداز میں کی گئیں اور اس لیے خاص طور پر صرف دفاعی نوعیت کی تھیں ۔ ان کا مقصد فائر بندی کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔‘‘
ساتھ ہی امریکہ کی فوج کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ جو ایرانی ڈرونز مار گرائے گئے، وہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب خطرے کا سبب بن رہے تھے۔
امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ
قبل ازیں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی طرف سے ایک بار پھر کہا گیا تھا کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات جنوبی ایران میں سیزفائر کے دوران پہلی بار جو فضائی حملے کیے گئے تھے، ان میں ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایسی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو اس خطے میں جہاز رانی کے راستوں اور امریکی فوج دونوں کے لیے خطرہ تھیں۔
ایران کا جوابی حملے کا دعویٰ
ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کور کی طرف سے جمعرات 28 مئی کو بتایا گیا کہ اس نے بندر عباس کے قریب تازہ امریکی فضائی حملون کے جواب میں خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ہدف بنایا۔
ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم
ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اپنی نشریات میں پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’’مسلح مداخلت اور جارحیت کرنے والی امریکی فوج کی طرف سے آج علی الصبح بندر عباس ایئر پورٹ کے مضافات میں ایریئل پروجیکٹائلز سے متعلق ایک سائٹ پر حملے کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے کچھ ہی دیر پہلے خطے میں اس امریکی فوجی اڈے کو ٹارگٹ کیا گیا، جہاں سے اس فضائی حملے کی ابتدا ہوئی تھی۔‘‘
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران
کویت پر میزائل اور ڈرون حملے
پاسداران انقلاب نے اپنی طرف سے یہ نہیں بتایا کہ جس امریکی فوجی اڈے کو ہدف بنایا گیا، وہ کہاں تھا۔
تاہم خلیج کی عرب ریاست اور امریکی اتحادی ملک کویت کی طرف سے کہا گیا کہ اس نے جمعرات کو علی الصبح میزائل اور ڈرونز کے ساتھ کیے جانے والے نئے حملوں کے خلاف کارروائی کی۔
ایران جنگ: ٹرمپ کردوں کو موردِ الزام کیوں ٹھہرا رہے ہیں؟
دوسری طرف ایرانی ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکی اڈے کو ہدف بنانے کی کارروائی کامیاب رہی یا اس میں کوئی نقصان بھی ہوا۔
ادارت: کشور مصطفیٰ