امریکہ، پاکستان اور افغان فوجی سربراہاں کے مابین مذاکرات
13 مئی 2012
آج اتوار کے روز ہونے والے مذاکرات میں امریکی جنرل جان ایلن، پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور افغان آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی کے علاوہ متعلقہ وفود بھی شریک تھے۔
خطے میں موجود ان اعلیٰ عسکری کمانڈروں میں باضابطہ طور پر ملاقاتوں کے اس سلسلے کا آغاز چھ ماہ کے تعطل کے بعد شروع ہوا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں پاکستان کی سرزمیں پر فضائی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات بحران کا شکار چلے آ رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’آج کے مذاکرات سرحدی امور پر مرکوز رہے اور ان کا مقصد ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے، جس کے تحت پاک افغان سرحد پر کوئی ناخوشگوار واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔‘‘
جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل ایلن کے مابین گزشتہ روز ابتدائی مذاکرات کا انعقاد بھی ہوا تھا، جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا بتایا گیا تھا۔
پاکستان کے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں اور افغان فوج کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی بھی ان مذاکرات کا حصہ ہے۔
آئندہ ہفتے پاکستانی دفاعی کمیٹی کے ایک اجلاس کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں نیٹو افواج کی سپلائی لائن کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔
پاکستانی پارلیمان نے مطالبہ کر رکھا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر سرکاری طور پر معافی مانگے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کرئے۔
امریکی حکام کے مطابق سپلائی لائن کی بحالی کے لیے کئی امریکی اہلکار پاکستان میں موجود ہیں، جو پاکستانی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضع رہے کہ رواں ماہ اکیس اور بائس مئی کو شکاگو میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک نیٹو سمٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس سے پہلے امریکہ اور پاکستان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قبل ازیں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ آندریاس فوگ راسموسن بھی پاکستان سے کئی مرتبہ نیٹو سپلائی کی بحالی کی اپیل کر چکے ہیں۔
ia/ij/Reuters/AFP/AP