ایران جنگ، چین اور پاکستان کی مشترکہ سفارتی کوششیں جاری
4 اپریل 2026
چین نے ایران جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ تنازعے کے حل کے لیے پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے جس میں اسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے طاقت کے استعمال کی اقوام متحدہ کی تجویز کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکہ بیجنگ کی ان حالیہ کوششوں میں عدم دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سٹیمسن سینٹر میں چائنا پروگرام کے ڈائریکٹر سن یون کے مطابق، ''ایران کے ساتھ جنگ کا معاملہ اس وقت خطے اور اس سے باہر بھی تمام ممالک کی اولین ترجیح ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ چین اپنی قیادت اور سفارتی اقدام کا مظاہرہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘‘
ایک سابق سینیئر امریکی اہلکار ڈینی رسل نے چین کی سفارت کاری کی اس تازہ ترین کوشش کو 2023 میں بیجنگ کی جانب سے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 12 نکاتی حل کی تجویز سے تشبیہ دی جو ان کے مطابق "صرف لفاظی پر مبنی تھے اور جن پر کبھی عمل نہیں ہوا۔"
رسل نے کہا، "چین کا بیانیہ یہ ہے کہ جہاں واشنگٹن لاپرواہ ہو اور جارحانہ انداز اپنائے وہاں چین امن کا پاسدار ثابت ہو۔ ہم چین کی جانب سے جو اقدامات دیکھ رہے ہیں وہ پیغام رسانی ہے، ثالثی نہیں۔"
تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا ماننا ہے کہ چین جنگ شروع ہونے کے بعد سے امن قائم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔
امریکہ کی نظر میں چینی ثالثی کی قدر
امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ میں چین کی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے گرم جوشی نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکہ کو اس وقت چین کے بین الاقوامی اثر رسوخ کو بڑھانے یا مشرق وسطیٰ میں بیجنگ کی کامیاب ثالث بننے کا موقع فراہم کرنے میں بہت کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تین امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاک چین مشترکہ ثالثی کی کوششوں کو فلحال نظر انداز کر رہ ہے۔ لیکن تینوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی طے شدہ سربراہی ملاقات سے پہلے ان کوششوں پر غور کریں تو معاملات مختلف سمت اختیار کر سکتے ہیں۔
ثالثی کی یہ تیز ہوتی کوششیں، بیجنگ کے لیے، مئی کے وسط میں ٹرمپ کے طے شدہ دورہ چین سے پہلے جنگ میں کمی دیکھنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں طے شدہ اپنا چین کا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ سن یون کے مطابق اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو ٹرمپ دوبارہ چین کا اپنا دورہ موخر نہیں کریں گے۔
جنگ کی شدت میں رواں ہفتے بھی اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب ایران نے دو امریکی فوجی طیاروں کو مار گرایا۔ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے این بی سی نیوز کو بتایا کہ اس سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ سب امریکی صدر نے ایک قومی خطاب میں یہ اعلان کرنے کے چند دن بعد کہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا، "امریکہ نے ایران کو شکست دے دی ہے اور مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔"
بیجنگ آبنائے ہرمز کی بندش سے کم متاثر
فی الحال چین اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور فوسل فیول پر اپنا انحصار کم کرنے کے بعد دوسرے ممالک کی نسبتآبنائے ہرمز کی بنش سے قدرے کم متاثر ہوا ہے۔ چین اپنی تیل کی درآمدات میں سے صرف 13 فیصد کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے اور بیجنگ تہران کے ساتھ مل کر چینی پرچم والے تمام جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اس وقت چین کے لیے تیل کی ترسیل کوئی بڑا مسئلہ نظر نہیں آتا تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایک طویل ہوتی جنگ سے پریشان ہے اور اسے ختم کرنے کی کوشش میں دلچسپی رکھتا ہے۔ رسل نے کہا کہ تنازعات میں اضافہ چینی مفادات اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دے گا۔
چین وزیر خارجہ کی پاکستانی ہم منصب سے ملاقات
جنگ شروع ہونے کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے روس، عمان، ایران، فرانس، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہم منصبوں سے بات کی۔ انہوں نے ایران پر بھی یہ بات واضح کی کے چین تہران کے ساتھ اپنی دوستی کی قدر کرتا ہے۔ بیجنگ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائیاں بند کرے اور اس بات کا اظہار کیا کہ چین امن کے قیام میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
گزشتہ ہفتے وانگ نے بیجنگ میں اپنےپاکستانی ہم منصب کی میزبانی کی تاکہ ان کی پانچ نکاتی تجویز پیش کی جائے، جس میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیو نے کہا کہ اس نے علاقائی وزرائے خارجہ کے ساتھ متعدد بار ٹیلیفونک گفتگو کی ہے اور بیجنگ کی جانب سے مقرر ایک خصوصی ایلچی نے خطے کے کئی ممالک کا دورہ بھی کیا۔ جس کا مقصد امن کو فروغ دینا اور کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
ادارت: عاطف توقیر