1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران جنگ کے سبھی فریق ’مخلصانہ امن مذاکرات‘ شروع کریں، چین

مقبول ملک روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
26 مارچ 2026

چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے سبھی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خونریز تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ’بامعنی اور مخلصانہ امن مذاکرات‘ کا آغاز کریں۔

https://p.dw.com/p/5BBH1
ایرانی شہر تبریز میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی
ایرانی شہر تبریز میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہیتصویر: Matin Hashemi/AP Photo/dpa/picture alliance

چینی دارالحکومت بیجنگ سے جمعرات 26 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چین نے زور دے کر کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازعے کے خاتمے کے لیے اس کے سبھی فریق ''ایسے حالات پیدا کریں کہ حقیقی معنوں میں مخلصانہ اور نتیجہ خیز امن مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔‘‘

جنگ بندی کوششوں میں تعطل، ایران اور امریکہ اپنے موقف پر قائم

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں آج کہا، ''اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے، قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کو روکا جائے۔‘‘

ترجمان نے یہ بات اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی کہ آیا چین ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ہونے والے کسی بھی طرح کے مذاکرات سے آگاہ ہے؟

اسرائیل میں تل ابیب پر ایرانی راکٹ حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواں
اسرائیل میں تل ابیب پر ایرانی راکٹ حملوں کے بعد فضا میں اٹھتا ہوا دھواںتصویر: Ronen Zvulun/REUTERS

ایران نے جنگ بندی کا امریکی منصوبہ مسترد کر دیا

وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ موقف چین ہی کے وزیر خارجہ وانگ یی کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بدھ 25 مارچ کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے اشاروں کی فضا میں ''امن کے لیے امید کی ایک کرن‘‘ دیکھ رہے ہیں۔

ایران کی طرف سے کی جانے والی گزشتہ تردید

رواں ہفتے کے آغاز پر ایران نے ایسی رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی مکالمت میں شریک ہے۔ اس امن بات چیت کا ذکر سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہہ کر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے سلسلے میں تہران کو دی گئی 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد میں پانچ دن کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ''تعمیری مذاکرات‘‘ ہوئے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ و انگ یی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھ
چینی وزیر خارجہ و انگ یی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ساتھتصویر: Yin Bogu/Xinhua/picture alliance

امریکی صدر ٹرمپ ایران میں کس سے مذاکرات کر رہے ہیں؟

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا تھا کہ واشنگٹن ایران میں کس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بہرحال کہا تھا کہ یہ ''بات چیت جاری‘‘ ہے۔

اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کل بدھ کے دن یہ تصدیق تو کر دی تھی کہ ایران امریکہ کی طرف سے بالواسطہ طور پر پیش کردہ ایک تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ساتھ ہی عراقچی نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ''کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘

چینی وزارت خارجہ نے بات کھل کر نہیں بتائی

چینی وزارت خارجہ نے اس بات کا انکشاف نہیں کیا کہ آیا بیجنگ جانتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین  کوئی بات چیت جاری ہے، مگر گزشتہ روز وانگ یی نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں 'محتاط امید پسندی‘ کا اظہار ضرور کیا تھا۔

امریکی اسرائیلی حملوں سے ایران کے ثقافتی ورثے کو نقصان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچیتصویر: Sha Dati/Xinhua/IMAGO

جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات کے باوجود ایران جنگ جاری

بیجنگ میں وزارت خارجہ کی طرف سے چینی مصری وزرائے خارجہ کی بات چیت کا جو خلاصہ ایک تحریری بیان میں جاری کیا گیا، اس میں کہا گیا، ''مشرق وسطیٰ میں صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جبکہ ایران اور امریکہ دونوں ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ مکالمت جاری ہے، وہ مکالمت جو امید کی ایک کرن کی وجہ بن رہی ہے۔‘‘

چینی وزیر خارجہ کے الفاظ میں، ''مذاکرات شروع ہو جائیں، تو امن کی امید بھی رہے گی۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

کون کون سے امریکی فوجی اڈے، ایران کے لیے آسان ہدف

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔