ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں، پاکستان
30 جنوری 2026
جمعرات کی پاکستان کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور دفتر خارجہ کی جانب سے جاری الگ الگ بیانات میں ایران کے خلاف طاقت اور جبر کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے، تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا۔
یہ بیانات ایسے وقت پر دیے گئے ہیں، جب تہران پر مغربی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس میں خلیج میں امریکی بحری سرگرمیوں میں توسیع اور یورپ کی جانب سے نئی پابندیاں نیز پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا شامل ہیں۔
اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ''خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت‘‘ پر زور دیا۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بات چیت کرتے ہوئے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا، ''پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔‘‘
طاہر اندرابی کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ٹرمپ کا تازہ بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’امید ہے‘‘ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کی امید رکھتے ہیں اور تہران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر مزید بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا پر بننے والی دستاویزی فلم کی نمائش کے موقع پر صحافیوں کو بتایا، ''میں نے اپنی پہلی مدت میں فوج کو مضبوط بنایا تھا، اور اب ہمارا ایک گروپ ایسے مقام کی طرف روانہ ہے جسے ایران کہا جاتا ہے، اور امید ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران سے بات چیت کریں گے تو ٹرمپ نے کہا، ''میں نے بات کی ہے اور کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں۔ ہاں، ہمارے بہت بڑے اور طاقتور بحری جہاز اس وقت ایران کی طرف روانہ ہیں، اور یہ بہت اچھا ہوگا اگر ہمیں انہیں استعمال نہ کرنا پڑے۔‘‘
اس دوران ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق آرمی چیف امیر حاتمی نے کسی بھی حملے کی صورت میں ''سخت جواب‘‘ دینے کا عزم ظاہر کیا، اور بتایا کہ 1,000 اسٹریٹجک ڈرونز جنگی دستوں میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
تنازع کو حل کرنے کی کوششیں جاری
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان نے بات چیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری راستوں کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ انہیں جوابی کارروائی اور معاشی نقصان کا خدشہ ہے۔
ترکی نے جمعرات کو کہا کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرے گا، جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ انقرہ کے دوران اس معاملے پر بات ہو گی۔ اس سے قبل ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے واشنگٹن پر زور دیا تھا کہ وہ تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا آغاز کرے۔
ایران کے اتحادی روس نے بھی جمعرات کو کہا کہ ''مذاکرات کی گنجائش ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘‘
کریملن کے ترجمان دمتری پیشکوف نے صحافیوں کو بتایا، ''طاقت کا کوئی بھی استعمال خطے میں افراتفری پیدا کر سکتا ہے اور نہایت خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی معاہدہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام آپشنز میز پر ہیں اور ہم ان کے لیے تیار ہیں۔ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزارت دفاع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منظور کردہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو گی۔
ادارت: شکور رحیم