1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

بنوں میں خودکش حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو فوجی اہلکار ہلاک

21 فروری 2026

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہفتے کے روز ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران خودکش حملے میں پاکستان فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی مارے گئے۔

https://p.dw.com/p/59C2Q
بنوں، پاکستان
پاکستان فوج عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، فائل فوٹوتصویر: Muhammad Hasib/AP Photo/picture alliance

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 21 فروری کو ''بھارتی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ فتنہ خوارج‘‘ نے پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار مارے گئے۔

بتایا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے یہ حملہ اس وقت کیا، جب اس علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوجی کارروائی کی جا رہی تھی۔

پاکستانی فوج کے مطابق اس آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا سراغ لگایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق اسی دوران شدید مایوسی میں شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کے لیڈنگ گروپ کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔

ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کے نام سے کی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں اور رمضان کے مقدس مہینے میں ایسے حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ''اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت ایسے الزامات مسترد کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

پاکستانی فوج کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد اپنے دفاع میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ 

کابل
افغان طالبان کی حکومت ایسے الزامات مسترد کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے، فائل فوٹوتصویر: Sanaullah Seiam/AFP

صدر پاکستان کی مذمت

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں صدر زرداری نے کہا کہ رمضان کے مقدس ماہ کے تقدیس کو پامال کرنے والے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

حالیہ عرصے میں پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ایسے حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جہاں جنگجو گروہ پولیس اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کو سب سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں۔

 سن 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ختم کیے جانے کے بعد سے ایسے حملوں میں مزید تیزی آئی ہے۔

ضلع بنوں میں گزشتہ کچھ ماہ سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان فوج عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان ایسے حملوں کے لیے بھارت اور افغان طالبان کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

تاہم نئی دہلی حکومت اور افغان طالبان دونوں ہی کہتے ہیں کہ ان کا پاکستان میں ہونے والے ایسے حملوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

بلوچستان میں کئی مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے