تین ایشیائی ممالک میں سیلاب، ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک
وقت اشاعت 1 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 1 دسمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جنوب مشرقی ایشیا اور سری لنکا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد
- اسپین میں افریقی سوائن فیور کی وبا، بارسلونا کے قریب فوج تعینات
- کیمرون میں اپوزیشن کے اہم رہنما کی دوران حراست موت
- افغان سرحد سے فائرنگ میں مزید دو چینی شہری ہلاک، تاجکستان
- افغانستان میں جنگی جرائم کی مبینہ پردہ پوشی، برطانوی اسپیشل فورسز کے سابق افسر کا انکشاف
- ہانگ کانگ: رہائشی کمپلیکس میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد اب 151
- سری لنکا میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 355 تک پہنچ گئیں
- جنوب مشرقی ایشیا میں تباہ کن طوفان، کم ازکم 700 افراد ہلاک
جنوب مشرقی ایشیا اور سری لنکا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد
انڈونیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 800 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق انڈونیشیا میں 604، سری لنکا میں 366 اور تھائی لینڈ میں 176 افراد ہلاک ہوئے۔
انڈونیشیا میں 464 افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور تقریباً تین لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ کئی متاثرہ علاقے سڑکوں اور مواصلاتی نظام کے تباہ ہونے کے باعث تاحال ناقابلِ رسائی ہیں، جہاں امداد فضائی راستے سے پہنچائی جا رہی ہے۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر مقابلہ ناگزیر ہے اور مقامی حکومتوں کو ماحول کے تحفظ اور شدید موسمی حالات کے لیے تیاری میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
سری لنکا میں 367 افراد لاپتہ ہیں جبکہ دو لاکھ سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔ تھائی لینڈ میں 26 ہزار متاثرین کو ابتدائی معاوضے کی ادائیگی شروع کردی گئی ہے، جبکہ حکام ملک کے جنوبی حصوں میں تباہ شدہ پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی پر کام کر رہے ہیں، جہاں سیلاب نے 39 لاکھ افراد کو متاثر کیا۔
اسپین میں افریقی سوائن فیور کی وبا، بارسلونا کے قریب فوج تعینات
اسپین میں حکام نے آج یکم دسمبر بروز پیر ملک میں افریقی سوائن فیور کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بارسلونا کے قریب فوج تعینات کر دی ہے۔ اس وبا کے بارے میں حکام کو شبہ ہے کہ یہ بیماری ایک جنگلی سؤر کی آلودہ خوراک، جیسے سینڈوچ، کھانے سے شروع ہوئی اور اب اس سے ملک کی اربوں یورو ما لیت کی سور کے گوشت کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
اسپین نے جمعہ کو تصدیق کی کہ کولسی رولا پارک میں مردہ پائے جانے والے دو جنگلی سؤر وائرس سے متاثر تھے۔ بیلاٹیرا کے متاثرہ علاقے کے گرد چھ کلومیٹر کا ممنوعہ زون قائم کردیا گیا ہے جبکہ مزید مشتبہ کیسز کی جانچ جاری ہے اور حکام کو مزید رپورٹس کی توقع ہے۔
کاتالونیا کے وزیرِ زراعت اوسکر اردیگ نے کہا کہ سب سے ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ’’آلودہ سینڈوچ یا کولڈ کٹس کسی کوڑے دان میں پھینکی گئیں ہوں، اور بیلاٹیرا چونکہ یورپ بھر سے آنے جانے والے ٹریفک کا علاقہ ہے، اس لیے کوئی جنگلی سؤر انہیں کھا کر متاثر ہو سکتا ہے۔‘‘
افریقی سوائن فیور انسانوں کے لیے بے ضرر ہے لیکن سور اور جنگلی سؤروں میں تیزی سے پھیلتی ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں سؤر کے گوشت کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل اسپین کو سنگین معاشی خطرات لاحق ہیں۔
اسپین کے وزیر زراعت لوئیس پلاناس نے ہفتے کو بتایا کہ وبا کے باعث ملک کی سور کے گوشت کی برآمدات کے تقریباً ایک تہائی سرٹیفکیٹس معطل کر دیے گئے ہیں، اگرچہ اب تک کوئی فارم متاثر نہیں ہوا۔ ابتدائی انفیکشن کے مقام کے 20 کلومیٹر کے دائرے میں موجود فارم سخت آپریشنل اور تجارتی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
کیمرون میں اپوزیشن کے اہم رہنما کی دوران حراست موت
افریقی ملک کیمرون میں حزب اختلاف کے ایک رہنما اینیسیٹ اکنے پیر کی صبح یاوَندے میں حراست کے دوران ہلاک ہوگئے۔ ان کے وکلا اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اکنے کو سانس لینے میں شدید دشواری تھی مگر مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
اکنے کی جماعت افریقن موومنٹ فار دی نیو انڈی پینڈنس آف کیمرون (مانیڈیم) پارٹی کے نائب صدر ویلنتین ڈونگمو نے پیر کے روز بتایا، ’’اینیسیٹ اکنے آج صبح یاوَندے میں انتقال کر گئے، جہاں انہیں اکتوبر کے آخر میں دوالا میں گرفتاری کے بعد جیل منتقل کیا گیا تھا۔‘‘
بائیں بازو اور قوم پرست نظریات رکھنے والے اس 74 سالہ سیاستدان کی ہلاکت کے حالات تاحال واضح نہیں ہیں۔
اکنے کو 24 اکتوبر کو دوالا میں اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب صدارتی انتخابات کے نتائج جاری ہونے والے تھے، جن میں 92 سالہ پال بیا آٹھویں مدت کے لیے دوبارہ ملکی صدر منتخب ہوئے۔
افغان سرحد سے فائرنگ میں مزید دو چینی شہری ہلاک، تاجکستان
تاجکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والی تازہ شیلنگ میں دو مزید چینی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاجک صدر امام علی رحمان کی پریس سروس نے پیر کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک شدگان چینی شہری تھے، تاہم شیلنگ کے پس منظر کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاجک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھی افغانستان سے ہونے والے ایک مسلح حملے میں تین چینی شہری مارے گئے تھے۔ یہ افراد ایک معدنی کمپنی کے ملازم تھے۔
کابل میں وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے تاجک حکام کو ذمہ دار عناصر کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم اس حملے کے پس منظر پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، صرف یہ کہا گیا کہ حملے میں ملوث ’’عناصر‘‘خطے کے ممالک کے درمیان انتشار، بے اعتمادی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رحمان نے سکیورٹی حکام سے ان واقعات پر بات چیت کی ہے اور سرحدی حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ’’افغان شہریوں کے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صورتحال کے حل اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
چینی کمپنیاں تاجکستان میں بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہیں، جس کی افغانستان کے ساتھ 1,340 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اس کا صرف ایک حصہ محفوظ ہے اور منشیات اکثر اسی سرحد کے راستے وسطی ایشیا میں اسمگل کی جاتی ہیں۔ تاجکستان میں روسی فوج بھی تعینات ہے، جو ماضی میں تاجک دستوں کے ساتھ سرحدی سلامتی کے لیے مشترکہ مشقيں کرتی رہی ہے۔
افغانستان میں جنگی جرائم کی مبینہ پردہ پوشی، برطانوی اسپیشل فورسز کے سابق افسر کا انکشاف
برطانوی خصوصی افواج کے ایک سابق سینئر افسر نے ایک عوامی انکوائری میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم کو اس وقت کی سینئر عسکری قیادت نے جان بوجھ کر چھپایا۔
یہ انکشاف کرنے والے برطانوی فوجی افسر کی شناخت N1466 کے نام سے مخفی رکھی گئی ہے۔ اس نے بطور گواہ دعویٰ کیا کہ دو سابق ڈائریکٹرز آف اسپیشل فورسز اور دیگر افسران نے اُن خدشات پر کوئی کارروائی نہیں کی کہ یونٹس نے ایک دہائی قبل افغانستان میں غیرقانونی ہلاکتیں کیں۔
یہ انکوائری، جو 2023ء میں لندن کی رائل کورٹس آف جسٹس میں شروع ہوئی، 2010 سے 2013 تک برطانوی خصوصی فورسز کے کارروائیوں کی چھان بین کر رہی ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔
N1466 نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس بات سے ’’گہری تشویش‘‘ میں مبتلا تھے کہ ’’بے گناہ افراد کو غیرقانونی طور پر ہلاک کیا گیا‘‘ اور اُن کے مطابق ماورائے عدالت قتل کے واقعات ’’چند سپاہیوں یا کسی ایک یونٹ تک محدود نہیں تھے بلکہ ممکنہ طور پر زیادہ وسیع تھے۔‘‘
برطانوی فورسز پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک افغان خاندان پر حملہ کر کے دو بچوں کو شدید زخمی جبکہ ان کے والدین کو بستر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان بچوں کے چچا منصور عزیز نے 2023 کی ایک ویڈیو میں انکوائری کو بتایا کہ خاندان آج بھی ’’غم میں ڈوبا ہوا‘‘ ہے اور انصاف کا طلب گار ہے۔
یہ انکوائری برطانوی رائل ملٹری پولیس کی دو تحقیقات کا جائزہ بھی لے رہی ہے، جو متعدد افغان شہریوں کی ہلاکتوں، خصوصاً رات کے چھاپوں کے دوران قتل کے دعووں پر مبنی تھیں۔
افغان خاندانوں نے مشہور اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) پر شہریوں کے خلاف ’’قتل کی مہم‘‘ چلانے کا الزام عائد کر رکھا ہے۔ بی بی سی نے 2022 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایس اے ایس کے ایک اسکواڈرن نے اپنے چھ ماہ کے دورانیہ میں کم از کم 54 افراد کو مشتبہ حالات میں مارا، جن میں گرفتار شدگان اور بچے بھی شامل تھے۔
N1466 کے مطابق ممکنہ ’’جنگی جرائم‘‘ سے متعلق خدشات پہلی بار 2011 کے اوائل میں ڈائریکٹر اسپیشل فورسز کو بتائے گئے تھے مگر اُن پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ہانگ کانگ: رہائشی کمپلیکس میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد اب 151
ہانگ کانگ میں حکام نے پیر کو بتایا کہ شہر ميں لگنے والی دہائیوں کی بدترین آگ کی تحقیقات میں 13 افراد کو غیرارادی قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مرمت و تزئین کاری کے دوران استعمال ہونے والا ناقص تعمیراتی مواد اس ہلاکت خیز آگ کے پھیلاؤ کا بڑا سبب بنا، جس میں کم از کم 151 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پولیس نے بدھ کو وانگ فوک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ کے سات متاثرہ ٹاورز کی تلاشی جاری رکھی، جہاں سیڑھیوں اور چھتوں پر وہ رہائشی ملے جو آگ سے بچنے کی کوشش میں پھنس گئے تھے۔ 40 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
پولیس افسر چونگ شک یِن نے بتایا کہ کچھ لاشیں ’’راکھ میں تبدیل ہو چکی ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ تمام لاپتا افراد نہیں مل سکیں۔‘‘ تحقیقات کی نگرانی کرنے والے حکام نے بتایا کہ عمارتوں کے گرد بنی بانس کی سبز جالی کے نمونے آگ سے بچاؤ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
چیف سیکریٹری ایرک چان کے مطابق ٹھیکیداروں نے یہ ناقص مواد عمارت کے ایسے حصوں میں استعمال کیا تھا جہاں معائنہ کار آسانی سے نہیں پہنچ سکتے تھے، جس سے خامیوں کو چھپا لیا گیا۔
ٹھیکیداروں کی جانب سے استعمال کی گئی فوم انسولیشن نے بھی شعلوں کو مزید بھڑکایا، جبکہ فلیٹس میں نصب فائر الارم نظام بھی درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔
سری لنکا میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 355 تک پہنچ گئیں
سری لنکا میں تباہ کن سمندری طوفان ڈِٹوا کے بعد امدادی ٹیمیں پیر کو سڑکوں کی بحالی اور لاکھوں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں مصروف ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 355 ہوگئی ہے اور 366 افراد لاپتا ہیں۔
یہ طوفان جمعے کے روز شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے ساتھ ٹکرایا، جس نے ایک دہائی میں ملک میں آنے والے بدترین سیلاب کو جنم دیا۔ مرکزی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ نے درجنوں دیہاتوں کو لپیٹ میں لے لیا۔
کولمبو کے قریب کلانی دریا کے کنارے رہائشی اپنے ڈوبے ہوئے گھروں سے سامان نکالتے دکھائی دیے۔ حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے معطل ہونے والی ٹرین اور پروازیں بحال کر دی گئی ہیں، تاہم اسکول تاحال بند ہیں۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ طوفان اب شمال کی جانب بڑھتے ہوئے کمزور پڑ رہا ہے۔
صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے طوفان کو ملک کی تاریخ کی ’’سب سے بڑی اور سب سے چیلنجنگ‘‘ قدرتی آفت قرار دیا، کیونکہ پہلی بار پورا ملک بیک وقت متاثر ہوا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں تباہ کن طوفان، کم ازکم 700 افراد ہلاک
جنوب مشرقی ایشیا میں آبنائے ملاکہ میں بننے والے ایک طوفان کے باعث خطے کے تین ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 700 تک پہنچ گئی ہے۔
ملائیشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا گزشتہ ایک ہفتے سے طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں سے شدید متاثر ہیں۔ ملائیشیا میں تین، تھائی لینڈ میں 176 اور انڈونیشیا میں ہلاکتوں کی تعداد پیر کو بڑھ کر 502 ہوگئی، جبکہ 508 افراد لاپتا ہیں۔
انڈونیشیا کے مغربی علاقوں میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سڑکوں کی بحالی اور ملبہ صاف کرنے کا کام تیز کردیا گیا ہے جبکہ بہتر موسم کے بعد تباہی کی اصل صورت سامنے آنے لگی ہے۔
انڈونیشی صدر پرابوو سبیانتو نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ قوم مشکل حالات میں ہمت اور یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سڑکیں اب بھی بند ہیں لیکن حکومت بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
انڈونیشیا کی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق 28 ہزار سے زائد گھر تباہ اور 14 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
تھائی لینڈ میں بحالی کے اقدامات
تھائی لینڈ میں ہلاکتوں کی تعداد 176 تک پہنچ گئی، جہاں آٹھ جنوبی صوبوں میں تین ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
فوج کو متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے اور ہسپتالوں سے مریضوں کو منتقل کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
تھائی وزیراعظم انوتن چاناویرکول نے سات دن کے اندر اندر شہریوں کی گھروں کو واپسی کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ملائیشیا میں ہنگامی صورتحال برقرار
ملائیشیا میں 11,600 افراد اب بھی انخلائی مراکز میں موجود ہیں جبکہ حکام نے مزید دو ممکنہ سیلابی لہروں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق عالمی حدت میں اضافے کے باعث شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور خطے میں یہ حالیہ تباہی اسی بڑھتے رجحان کی مثال ہے۔
ادارت: عاصم سلیم