1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتجاپان

ماسکو کی روسی جاپانی علاقائی تنازعے میں امن مذاکرات کی تردید

مقبول ملک روئٹرز کے ساتھ
20 فروری 2026

روس نے کہا ہے کہ مشرق بعید میں اس کے جاپان کے ساتھ دیرینہ علاقائی تنازعے کے حل کے لیے کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ماسکو حکومت کے مطابق جاپان کے ’’غیر دوستانہ‘‘ موقف کے سبب دوطرفہ روابط ’’کم کر کے صفر‘‘ کیے جا چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/599Et
کوریل کے جزائر میں سے زیادہ تر پر ابھی تک روس کا قبضہ ہے۔ ایتوروپ نامی جزیرے کے قصبے کوریسلک کا ایک فضائی منظر
کوریل کے جزائر میں سے زیادہ تر پر ابھی تک روس کا قبضہ ہے۔ ایتوروپ نامی جزیرے کے قصبے کوریسلک کا ایک فضائی منظرتصویر: Sergei Krasnoukhov/TASS/picture alliance

روسی دارالحکومت ماسکو سے جمعہ 20 فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق کریملن کی طرف سے کہا گیا کہ روس اور جاپان کے مابین طویل عرصے سے جاری علاقائی تنازعے کے حل کے لیے کسی بھی شکل میں کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، کیونکہ روس سے متعلق ٹوکیو حکومت کے ''غیر دوستانہ‘‘ موقف کے باعث جاپان کے ساتھ روابط کم کر کے صفر کیے جا چکے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے دور کا روسی جاپانی علاقائی تنازعہ

دوسری عالمی جنگ کے دوران دو بڑے لیکن حریف جنگی دھڑوں کے رکن ممالک کے طور پر جاپان اور روس (اس دور کی سوویت ریاست) ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کئی سالہ جنگ کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین کوئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہیں پایا تھا، بلکہ صرف جنگ بندی ہوئی تھی۔

جاپان پر فتح کے 80 سال، چین میں تاریخی فوجی پریڈ کا انعقاد

اس عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے بعد اس دور کی ریاست سوویت یونین نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے اپنے فوجی دستے جزائر کوریل پر قبضے کے لیے بھیج دیے تھے۔

جزائر کوریل موجودہ روس کے سخالین نامی خطے کا حصہ ہیں، انہی جزائر میں سے شیکوٹان آئی لینڈ کی ایک بندرگاہ کی سردیوں میں لی گئی ایک تصویر
جزائر کوریل موجودہ روس کے سخالین نامی خطے کا حصہ ہیں، انہی جزائر میں سے شیکوٹان آئی لینڈ کی ایک بندرگاہ کی سردیوں میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Press Office of Sakhalin Region Governor/TASS/picture alliance

روسی حکومت بیلاروس میں جوہری میزائل تعینات کر رہی ہے، ماہرین

پھر کئی سال بعد 1956ء میں ٹوکیو اور ماسکو نے جس اعلامیے پر دستخط کر بھی دیے تھے، وہ بھی باقاعدہ حالت جنگ کے خاتمے کا اعلامیہ تھا، نہ کہ کوئی باہمی امن معاہدہ۔

کوئی امن معاہدہ طے نہ پانے کی اہم ترین وجہ ماسکو اور ٹوکیو کے مابین ایک بڑے علاقائی تنازعے کا ختم نہ ہونا تھی۔ یہ تنازعہ انہی جزائر کوریل سے متعلق تھا اور ہے، جنہیں جاپان اپنے ''شمالی علاقے‘‘ قرار دیتا ہے۔

شی کی پوٹن اور ٹرمپ سے بیک ٹو بیک گفتگو: بیجنگ کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق جاپان کی خاتون وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے جمعے کے روز ٹوکیو میں ملکی پارلیمان سے اپنے اولین خطاب میں کہا، ''اگرچہ جاپان روس تعلقات مشکل دور میں ہیں، تاہم ٹوکیو حکومت کا موقف آج بھی پہلے جیسا ہی ہے: مقصد اس علاقائی تنازعے کو حل کرنا اور ایک امن معاہدہ طے کرنا ہے۔‘‘

سانائے تاکائچی جو جاپان کی تاریخ میں وزیر اعظم منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیں
سانائے تاکائچی جو جاپان کی تاریخ میں وزیر اعظم منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیںتصویر: Franck Robichon/EPA/AP Photo/dpa/picture alliance

کریملن کا موقف

جاپانی وزیر اعظم کے اس موقف کے بعد ماسکو میں کریملن، جہاں روسی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں، کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا، ''روس کے جاپان کے ساتھ تعلقات کم کر کے صفر کیے جا چکے ہیں۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا، ''اس تنزلی کا باعث ٹوکیو حکومت کا ماسکو کے بارے میں غیر دوستانہ موقف بنا۔‘‘

روس کا چاند پر جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ

پیسکوف نے معمول کی ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا، ''کوئی مکالمت نہیں ہو رہی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی مکالمت کے بغیر کسی امن معاہدے کا تو تصور بھی ناممکن ہے۔‘‘

کریملن کے ترجمان نے جاپان پر الزام لگاتے ہوئے کہا، ''روس کبھی بھی اب بات کے حق میں نہیں تھا کہ یہ مکالمت ختم کر دی جائے۔‘‘

روس اور جاپان کے مابین متنازعہ جزائر کوریل میں سے ایک پر جھیل کوریل کی ایک تصویر، پس منظر میں ایک آتش فشاں پہاڑ
روس اور جاپان کے مابین متنازعہ جزائر کوریل میں سے ایک پر جھیل کوریل کی ایک تصویر، پس منظر میں ایک آتش فشاں پہاڑتصویر: robertharding/picture alliance

دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، ''ان حالات میں ایسا ہونا تو اب محال ہے کہ تعلقات کی نوعیت تبدیل کیے بغیر کسی بھی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔