جرمنی میں پارٹنرز کے مابین تشدد کے واقعات میں کمی
25 نومبر 2022
جرمنی کی وفاقی پولیس (بی کے اے) نے جمعرات کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ سن 2020 کے مقابلے میں گزشتہ برس یعنی سن 2021 میں پارٹنرز کے مابین تشدد کے واقعات میں تین فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔
یہ گراوٹ سن 2020 کے مقابلے میں ہوئی ہے جب کووڈ انیس وبا کے پہلے برس تشدد کے کیسز اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
بی کے اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2020 میں پارٹنرز کے درمیان تشدد کے 148031 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے جب کہ اس کے مقابلے میں سن 2021 میں تشدد کے 143604 کیسز درج کیے گئے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے تشدد کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں جو کہ مجموعی تعداد کا تقریباً 80.3 فیصد ہے۔
جرمنی میں خواتین کا قتل اور گھریلو تشدد کی شرح بلند
رپورٹ کے مطابق بیشتر کیسز کی نوعیت معمولی جسمانی حملے کی تھی، جو کہ تقریباً 60 فیصد تھی جب کہ زیادہ سنگین حملوں کی تعداد 12 فیصد سے زیادہ تھی۔
دھمکی، تعاقب اور زور زبردستی کے کیسز کی تعداد تقریباً ایک چوتھائی تھی جب کہ جنسی تشدد اور ریپ کی شرح تقریباً 2.5فیصد رہی۔
قتل اور اقدام قتل کے واقعات کی تعداد 0.3 فیصد تھی تاہم صفر اعشاریہ ایک (0.1) کیسز میں تشدد جان لیوا تھا۔ جن کیسز میں متاثرین کی موت واقع ہوگئی ان میں خواتین کی تعداد 109اور مردوں کی 12 تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق 1.3 فیصد کیسز جبراً جسم فروشی اور دلالی کے تھے۔
ان اعداد و شمار کا مطلب کیا ہے؟
بی کے اے کے صدر ہولگر منچ نے وزیر داخلہ نینسی فائیزر اور خاندانی امور کی وزیر لیزا پاوس کی موجودگی میں یہ رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میںسن 2020 تک رجحان "مسلسل اوپر کی طرف" تھا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس بات کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کریں گے کہ کیا تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں کمی جیسے عوامل نے بھی اس میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سن 2020 میں کووڈ انیس کی وبا بھی تشدد میں اضافے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کے دوران تشدد کا شکار خواتین کے لیے ایک خصوصی جرمن ٹیلی فون لائن کے نتیجے میں ملک میں تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں پانچ فیصد اضافہ درج کیا گیا تھا۔
پاوس کا کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے ایک قومی آسان رسائی کی ضرورت ہے تاکہ مصیبت کے وقت ان کی بروقت مدد کی جا سکے۔
مردوں پر بھی گھریلو تشدد ہوتا ہے، تحفظ کے لیے حکومتی مہم
خاندانی امور کی وزیر کا کہنا تھا، "ہر ایک گھنٹے میں اوسطاً 13 خواتین جنسی تعلق رکھنے والے اپنے پارٹنرز کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ تقریباً ہر روز کوئی پارٹنر یا سابق پارٹنر کسی عورت کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تقریباً ہر تیسرے روز ایک عورت اپنے موجودہ یا سابقہ پارٹنر کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ تشدد کا شکار بہت سے لوگ مدد لینے سے گھبراتے ہیں۔"
گھریلو تشدد کے خلاف مؤثر آواز وقت کی ضرورت
فائزر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا، "جو مرد خواتین کے خلاف تشدد کرتے ہیں، خواہ نفسیاتی ہو یا جسمانی، وہ مجرم ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ایسے افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے۔"
ج ا/ ص ز (ڈی پی اے، کے این اے، اے ایف پی)