1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سہ فریقی افغانستان فورم اور پاکستانی تشویش

18 جون 2012

امریکہ کی جانب سے اس وضاحت کے باوجود کہ افغانستان پر بھارت کے ساتھ سہ فریقی فورم کے قیام کا مقصد پاکستان کی مخالفت نہیں ہے، پاکستانی سرکاری اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

https://p.dw.com/p/15HCz
تصویر: DW

امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا رابرٹ بلیک کا کہنا ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں استحکام اور اقتصادی ترقی گزشتہ ہفتے قائم کیے گئے امریکہ، بھارت، افغانستان سہ فریقی فورم کا اصل مقصد ہے۔

تاہم پاکستانی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اپنائے گئے موقف پر کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ مل کر سہ فریقی فورم قائم کرنے کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے تا کہ وہ گزشتہ نومبر سے بند کی گئی نیٹو سپلائی لائن کھول دے۔ واضح رہے کہ 26 نومبر 2011 ء کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے بعد سے نیٹو سپلائی بند ہے اور اس تناظر میں پاک امریکہ تعلقات بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔

Hamid Karzai und Manmohan Singh
تصویر: UNI

پاکستانی نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ایڈیٹر نارتھ مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت کے کردار کو بڑھا کر پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے ایک اہم پیغام دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سارے معاملے کو بھی پاکستان میں کم از کم اسی طرح دیکھا جائے گا کہ امریکہ اس کو دباؤ کے ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو افغانستان اینڈ گیم سے باہر رکھنے کی ایک کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کے بغیر بھی افغانستان میں وہ 2012 ء کے بعد جب امریکی اور اتحادی فوجیں وہاں سے نکل جائیں گی پاکستان کو وہاں کوئی کردار ادا نہیں کرنے دے گا‘۔

امریکہ نے اس سہ فریقی فورم کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا جب پہلے ہی امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے اس بیان پر پاکستان میں ناراضگی پائی جاتی تھی کہ پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی برداشت ختم ہو رہی ہے ۔ اسلام آباد میں قائم انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ڈائریکٹر نجم رفیق کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سہ فریقی فورم کے قیام پر سخت ردعمل کے اظہار کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک پہلے ہی اپنی سپلائی لائن کی بندش سے ناراض ہیں جبکہ اب تک امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے، ایسے میں پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا ۔ انہوں نے کہا:’’سٹریٹیجک ڈیپتھ پرانی باتیں ہیں۔ کسی زمانے میں یہ پاکستان کے لیے ایک قابل عمل اور قابل قبول بات ہو سکتی تھی۔ وہ دور تھا، جب سوویت یونین افغانستان میں موجود تھا لیکن اب وہ وقت نہیں رہا۔ نہ سوویت یونین وہ رہا، نہ یہ خطہ وہ رہا ۔ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں سٹریٹیجک ڈیپتھ کی بات کرنا میرا خیال ہے، ہمارے لیے بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو گا۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے فیصلہ کن لمحات میں متا ثر ہو سکتی ہے اور یہ بات دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے افسوسناک ہو گی۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امجد علی