1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جلاوطن افغان ویمنز فٹبال ٹیم کی حیثیت اب قومی ٹیم کی، فیفا

جاوید اختر (مصنف: میٹ پیئرسن)
30 اپریل 2026

افغانستان کی خواتین کو فٹبال کھیلنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی، لیکن اب ان کی ٹیم نے جدوجہد کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حیثیت حاصل کر لی ہے۔

https://p.dw.com/p/5D5Qf
افغان ویمن یونائیٹڈ فٹبال ٹیم کی کھلاڑی گول کرنے کے بعد خوشی منا رہی ہیں
افغانستان کی خواتین کو اب دنیا کے بڑے فٹبال ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی ہےتصویر: Mosa'ab Elshamy/AP Photo/picture alliance

افغانستان کی خواتین نے طویل جدوجہد، نقل مکانی، اور تربیت کے بعد یہ حق حاصل کر لیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی قومی ویمنز ٹیم کے طور پر فٹبال کے بڑے مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے ٹورانٹو میں ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے اس ٹیم کو افغانستان کی باضابطہ قومی خواتین ٹیم کے طور پر تسلیم کر لیا۔ اس فیصلے سے ٹیم کو 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے اور مستقبل میں ورلڈ کپ اور ایشیا کپ مقابلوں میں حصہ لینے کا راستہ بھی مل گیا ہے۔

یہ اس ٹیم کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے، جسے مسلسل اپنے کھیلنے کے حق کے لیے جدوجہد کرنا پڑی، کیونکہ طالبان کے زیر انتظام فٹبال حکام نے افغانستان کی خواتین کی قومی ٹیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

قومی ٹیم کی گول کیپر الہہ صفدری نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''یہ ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی ہے، یہ دنیا کو دکھانے کا موقع ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیاں شاندار کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ طالبان اور ان لوگوں کے لیے ایک زور دار تھپڑ ہے جو ہمارے خلاف تھے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ہم صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ ہم کھیلوں کے ذریعے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں، اور ہم اب بھی ان لوگوں کی آواز بن رہے ہیں جو افغانستان میں خاموش ہیں۔‘‘

افغان ویمن یونائیٹڈ کی کھلاڑی الہہ صفدری تیونس اور افغان ویمن یونائیٹڈ کے درمیان فیفا یونائٹس: ویمنز سیریز 2025 کے میچ سے قبل وارم اپ کر رہی ہیں
گول کیپر الہہ صفدری اب انگلینڈ میں رہتی ہیں اور روتھرم یونائیٹڈ کے لیے کلب فٹبال کھیلتی ہیںتصویر: Francois Nel - FIFA/FIFA via Getty Images

دیگر ٹیموں کے لیے مشعل راہ

الہہ صفدری ان افغان خواتین کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے 2025 میں مراکش میں ہونے والے ایک چھوٹے ٹورنامنٹ 'فیفا یونائٹس ویمنز سیریز‘ میں حصہ لیا تھا۔ یہ ٹیم زیادہ تر پناہ گزین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو اس وقت آسٹریلیا اور یورپ میں مقیم ہیں اور انہیں مختلف قسم کی انتظامی اور سیاسی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ فیفا کونسل کی جانب سے منظور کی گئی یہ ترمیم 'انتہائی اہم‘ ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ فیفا کی طرف سے اب ''خصوصی حالات میں ایسی قومی یا نمائندہ ٹیم کی رجسٹریشن کی منظوری دی جا سکتی ہے، جب کوئی رکن فیڈریشن ایسا کرنے کے قابل نہ ہو۔‘‘

انہوں نے کہا، ''یہ عالمی کھیلوں میں ایک طاقتور اور بے مثال قدم ہے۔ فیفا نے ان کھلاڑیوں کی بات سنی، کیونکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ ہر لڑکی اور خاتون کا فٹبال کھیلنے اور اپنی شناخت کی نمائندگی کرنے کا حق محفوظ رکھا جائے۔‘‘

ان کے مطابق یہ قدم ممکنہ طور پر دیگر قومی ٹیموں، خاص طور پر خواتین ٹیموں کے لیے بھی راستہ کھول سکتا ہے، جنہیں ان کی اپنی فیڈریشنز کی جانب سے کھیلنے سے روکا جاتا ہے۔

افغان لڑکیوں کی ٹیم: ’فٹ بال کھیلنا آزادی کےمانند ہے‘

جدوجہد جاری رہے گی

صفدری نے کہا، ''ہماری صورتحال دوسری ٹیموں سے کافی مختلف ہے، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہی ہمارے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔ ہم نے سخت محنت کی، ہم اسی کے لیے کوشش کر رہے تھے، اور یہ ہمارے لیے ایک نئی امید ہے۔ یہ ہماری ثابت قدمی کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ اگر ہم محنت کریں تو یقیناً اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ افغان ٹیم، جو فیفا کی مالی مدد اور تعاون سے چلتی ہے، اگلے میچز کے لیے نیوزی لینڈ میں جمع ہوگی۔ یہ اس ٹیم کے لیے مراکش میں گزشتہ اکتوبر کے بعد سے پہلا موقع ہوگا کہ وہ دوبارہ اکٹھا ہو کر کھیلے گی۔ یہ ٹیم برسوں سے تقریباً کبھی ایک ہی ملک میں اکٹھا نہیں ہوئی، اور نہ ہی اس کی ارکان نے مستقل طور پر آپس میں مل کر کھیلا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔