ایشین کپ: افغان خواتین فٹبالرز کے نئے سفر کا آغاز
28 فروری 2026
تین سال پہلے، آسٹریلیا میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے دوران جلاوطن افغان خواتین فٹبالرز اسٹیڈیم کے باہر تماشائی بن کر رہ گئی تھیں۔ وہ وہیں شہروں میں موجود تھیں، مگر میدان میں کھیلنے کے بجائے دور سے اس ایونٹ کو بے بسی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں۔ وقت نے تب سے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ آسٹریلیا میں یکم مارچ سے شروع ہونے والا ویمنز ایشین کپ ان کھلاڑیوں کے لیے ایک سنگ میل ہونے کے ساتھ ساتھ ان مشکلات کی یاد دہانی بھی، جن سے گزر کر وہ دوبارہ بین الاقوامی مقابلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
افغان ٹیم کی ڈیفنڈر مرسل سادات 2023 ورلڈ کپ کو یاد کرتے ہوئے آنسو روک نہ سکیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ سب دیکھ کر مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آ گیا جب میں افغانستان کے لیے کھیل سکتی تھی، جب مجھے اپنے ملک کی نمائندگی پر فخر تھا۔ مجھے اُمید ہے کہ افغانستان اگلے کوالیفائرز میں ضرور شامل ہو گا۔‘‘
افغانستان کی ورلڈ کپ میں واپسی کا خواب گزشتہ اکتوبر میں اُس وقت کچھ روشن ہوا،جب جلاوطن افغان کھلاڑیوں کی ٹیم، جسے افغان ویمن یونائیٹڈ کے نام سے جانا جاتا ہے کو فیفا نے تسلیم کیا اور انہیں مراکش میں ایک دوستانہ ٹورنامنٹ کھیلنے کا موقع ملا۔ یہ موقع نہ صرف ان کی صلاحیت کا اعتراف تھا بلکہ اس سفر کی علامت بھی جو انہوں نے جلاوطنی، خطرات اور محرومیوں کے باوجود جاری رکھا۔
افغانستان کی نمائندگی کے لیے پھر بے تاب
افغان ٹیم چار ماہ گزر جانے کے باوجود وہ اب تک کوئی دوسرا میچ نہیں کھیل سکی ہیں۔ برطانیہ میں مقیم گول کیپر الہہ صفدری نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مراکش ہمارے لیے ایک بڑا سنگ میل تھا، لیکن ہمارے لیے یہ صرف آغاز ہے۔ بطور کھلاڑی ہم ہمیشہ افغانستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ہم مزید بین الاقوامی میچ کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے نظم و ضبط برقرار رکھا ہوا ہے، سخت محنت کر کے ٹریننگ جاری رکھی ہے اور بطور ٹیم بہتر ہو رہی ہیں۔ ہمیں پتا ہے کہ اسٹاف پس منظر میں ہمارے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر کام کر رہا ہے، اس لیے ہم تیار اور پُرعزم رہتے ہیں۔‘‘
ایک طویل خاموشی کے بعد، فیفا نے پیر کے روز اعلان کیا کہافغانستان جون کی انٹرنیشنل ونڈو میں دو نامعلوم حریفوں کے خلاف کھیلے گا، اور مزید تفصیلات ’’آنے والے مہینوں میں‘‘ جاری کی جائیں گی۔ یورپ میں مقیم کھلاڑی اس ماہ کے اوائل میں ڈانکاسٹر، انگلینڈ میں ایک ٹریننگ کیمپ کا حصہ تھیں، جبکہ آسٹریلیا میں مقیم کھلاڑیوں کے لیے اسی نوعیت کا کیمپ سال کے بعد کسی وقت متوقع ہے۔
افغان ٹیم کو شناخت کے لیے درپیش مشکلات، صدمات اور گزشتہ چار سال کے وقفے کے باعث پیدا ہونے والے فاصلوں کو دیکھتے ہوئے اگلے سال برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شمولیت اس کے لیے قبل از وقت ہی تھی۔ مارچ میں ہونے والا ایشین کپ یہ طے کرے گا کہ کون سی ایشیائی ٹیمیں 2027 میں برازیل میں منعقد ہونے والے ویمن ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی— سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیمیں براہِ راست ورلڈ کپ کی ٹکٹ حاصل کریں گی، جبکہ کوارٹر فائنل میں ہارنے والی ٹیموں کو باقی چار ایشیائی جگہوں کے لیے پلے آف کھیلنا ہوں گے۔
ویزا مسترد ہونے کی 'منطقی وضاحت‘
افغانستان کی طرح متحدہ عرب امارات بھی ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہنے کے بعد 2027 میں برازیل ورلڈ کپ میں شامل نہیں ہو گا۔ یہ کہنا بھی بجا ہے کہ جون میں متحدہ عرب امارات افغان ٹیم کی حریف نہیں ہو گی، کیونکہ گزشتہ اکتوبر میں خلیجی ریاست نے افغان کھلاڑیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے باعث آخری لمحات میں میزبان ملک کو تبدیل کر کے مراکش منتقل کرنا پڑا تھا۔
اس کے بعد سے فیفا نے بارہا ڈی ڈبلیو کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ آخر وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر یو اے ای، جس نے ٹیم کی میزبانی اور میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر رکھی تھی اپنے ہی طے شدہ انتظام سے پیچھے ہٹ گیا؟ غالب امکان یہی لگتا ہے کہ یو اے ای کے طالبان کے ساتھ تعلقات اس انکار کی بنیادی وجہ تھے۔
جاوید اختر