پاکستان کا یو ٹرن، بھارت کے ساتھ کھیلنے پر راضی
10 فروری 2026
پاکستان کے بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ کے بلاک بسٹر گروپ اے میچ میں شرکت کے فیصلے کو منگل کے روز کھیل کے لیے ”عقل مندی کی جیت" اور ”کرکٹ کے مفاد میں بہترین قدم" قرار دیا گیا۔
15 فروری کو کولمبو میں شیڈول اس میچ کے بارے میں ایک ہفتے تک جاری تناؤ اس وقت ختم ہوا جب اسلام آباد نے پیر کی رات اپنے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لے لیا۔
دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کرکٹ مقابلے کی بحالی کا فیصلہ ہفتے اور اتوار کو شدید نوعیت کی سفارت کاری اور بورڈز کے درمیان ہنگامی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ۔ صورتحال اس وقت فیصلہ کن موڑ تک پہنچی جب آئی سی سی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے سربراہان اتوار کے روز لاہور پہنچے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حکام سے انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔
بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے پیر کے دن اسلام آباد کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر اپنے مؤقف میں نرمی لانے اور میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ بالآخر رات گئے پاکستان نے مثبت مؤقف اپناتے ہوئے فیصلہ واپس لے لیا۔
اسلام آباد حکومت نے اپنے سرکاری 'ایکس‘ (X) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا، ''دو طرفہ و کثیر الجہتی بات چیت اور دوست ممالک کی درخواست کے بعد حکومتِ پاکستان یہ ہدایت دیتی ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو میدان میں اُترے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ ''کرکٹ کی روح کے تحفظ‘‘ کے لیے کیا گیا ہے۔
سابق بھارتی کرکٹر مدن لال نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار بائیکاٹ کے مؤقف کو اختیار کرنے کے عمل نے آئی سی سی کو لرزاں کر دیا۔‘‘
ان کے مطابق، بالآخر آئی سی سی کے اعلیٰ حکام کو پاکستان آکر معاملہ حل کرنا پڑا، جو ''کرکٹ کے لیے اچھا اقدام ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''ہم مضبوط ٹیموں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ورلڈ کپ کی کشش برقرار رہے۔‘‘
سب کے لیے خسارے کا سودا
سری لنکا، جو اس میچ کی میزبانی کر رہا ہے جس سے اشتہارات، براڈکاسٹ رائٹس، اسپانسر شپ اور سیاحت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، نے بھی پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ''انہوں نے اُس کھیل کو جاری رکھنے میں مدد دی جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں۔‘‘
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے لکھا،''خوشی ہے کہ کولمبو میں جاریٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت اور پاکستان کا بےصبری سے انتظار کیا جانے والا میچ پلان کے مطابق ہوگا۔‘‘
بھارتی سینئر صحافی پردیپ میگزین نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ''آخرکار تمام فریقوں پر عقلِ سلیم غالب آ گئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے میں مالی پہلو بھی ضرور شامل رہے ہوں گے۔ ان کے مطابق، ''بھارت—پاکستان میچ صرف کرکٹ ریونیو کا نہیں ، بلکہ وسیع کاروباری مفادات کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ''سب نے سمجھ لیا کہ اگر یہ میچ نہ ہوتا تو آئی سی سی کے تمام رکن ممالک کے لیے یہ ایک 'لاس لاس سیچوئیشن‘ ثابت ہوتا۔‘‘
پاکستان اور بھارت، جو تلخ سیاسی اختلافات کے باعث ایک دہائی سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیل رہے، صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتے ہیں—اور وہ بھی ہمیشہ غیرجانبدار مقام پر۔
ادارت: جاوید اختر