1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کا یو ٹرن، بھارت کے ساتھ کھیلنے پر راضی

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
10 فروری 2026

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈیولڈ ورلڈ کپ میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔ پاکستانی ٹیم اتوار کو کولمبو میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میدان میں اترے گی۔

https://p.dw.com/p/58RfB
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 29 نومبر 2025 بروز ہفتہ، راولپنڈی، پاکستان میں، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کے فائنل کے آغاز سے قبل سمندری طوفان کے متاثرین کے لیے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کیے ہوئے کھڑے ہیں
پاکستان اور بھارت، تلخ سیاسی اختلافات کے باعث ایک دہائی سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیل رہے ہیںتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

پاکستان کے بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ کے بلاک  بسٹر گروپ اے میچ میں شرکت کے فیصلے کو منگل کے روز  کھیل کے لیے ”عقل مندی کی جیت" اور ”کرکٹ کے مفاد میں بہترین قدم" قرار دیا گیا۔

15 فروری کو کولمبو میں شیڈول اس میچ کے بارے میں ایک ہفتے تک جاری تناؤ اس وقت ختم ہوا جب اسلام آباد نے پیر کی رات اپنے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لے لیا۔

دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کرکٹ مقابلے کی بحالی کا فیصلہ ہفتے اور اتوار کو شدید نوعیت کی سفارت کاری اور بورڈز کے درمیان ہنگامی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ۔ صورتحال اس وقت فیصلہ کن موڑ تک پہنچی جب آئی سی سی اور بنگلہ دیش  کرکٹ  بورڈ (BCB) کے سربراہان اتوار کے روز لاہور پہنچے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے حکام سے انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔

افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے تاریخ رقم کر دی

بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے پیر کے دن اسلام آباد کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر اپنے مؤقف میں نرمی لانے اور میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ بالآخر رات گئے  پاکستان  نے مثبت مؤقف اپناتے ہوئے فیصلہ واپس لے لیا۔

اسلام آباد حکومت نے اپنے سرکاری 'ایکس‘ (X) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا، ''دو طرفہ و کثیر الجہتی بات چیت اور دوست ممالک کی درخواست کے بعد حکومتِ پاکستان یہ ہدایت دیتی ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو میدان میں اُترے۔‘‘

پاکستان کے کھلاڑی 29 جنوری 2026 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ میچ کے دوران آسٹریلیا کے کونولی کو آؤٹ کرنے کے بعد جشن منا رہے ہیں
بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں نے پیر کے دن اسلام آباد کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر اپنے مؤقف میں نرمی لانے اور میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھیتصویر: Arif Ali/AFP

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ ''کرکٹ کی روح کے تحفظ‘‘ کے لیے کیا گیا ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر مدن لال نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار بائیکاٹ کے مؤقف کو اختیار کرنے کے عمل نے آئی سی سی کو لرزاں کر دیا۔‘‘

پشاور میں افغان مہاجرین کرکٹ لیگ

ان کے مطابق، بالآخر آئی سی سی کے اعلیٰ حکام کو پاکستان  آکر معاملہ حل کرنا پڑا، جو ''کرکٹ کے لیے اچھا اقدام ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ہم مضبوط ٹیموں کو کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ورلڈ کپ کی کشش برقرار رہے۔‘‘

سب کے لیے خسارے کا سودا

سری لنکا، جو اس میچ کی میزبانی کر رہا ہے جس سے اشتہارات، براڈکاسٹ رائٹس، اسپانسر شپ اور سیاحت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، نے بھی پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ''انہوں نے اُس کھیل کو جاری رکھنے میں مدد دی جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں۔‘‘

2020 میں دُبئی منعقدہ ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں پاکستان بمقابلہ بھارت میچ کے دوران بھارتی ٹیم کے سپورٹرز کا جوش و خروش نظر آ رہا ہے
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے اُس کھیل کو جاری رکھنے میں مدد دی جس سے ہم سب محبت کرتے ہیں۔‘‘تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے لکھا،''خوشی ہے کہ کولمبو میں جاریٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت اور پاکستان کا بےصبری سے انتظار کیا جانے والا میچ  پلان کے مطابق ہوگا۔‘‘

بھارتی سینئر صحافی پردیپ میگزین نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ''آخرکار تمام فریقوں پر عقلِ سلیم غالب آ گئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے میں مالی پہلو بھی ضرور شامل رہے ہوں گے۔ ان کے مطابق، ''بھارت—پاکستان میچ صرف کرکٹ ریونیو کا نہیں ، بلکہ وسیع کاروباری مفادات کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔‘‘

پاکستان - بھارت مقابلہ اور صحافیوں کی مشکلات

ان کا مزید کہنا تھا، ''سب نے سمجھ لیا کہ اگر یہ میچ نہ ہوتا تو آئی سی سی کے تمام رکن ممالک کے لیے یہ ایک 'لاس لاس سیچوئیشن‘ ثابت ہوتا۔‘‘

پاکستان اور بھارت، جو تلخ سیاسی اختلافات کے باعث ایک  دہائی سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیل رہے، صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتے ہیں—اور وہ بھی ہمیشہ غیرجانبدار مقام پر۔

ادارت: جاوید اختر