جرمنی اور بھارت کا مضبوط شراکت داری پر اتفاق
وقت اشاعت 14 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 14 فروری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
* میونخ سکیورٹی کانفرنس: نیا عالمی منظرنامہ، جرمنی اور بھارت کا مضبوط شراکت داری پر اتفاق
* پوٹن اپنے ہی لوگوں کے خلاف حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کو تیار ہیں، فرانس
* غزہ میں ناصر ہسپتال میں مسلح افراد کی موجودگی: ایم ایس ایف نے آپریشنز معطل کر دیے
* بنگلہ دیش: بھاری انتخابی کامیابی کے بعد طارق رحمان کا جمہوریت کے فروغ کا عزم
* پوٹن ’جنگ کے غلام‘ ہیں، میونخ سکیورٹی کانفرنس میں زیلنسکی کا سخت بیان
* بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان ’ہمیشہ تیار‘ رہا ہے، سلمان آغا
* بنگلہ دیش کے انتخابات شفاف اور قابلِ بھروسہ تھے، یورپی یونین
* کیا ہم امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے ابتدائی پینل کا فوکس
* امریکی وزیرِ خارجہ کا میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب
جرمنی اور بھارت کا مضبوط شراکت داری پر اتفاق
میونخ سکیورٹی کانفرنس میں جرمنی اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فیہول اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹرانس-اٹلانٹک اختلافات کے باوجود امریکہ اور یورپ کی تاریخی و ثقافتی شراکت کمزور نہیں پڑی۔
دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ روبیو کی یقین دہانی کے باوجود عالمی طاقتوں کی ازسر نو ترتیب ایک حقیقت ہے اور دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں کثیر قطبی نظام بین الاقوامی تعلقات کو نئی شکل دے رہا ہے۔
جرمن وزیرِ خارجہ واڈے فیہول نے کہا، ’’ہمیں نئے عالمی شراکت داروں کی ضرورت ہے اور بھارت جرمنی کے لیے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے۔‘‘
جرمن وزیر نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر یہ کہتے ہوئے زور دیا کہ عالمی ادارے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی صورتحال نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا،’’اقوام متحدہ کو فعال ہونا ہوگا، صرف مبصر کا کردار ادا کرنا کافی نہیں۔‘‘
واڈے فیہول نے یورپی یونین اوربھارت کے درمیان ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے کو دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی اہم مثال قرار دیا۔
بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام بے ترتیب اور ادھورا ضرور ہے، اس میں بہتری کی گنجائش بھی ہے، مگر یہ نظام اب بھی قائم ہے اور چل رہا ہے۔
ان کے مطابق دنیا تیزی سے ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں فیصلہ سازی کے کئی خودمختار مراکز موجود ہوں گے، جو ایک حقیقی کثیر قطبی دنیا کی نشاندہی ہے۔
پوٹن اپنے ہی لوگوں کے خلاف حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کو تیار ہیں، فرانس
فرانس نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فرانس اور چار دیگر یورپی ملکوں نے کہا کہ روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کی 2024 میں جیل میں ہونے والی موت ایک انتہائی خطرناک زہریلے مادے کے استعمال کا نتیجہ تھی۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ناوالنی کو جنوبی امریکہ کے زہریلے ’ڈارٹ‘ مینڈکوں کی جلد میں پائے جانے والے زہر سے مارا گیا۔
غزہ میں ناصر ہسپتال میں مسلح افراد کی موجودگی: ایم ایس ایف نے آپریشنز معطل کر دیے
غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال میں، جو اب بھی فعال رہنے والی چند طبی سہولیات میں سے ایک ہے، مسلح اور نقاب پوش افراد کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد عالمی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنے کئی طبی آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔
ایم ایس ایف کے مطابق ’’سنگین سکیورٹی خلاف ورزیوں‘‘ نے عملے اور مریضوں دونوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، جس کے باعث غیر ضروری طبی سرگرمیوں کو روکنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تنظیم کے اس بیان کا انکشاف اس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ’’اکثر پوچھے جانے والے سوالات‘‘ کے سیکشن میں ہوا، جسے 11 فروری کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز نے یہ سروسز جنوری میں روکی تھیں۔
ناصر ہسپتال حالیہ جنگ کے دوران نہ صرف سینکڑوں زخمیوں اور مریضوں کے علاج کا مرکز رہا ہے بلکہ یہ وہ مقام بھی ہے جہاں اسرائیل کی جانب سے رہا کیے گئے وہ فلسطینی قیدی لائے گئے تھے جنہیں جنگ بندی کے تحت یرغمالیوں کے تبادلے میں چھوڑا گیا تھا۔
ایم ایس ایف نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے ہسپتال کے کچھ حصوں میں مسلح افراد کی نقل و حرکت بڑھ گئی، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں تنظیم کی ٹیمیں براہِ راست کام نہیں کرتیں۔
تنظیم کے مطابق صورتحال میں دھمکی آمیز رویوں، مشتبہ ہتھیاروں کی نقل و حرکت اور مریضوں کی من مانی گرفتاریوں کے واقعات شامل تھے۔ تاہم MSF کے مطابق مسلح افراد کی شناخت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
غزہ میں جاری تنازع کے باعث مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں، جن میں بعض وہ گروہ بھی شامل ہیں جنہیں غزہ پٹی کے اسرائیلی کنٹرول والے حصوں میں اسرائیلی فوج کی مدد حاصل ہے۔ ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی کے باوجود حالیہ مہینوں میں مقامی قبائلیوں اور مسلح ملیشیاؤں کے حملے معمول بن گئے ہیں۔
ایم ایس ایف نے متعلقہ حکام کو بارہا آگاہ کیا ہے کہ صحت کی سہولیات کو غیر جانبدار اور محفوظ مقامات رہنا چاہیے۔ تنظیم نے زور دیا کہ ماضی میں ہسپتالوں پر ہونے والے حملوں، بشمول اسرائیلی حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیل نے کئی بار الزام لگایا ہے کہ حماس طبی سہولیات کے اندر یا آس پاس سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ حماس کے اہلکار بھی مختلف ہسپتالوں کے اندر دیکھے گئے ہیں۔
غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مسلح موجودگی ختم کرنے اور طبی مراکز کو محفوظ بنانے کے لیے ہسپتالوں میں پولیس فورس تعینات کی جائے گی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ادارت: افسر اعوان، عاطف توقیر
بنگلہ دیش: بھاری انتخابی کامیابی کے بعد طارق رحمان کا جمہوریت کے فروغ کا عزم
بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان نے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت کے بعد کہا ہے کہ وہ کمزور اداروں اور خراب معاشی صورتحال جیسے چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے ملک کو زیادہ جمہوری راستے پر ڈالیں گے۔
350 رکنی پارلیمنٹ میں بی این پی نے اکثریت حاصل کرلی ہے جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد اپوزیشن میں بیٹھے گا۔
یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جن کی نگرانی نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی عبوری حکومت نے کی۔
انتخابی کامیابی کے بعد ڈھاکہ میں پہلی پریس کانفرنس میں رحمان نے امن و امان کی بحالی، معیشت کی مضبوطی اور اداروں کی بہتری کو اپنی ترجیحات قرار دیا اور قومی اتحاد پر زور دیا تاکہ آمریت کا دوبارہ راستہ نہ کھلے۔
انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک ایسی صورت حال میں اپنا سفر شروع کرنے والے ہیں جو آمرانہ حکومت کی طرف سے پیچھے چھوڑی گئی ایک کمزور معیشت، کمزور آئینی اور قانونی اداروں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے دوچار ہے۔‘‘
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان نے قومی اتحاد پر زور دیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ ملک کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔خالدہ ضیاء دسمبر میں انتقال کر گئیں تھیں۔ رحمان کے مطابق، ’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی بری طاقت ملک میں آمریت کو دوبارہ قائم نہ کر سکے، اور قوم ایک محکوم ریاست میں تبدیل نہ ہو، ہمیں متحد رہنا چاہیے اور عوام کی مرضی کو برقرار رکھنا چاہیے۔‘‘
پوٹن ’جنگ کے غلام‘ ہیں، میونخ سکیورٹی کانفرنس میں زیلنسکی کا سخت بیان
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی رہنما ولادیمیر پوٹن ’’جنگ کے غلام‘‘ ہیں۔
انہوں نے کہا، یوکرین میں کوئی یہ یقین نہیں رکھتا کہ (پوٹن) کبھی ہمارے لوگوں کو آزاد ہونے دیں گے۔ لیکن وہ دیگر یورپی قوموں کو بھی نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ وہ جنگ کے تصور سے خود کو الگ نہیں کر سکتے۔ وہ چاہے خود کو زار سمجھتے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ’’جنگ کے نظریے کے غلام ہیں۔‘‘
زیلنسکی نےمیونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں روس کے خلاف جنگ کو یورپ کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے تباہ کن لڑائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہتھیاروں کی ترقی سیاسی فیصلوں کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ زیلنسکی کا کہنا تھا، ’’ہتھیار اُس رفتار سے ترقی کر رہے ہیں جو انہیں روکنے کے لیے ضروری سیاسی فیصلوں سے کہیں تیز ہے۔‘‘ انہوں نے خاص طور پر ایران کے تیار کردہ شاہد ڈرونز کا ذکر کیا جو روس کی جانب سے استعمال کیے جا رہے ہیں اور وقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ مہلک ہو چکے ہیں۔
زیلنسکی نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کے انجام تک پہنچنے کے لیے فیصلہ کن اور بروقت سیاسی اقدامات کریں، کیونکہ مسلسل تاخیر روسی حملوں کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔
بھارت کے ساتھ میچ کے لیے تیار ہیں، سلمان آغا
پاکستانکرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم اتوار کو کولمبو میں ہونے والے پاک - بھارت میچ کے لیے ’’ہمیشہ سے تیار‘‘ تھی، چاہے حکومتی فیصلوں میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوئی ہو۔
آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026ء کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مقابلہ اتوار 15 فروری کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جس کی 35 ہزار نشستیں کئی دن پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں، جب کہ ٹی وی اسکرینوں پر ’’ پبلک ویووینگ‘‘ کے لیے کروڑوں شائقین منتظر ہیں۔
یہ میچ اس وقت یقینی ہوا جب پیر کی رات اسلام آباد حکومت نےاپنے بائیکاٹ کے فیصلے سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دے دی۔
سلمان آغا نے پریکٹس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’یہ بہت بڑا میچ ہے… مگر ہم ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔‘‘ پاکستان نے اپنے ابتدائی دونوں میچوں میں کامیابی حاصل کی، نیدرلینڈز کے خلاف آخری اوور میں تین وکٹوں سے جیت اور پھر امریکہ کو 32 رنز سے مات دی۔ بھارت بھی اب تک دونوں میچ جیت چکا ہے۔
سلمان آغا نے مزید کہا، ’’ہم اچھے مومینٹم میں ہیں، اور شروع سے کولمبو میں رہنے کا فائدہ ضرور ہوگا۔ لیکن میچ جیتنے کے لیے بہترین کرکٹ کھیلنا ہوگی۔‘‘
تاہم اتوار 15 فروری کی شام بارش کی پیش گوئی نے شائقین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ کپتان کے مطابق متوقع کنڈیشنز کے باعث اسپن بالنگ اہم کردار ادا کرے گی اور طارق عثمان پاکستان کا ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے طارق کے ’’منفرد بالنگ اسٹال‘‘ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ سال دبئی میں ایشیا کپ کے دوران تین میچوں میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ اس بارے میں آغا نے کہا، ’’کھیل کو اسپرٹ کے ساتھ کھیلنا چاہیے… کل پتا چلے گا کیا ہوتا ہے۔‘‘
اُدھر بھارتی اوپنر ابھیشیک شرما معدے کی خرابی کا شکار ہیں اور ان کی شرکت مشکوک ہے۔ ان کے لیے بھی سلمان آغا نے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم بہترین کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں… امید ہے وہ ٹھیک ہوں اور میچ کھیلیں۔‘‘ اس میچ کی فاتح ٹیم سپر ایٹ راؤنڈ میں اپنی جگہ یقینی بنا لے گی۔
بنگلہ دیش کے انتخابات شفاف اور قابلِ بھروسہ تھے، یورپی یونین
یورپی یونین کے مبصرین نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں منعقد ہونے والے انتخابات مجموعی طور پر قابلِ اعتماد رہے۔ یہ انتخابات 2024 کی بغاوت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے اور جن میں قوم پرست جماعت نے بھاری اکثریت حاصل کی۔
یورپی یونین کی مبصر ٹیم کے سربراہ ایوارس ایجابس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’2026ء کے پارلیمانی انتخابات شفاف، منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں کرائے گئے۔ یہ ملک میں جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔‘‘
امریکی وزیرِ خارجہ کا میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے آج ہفتے کے روز میونخ سکیورٹی کانفرنس (MSC) سے خطاب کیا، جہاں یورپ اور دنیا بھر کے اعلیٰ سیاسی و عسکری رہنما موجود ہیں۔ ان کے اس خطاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس وقت یورپی ممالک واشنگٹن کے بدلتے ہوئے رویے کے باعث مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔
روبیو نے میونخ کانفرنس میں شرکت کے لیے روانگی سے پہلے بیان دیا تھا کہ دنیا ’’جیو پولیٹکس کے ایک نئے دور‘‘ میں داخل ہو رہی ہے، جس کے دور رس اثرات یورپ اور نیٹو پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور بعض اوقات اتحادیوں کے لیے سخت رویے نے یورپی ممالک کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے طویل المدتی اتحادوں پر سوال اٹھانے اور بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ علیحدگی کے فیصلوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یورپ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی ازسرِ نو ترتیب دینی چاہیے۔
اسی تناظر میں کانفرنس کے پہلے روز ایک اہم سیشن ’’ہارڈ کور یورپ: کیا ہم امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں ماہرین اور حکومتی نمائندوں نے امریکی انحصار کم کرنے کے امکانات پر گفتگو کی۔
پینل شرکا نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن کے غیر متوقع فیصلے جن میں ایک نیٹو اتحادی کی زمین پر قبضے کی دھمکی بھی شامل ہے، یورپی سلامتی کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ اسی لیے کئی ممالک یہ غور کر رہے ہیں کہ دفاعی شعبے میں زیادہ خود مختاری کیسے حاصل کی جائے۔
روبیو کا خطاب ان مباحثوں کے فوراً بعد ہوا، جسے یورپی رہنماؤں نے خاص دلچسپی سے سنا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں یورپ اور امریکہ دونوں کو نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اے ایف پی، اے پی، روئٹرز کے ساتھ
ادارت: افسر اعوان
کیا ہم امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے ابتدائی پینل کا فوکس
میونخ سکیورٹی کانفرنس (MSC) کے ابتدائی سیشنز میں سے ایک اہم پینل ہفتے کی صبح منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا، ’’ہارڈ کور یورپ: کیا ہم امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟‘‘
پینل میں یہ سوال نمایاں رہا کہ کیا یورپی ممالک اب بھی امریکہ کو ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر تصور کر سکتے ہیں؟ اس بحث کی وجہ وہ بڑھتی ہوئی بے اعتمادی ہے جو واشنگٹن کے حالیہ اقدامات کے باعث پیدا ہوئی ہے، جن میں بین الاقوامی معاہدوں سے یکطرفہ دستبرداری اور ایک نیٹو اتحادی کی زمین کو حاصل کرنے کی دھمکی بھی شامل رہی۔
یورپی رہنماؤں نے زور دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ براعظم یورپ دفاعی امور میں زیادہ خود مختاری اختیار کرے اور امریکہ پر انحصار کم کرنے کے عملی طریقوں پر غور کرے۔
اس اہم موضوع پر پینل میں ہونے والی بحث ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے۔